حدیث نمبر110

روایت ہے حضرت شقیق سے ۱؎ فرماتےہیں کہ حضرت حذیفہ نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنا رکوع اور سجدہ پورا نہیں کرتا تھا۲؎ جب اس نے اپنی نماز پوری کی تو اسے بلایا اور اس سےحضرت حذیفہ نے فرمایا کہ تو نے نماز نہیں پڑھی ۳؎ فرماتے ہیں مجھے خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی کہا کہ اگر تو مرا تو تو اس طریقہ کے خلاف مرے گا جس پر اﷲنے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۴؎

شرح

۱؎ آپ کا نام شقیق ابن سلمہ ہے،کنیت ابووائل،کوفی ہیں،مخضرمی ہیں،جلیل القدرصحابی ہیں،خلفائے راشدین سے احادیث لی ہیں، ۹۹ھ؁ میں وفات ہوئی۔(تہذیب و اکمال)

۲؎ یعنی اطمینان سے ادا نہیں کرتا تھا،اطمینان شوافع کے ہاں فرض ہے اوراحناف کے ہاں واجب۔

۳؎ کامل نہیں پڑھی(حنفی)صحیح نہیں پڑھی(شافعی)۔

۴؎ یعنی اگر تو ناقص نماز پڑھنے کا عادی رہا تو سنت انبیاء کا مخالف ہوکر مرے گا یا اگر تو اس عیب کو اچھا جانتا رہا تو تیرا خاتمہ کفر پر ہوگا۔ فطرت دین اسلام کو بھی کہتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائشی عادت کریمہ کوبھی اور سنت انبیاءکوبھی۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ جو ترک سنت ہدیٰ کا عادی ہو اس کا خاتمہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے اور جو کسی سنت کو حقیر جانے وہ کافر ہے۔اس کا ماخذ قرآنی آیات بھی ہیں اور اس جیسی بہت سی احادیث ہیں۔