أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ مَا فِى الۡاَرۡضِ لَافۡتَدَتۡ بِهٖ‌ؕ وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ‌ۚ وَقُضِىَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ‌ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہر ظالم کی ملکیت میں روئے زمین کی تمام چیزیں ہوتیں تو وہ (عذاب سے بچنے کے لیے) ان سب کو ضرور دے ڈالتا، اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی پشیمانی کو چھپائیں گے۔ اور ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ہر ظالم کی ملکیت میں روئے زمین کی تمام چیزیں ہوتیں تو وہ (عذاب سے بچنے کے لیے) ان سب کو ضرور دے ڈالتا، اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی پشیمانی کو چھپائیں گے۔ اور ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا (یونس : ٥٤ )

ظالموں سے فدیہ نہ قبول کیا جانا

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قیامت کے دن کی تین صفات بیان فرمائی ہیں :

(١) ظالم کے اگر بس میں ہوتا تو وہ دنیا کی پوری دولت دے کر بھی اپنے آپ کو عذاب سے چھڑا لیتا۔

(٢) ظالم عذاب کو دیکھ کر اپنی پشیمانی چھپائیں گے۔

(٣) ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کیا جائے گا۔

ظالم تمام دنیا کی دولت دے کر بھی اپنے آپ کو عذاب سے نہیں چھڑا سکے گا،

اس کی وجہ اولاً تو یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن تنہا آئے گا اور کسی چیز کا مالک نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وکلھم اتیہ یوم القیمۃ فردًا۔ (مریم : ٩٥) اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اکیلا حاضر ہوگا۔ اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ قیامت کے دن ان سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا۔ ولا یؤ خذ منھا عدل ’‘ و لا ھم ینصرون (البقرۃ : ٤٨) اور نہ کسی نفس سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

ظالموں کے پشیمانی چھپانے کی توجیہ

قیامت کے دن کی دوسری صفت یہ بیان کی ہے : اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو اپنی پشیمانی اور پچھتاوے کو چھپائیں گے۔ اپنی پشیمانی کو چھپانے کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ دنیا میں اس عذاب کا انکار کرتے رہے تھے اور جب ان پر اچانک سخت عذاب آجائے گا تو وہ حیران اور ششدر رہ جائیں گے، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اپنے متبعین سے حیاء آئے گی اور ان کو ان کی لعنت ملامت کا خوف ہوگا، اس وجہ سے وہ ان کے سامنے اپنی پشیمانی کا اظہار کریں گے، تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ بہت اخلاص کے ساتھ ندامت کا اظہار کریں گے اور جو شخص اخلاص کے ساتھ کوئی کام کرتا ہے وہ اس کو مخفی رکھتا ہے، اس آیت میں ان کی مذمت کی گئی ہے کہ اخلاص کے ساتھ توبہ کرنے کی جگہ دنیا تھی، اب یہ اخلاص بےمحل ہے۔ 

ظالموں کے درمیان عدل سے فیصلہ کی توجیہ

قیامت کے دن تیسری صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس دن ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ مومنوں اور کافروں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا، دوسرا قول یہ ہے کہ صنادید کفار اور ان کے متبعین کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ کفار اور ان کے عذاب کے درمیان عدل سے معاملہ کیا جائے گا۔ ہرچند کہ تمام کفار دوزخ کے عذاب میں مشترک ہوں گے لیکن عذاب کی کیفیات میں ان کے درمیان فرق ہوگا، کیونکہ دنیا میں بعض کافروں نے بعض کافروں پر ظلم کیا ہوگا، اور بعض کافروں نے بعض کافروں سے خیانت کی ہوگی، اس لیے بعض کافر ظالم اور بعض مظلوم ہوں گے اور عدل اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ مظلوم کا عذاب ظالم سے کم ہو اور ظالم کا عذاب مظلوم کے عذاب سے زیادہ ہو، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کیا جائے اور ان پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 54