دشمنی کا اکاؤنٹ ۔۔۔

تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

سکندر کو شدید غصہ آرہاتھا ۔۔۔دو چاردفعہ اس نے ہوا میں مکے بھی لہرائے ۔۔۔

میرا بس چلتا تو اس سالم کو تو میں ٹھیک کر دیتا ،مکے مار مار کر دانت توڑ دیتا سکندر نے غصے کی وجہ سے اپنے دانت بھینچ لیے ۔۔۔

کیا ہو گیا سکندر ؟ کسی سے لڑ کر آئے ہو ؟مما نے کچھ خفگی سے دیکھا ۔

میں کب لڑتا ہوں یہ تو سالم ہے جو بلا وجہ مجھ سے آ کر لڑنے لگا ۔۔۔

بلا وجہ تو کوئی کسی سے نہیں لڑتا آپ نے بھی یقینا ً کچھ نہ کچھ تو ضرور کیا ہو گا ؟ مما نے تیکھی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

میں نے تو کچھ نہیں کیا تھا ۔۔۔سکندر نے سر جھکاتے ہوئے کہا ۔

اچھا خیر ! ایک اچھی خبر سُنو گے ؟ مما نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔

اچھی خبر کیاہے ؟ سکندر کا موڈ بدستور آف ہی تھا ۔۔۔

اچھی خبر یہ ہے کہ کل ہم پکنک منانے جا رہے ہیں ۔۔۔مما نے خوشی کی خبر دیتے ہوئے کہا ۔

کہاں پر ؟ سکندر نے پوچھا

ساحل سمندر پر

ارے واہ ! زبردست ! مزہ آجائے گا ۔ سکندر کچھ دیر پہلے والی باتوں کوبھول چکا تھا ۔

سکندر اور باقی بچوں نے رات سے ہی تیاری شرو ع کر دی ساحل سمندر پر نہانے کا تو لطف ہی کچھ اور ہے ۔ مزہ آجائے گا۔

سکندر سالم سے ہونے والی لڑائی مکمل بھول چکا تھا آدھی رات تک تو بچوں کو اس خوشی کی وجہ سے نیند ہی نہیں آئی کہ صبح انہیں پکنک پر جانا ہے ۔

بچے بڑے سب ہی صبح سویرے فجر میں ہی جاگ گئے ۔۔۔ مردوں نے با جماعت نماز ادا کی اور گھر آکر ناشتہ کیا ۔

ساڑھے سات بجے کوسٹر دروازے پر آگئی اور بچے بڑے سب اس میں سوار ہو کر ساحل ِ سمندر کے لیے روانہ ہو گئے ۔

کچھ دیر سمندر میں نہانے کے بعد جب سکندر ساحل ہر کھڑا سمندر کو دیکھ رہا تھا کہ اس کی مما اس کے قریب آ گئیں ۔

ہاں بھئی کیا دیکھ رہا ہے میرا بیٹا ! مما نے پوچھا ۔

مما !یہ سمندر کتنا بڑا ہے ۔۔۔اس کی سطح دیکھیے ایسا لگتا ہے بہت دور تک بہت دور تک بلکہ شاید آسمان تک پانی ہی پانی ہے ۔سکندر نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلاتے ہوئے کہا ۔

ہاں لگتا تو ایسا ہی ہے جیسے آسمان اور پانی کے کنارے آپس میں مل رہے ہوں ۔۔۔مما نے سنجیدگی سے کہا توسکندر ہنس پڑا ۔۔۔۔

سکندر بیٹا ! ایک بات تو بتاؤ ں؟

سکندر : جی مما ۔

مما : دانا کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

سکندر:مما یہ دانا کا مطلب کیا ہو تا ہے؟ سکندر نے درمیان میں ہی بات کاٹتے ہوئے پوچھا ۔

مما : دانا کا مطلب ہے بہت سمجھدار ، عقلمند شخص

سکندر:ٹھیک ہے

مما :ہاں تو میں کہہ رہی تھی دانا کہتے ہیں “سمجھدار شخص وہ ہے جو اپنے دشمن کم رکھے “

سکندر: لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے یہاں تو ہر شخص دشمنی پر آ مادہ ہے ایک دوسرے سے حسد میں مبتلا ہیں ۔

مما :اس کا حل بھی آپ کو قرآن شریف سے ملے گا ۔

سکندر :مما 6666 آیات میں سے کون سی آیت ہے ہمیں کیسے معلوم ہو ؟

مما :یہ سمندر دیکھ رہے ہو۔ مما نے سمندر کی جانب اشارہ کرکے کہا ۔

سکندر: جی مما !

مما :کتنا بڑا ہے ؟

سکندر:بہت بڑا ہے کہتے ہیں ایک حصہ خشکی اور تین حصے پانی ہے ۔

مما :اس سمندر میں غوطہ خور جاتے ہیں اور بہت سے موتی نکال کر لاتے ہیں؟

سکندر:بالکل مما ! پھر ان موتیوں کو زیورات میں بھی لگایا جاتا ہے ۔

مما :یہ زیور خوبصورت لگتے ہیں ؟۔۔۔اس کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے ؟

سکندر:جی بالکل مما ! خوبصورت بھی لگتے ہیں اور موتیوں کی وجہ سے قیمت بھی بہت زیادہ ہو جاتی ہے ۔

مما : بیٹا ! بالکل ایسے ہی قرآن علم کا سمندر ہے اس علم کے سمندر سے موتی نکالتے رہیے آپ روز ترجمے کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہیے موتی ملتے رہیں گے اور آپ کی شخصیت خوبصورت اورقیمتی ہوتی چلی جائے گی ۔

سکندر:جی ان شاء اللہ مما ! آپ نے مثال بہت اچھی دی ۔مما آپ کا شکریہ

مما :شکریہ کس بات کا

سکندر:اتنی اچھی اچھی باتیں بتانے کا

مما : بھئی مما کی تو یہ ذمہ داری ہو تی ہے نا !!!

سکندر : لیکن شکریہ تو بنتا ہے نا !

مما : ہاں شکریہ تو بنتا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا :

لم یشکر الناس لم یشکر اللہ

جس نے لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے اللہ عز وجل کا شکر ادا نہیں کیا۔

سنن الترمذی ، کتاب البرّ والصلۃ، باب ما جاء في الشکر… إلخ، الحدیث: ۱۹۶۲، ج۳، ص۳۸۴۔

شام تک بچوں نے خوب انجوائے کیا سمندر میں خوب نہائے شام تک سب ہی تھک چکے تھے پکنک پوائینٹ سے نکلے تو راستے میں ٹریفک جام خیر گھر پہنچے تو عشاء کی اذان ہو رہی تھی تمام بچے تو عشاء کی نماز ادا کرکے فورا ً ہی سو گئے ۔

دوسرے دن سکندر فجر کی نماز میں جاگا اور نما زکی ادائیگی کے بعد حسبِ معمول قرآن مجید اٹھانے لگا تو اس کے ذہن میں مما کی وہ بات گونج رہی تھی ۔” دانا کہتے ہیں کہ سمجھدار شخص وہ ہے جو اپنے دشمن کم رکھے ۔اور اس کا حل بھی قرآن شریف میں ملے گا ” سکندر نے قرآن مجید کو آ نکھوں سے لگایا اور دل ہی دل میں دعا کی اے اللہ مجھے اس کا حل مل جائے ۔

مما کی ایک اور بات فلیش بیک ہو ئی ” مما : بیٹا ! بالکل ایسے ہی قرآن علم کا سمندر ہے اس علم کے سمندر سے موتی نکالتے رہیے آپ روز ترجمے کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہیے موتی ملتے رہیں گے اور آپ کی شخصیت خوبصورت اورقیمتی ہوتی چلی جائے گی “

سکندر نے قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی ۔ ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی اسے تلاوت کرتے ہوئے جب وہ حم سجدہ کی ایک آیت پر رک گیا ۔

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) حم سجدہ

ترجمۂکنزالایمان: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔

سکندر کی مما نماز پڑھنے کے بعد سکندر ہی کے قریب بیٹھ کر سکندر کی تلاوت سن رہی تھیں سکندر اس آیت پر رکا اور اس نے دوبارہ تلاوت کی اور ترجمہ پڑھا تو اس کی مما نے کہا ۔

بھئی آپ کو بہت جلدی سے یہ والے موتی بھی مل گئے ۔ماشاء للہ ،سکندر میاں اب یہ بتائیے یہ کام کر کون سکتا ہے ؟

سکندر: کون سا کام ؟مما !

مما : برائی کو بھلائی سے ٹالنے کا ۔

سکندر:یہ بھی قرآن سے پوچھ لیتے ہیں ۔

مما :تو پھر پوچھیے ۔

سکندر : تلاوت شروع کرتا ہے آگے ۔

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)

اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا

مما :بھئی ماشاء اللہ یہ تو بہت جلدی جواب مل گیا یعنی یہ برائی کو بھلائی سے ٹالنا ایک دولت ہے اور یہ صابروں اور نصیب والوں کو ملتی ہے ۔

دوسرے دن سکندر نے سالم کو چاکلیٹ دی تو سالم اور اس کے دوستوں کو بڑی حیرت ہوئی کل دو دن پہلے ہی تو سالم اور سکندر کا جھگڑا ہوا تھا ۔۔۔ سالم کے دوستوں میں سے ایک نے کہا : لگتا ہے ڈر گیا ۔

سکندر یہ سُن کر مسکرا دیا اس کے کانوں میں اللہ کی کتاب کے الفاظ گونج رہے تھے ۔

وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ(۳۵)

اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا

سکندر : لے لو آج سے ہم دوست ہیں ۔۔۔اگر ہم مسلمان بھی آپس میں لڑیں گے تو دشمنِ اسلام کا مقابلہ کیسے کریں گے ؟

سکندر کا یہ جملہ سن کر باقی لوگوں کی آنکھیں بھی شرمندگی سے جھک گئیں ۔

سالم نے چاکلیٹ لے لی اور وہ اچھے دوست بن گئے پیارے بچو! اللہ کی کتاب کا یہ پیغام آپ بھی یاد کر لیجیے اور اس پر عمل کی کوشش کیجیے تاکہ آپ کی شخصیت بھی خوبصورت اور قیمتی ہوتی چلی جائے ۔

وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) حم سجدہ

اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترم قارائین ہمارے پیج پر کمنٹس کی صورت میں اپنے قیمتی تاثرات دے کرہماری ٹیم کی حوصلہ افزائی کیجیے ۔