أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوۡلٌ‌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُهُمۡ قُضِىَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہر ایک امت کے لیے رسول ہے تو جب ان کا رسول آجائے گا تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر (بالکل) ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہر ایک امت کے لیے رسول ہے تو جب ان کا رسول آجائے گا تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر (بالکل) ظلم نہیں کیا جائے گا اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (پورا ہوگا ؟ ) اگر تم سچے ہو (یونس : ٤٨۔ ٤٧ )

ہر امت کے پاس اس کے رسول آنے کے دو محمل :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مشرکین مکہ کی مخالفت کا حال بیان فرمایا تھا، اب فرما رہا ہے کہ ہر نبی کے ساتھ اس کی قوم کا ایسا ہی معاملہ تھا۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ ہر ایک امت کے لیے ایک رسول ہے تو جب ان کا رسول آجائے گا تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا، اس کے دو محمل ہیں :

(١) تو جب ان کا رسول دنیا میں آجائے گا

(٢) تو جب ان کا رسول ان کے پاس میدان حشر میں آجائے گا۔

معنی اول مراد ہو تو اس کی توجیہ یہ ہے کہ جب دنیا میں ہر قوم کے پاس ایک رسول بھیجا جائے گا تو وہ تبلیغ کر کے اور دین اسلام کے حق ہونے پر دلائل قائم کر کے ہر قسم کے شک اور شبہ کا ازالہ کر دے گا پھر کفار کے پاس دین حق کی مخالفت کرنے اور اس کی تکذیب کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہے گا اور وہ قیامت کے دن یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہمارے پاس تو اللہ کی توحید اور اس کی عبادت کی دعوت دینے کے لیے کوئی آیا ہی نہیں تھا اور نہ کوئی عذاب سے ڈرانے والا آیا تھا، اس معنی کی تائید میں حسب ذیل آیات ہیں : و ما کنا معذبین حتی نبعث رسولًا (بنو اسرائیل : ١٥) اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں۔ رسلًا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ ’‘ بعد الرسل۔ (النساء : ١٦٥) (ہم نے) بشارت دینے والے اور ڈرانے والے رسول (بھیجے) تاکہ رسلوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے سامنے عذر پیش کرنے کا موقع نہ رہے ولوان اھلکنھم بعذابٍ من قبلہٖ لقالوا ربنا لولآارسلت الینا رسپولًا فنتبع ایتک من قبل ان نذل و نخزی (طہ : ١٣٤) اور اگر ہم رسول کو بھیجنے سے پہلے انہیں کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ ضرور کہتے کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا تاکہ ہم (عذاب میں) ذلیل و خوار ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرلیتے۔ اور معنی ثانی کی توجیہ یہ ہے کہ جب میدان حشر میں اللہ تعالیٰ حساب کے وقت رسولوں کو اور ان کی امتوں کو جمع فرمائے گا تاکہ رسول ان امتوں پر گواہی دیں اور امتوں کو یہ اعتراف کرنا پڑے کہ بیشک ان کے پاس رسول آئے تھے، اور یہ ان کی بد اعمالیوں پر من جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ہے جیسا کہ ان کے اعضاء خود ان کی بد اعمالیوں پر گواہی دیں گے اور میزان پر اللہ تعالیٰ خود ان کے اعمال پر گواہ ہے، ان ہی دلائل میں سے ایک دلیل ہے کہ قیامت کے دن ہر رسول اپنی امت پر گواہ ہوگا اور اس معنی کی تائید میں حسب ذیل آیات ہیں : فکیف اذا جئنا من کل امۃٍ بشھیدٍ و جئنا بک علی ھٓؤلآء شھیدًا (النساء : ٤١) اس وقت کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے رسول) ہم ان تمام پر آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے۔ وکذلک جعلنکم امۃً وسطًا لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدًا۔ (البقرۃ : ١٤٣) اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جائو اور یہ رسول تم پر گواہ ہوں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو ؟ جب بھی رسول منکرین نبوت کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے اور ایک عرصہ تک عذاب نازل نہ ہوتا تو وہ کہتے کہ نزول عذاب کا یہ وعدہ کب پورا ہوگا۔ ان کا منشاء اس سے آخرت کے عذاب کے متعلق پوچھنا نہیں تھا کیونکہ آخرت پر تو ان کو یقین ہی نہ تھا، وہ نبی (علیہ السلام) کی تکذیب اور اپ کا مذاق اڑانے کے لیے یہ کہتے تھے کہ آپ نے جو کہا ہے کہ اللہ کے دشمنوں پر عذاب نازل ہوگا اور اللہ کے دوستوں کی مدد کی جائے گی آخر آپ کا وعدہ کب پورا ہوگا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے درج ذیل آیات میں دیا ہے :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 47