حدیث نمبر 106

روایت ہےحضرت عون ابن عبداﷲ سے ۱؎ وہ حضرت ابن مسعود سے راوی فرماتےہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم تین بارکہہ لے تو اس کا رکوع پورا ہوگیا ہے۲؎ اور یہ ادنیٰ درجہ ہے اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں سبحان ربی الاعلی تین بار کہہ لے تو اس کا سجدہ پورا ہوگیا ہے اور یہ ادنی درجہ ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،)ترمذی کہتے ہیں کہ اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ عون نے ابن مسعود سے ملاقات نہیں کی ۴؎

شرح

۱؎ آپ کا نام عون ابن عبداﷲ ابن عتبہ ابن مسعود ہے،سیدنا ابن مسعود کے بھتیجے کے بیٹے ہیں،تابعی ہیں،حزلی ہیں،بڑے فقیہ اور زاہد تھے،کوفہ میں قیام رہا،امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی آپ سے ملاقات ہے،کبھی انہیں عون ابن عتبہ بھی کہہ دیاجاتا ہے دادا کی نسبت سے۔عربی میں آدمی کی نسبت باپ،چچا،دادا،پر دادا کی طرف بھی کردیتے ہیں۔

۲؎ یعنی مکمل ہوگیا۔خیال رہے کہ رکوع کے لیے جھکنا نماز میں فرض ہے اور وہاں کچھ ٹھہرنا یعنی اطمینان سے رکوع کرنا واجب اور اس میں تسبیح پڑھنا سنت ہے،لہذا مکمل رکوع وہ ہے جس میں فرض،واجب،سنت سب ادا ہوں۔

۳؎ یعنی کمال کا ادنی درجہ ہے۔معلوم ہوا کہ رکوع سجدے کی تسبیحیں تین سےکم نہ کہے،زیادہ میں اختیارہے پانچ بار یا سات بارکہہ سکتاہے۔نوافل خصوصًاتہجدمیں توجتنا رکوع سجدہ درازکرے اتنا بہتر ہے۔

۴؎ یعنی یہ حدیث منقطع ہے لیکن کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اعمال میں حدیث منقطع قبول ہے۔