أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَكَ اَحَقٌّ هُوَ‌ ؕ قُلۡ اِىۡ وَرَبِّىۡۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ؔ‌ؕ وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ آپ سے معلوم کرتے ہیں کیا واقعی وہ عذاب برحق ہے ؟ آپ کہیے کہ ہاں ! میرے رب کی قسم وہ عذاب برحق ہے اور تم (میرے رب کو) عاجز کرنے والے نہیں ہو ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ آپ سے معلوم کرتے ہیں کیا واقعی وہ عذاب برحق ہے ؟ آپ کہئے ہاں ! میرے رب کی قسم وہ عذاب برحق ہے اور تم (میرے رب کو) عاجز کرنے والے نہیں ہو (یونس : ٥٣ )

عذاب کی وعید کا برحق ہونا :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس قول کو نقل فرمایا تھا : اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب (پورا ہوگا) اگر تم سچے ہو ؟(یونس : ٤٨) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا تھا جس کی تفصیل گزر چکی ہے، پھر انہوں نے دوبارہ سوال کیا جس کی اللہ تعالیٰ نے یہاں حکایت فرمائی ہے، اس سوال کا جواب بھی ان آیات کے سابقہ مضمون میں گزر چکا ہے جن میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر عقلی دلائل بیان کیے گئے تھے اور قرآن مجید کے معجزہ ہونے پر براہین قائم کئے گئے تھے اور جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت ثابت ہوگئی تو ہر جس چیز کے وقع کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی اس کا قطعی اور یقینی ہونا ثابت ہوگیا۔ اس کے بعد فرمایا : اور تم عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی جس نے تم کو عذاب سے ڈرایا ہے تم اس کو عذاب نازل کرنے سے عاجز کرنے والے نہیں ہو اور اس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کام کرنا چاہے تو نہ کوئی اس کو روک سکتا ہے نہ اس میں مزاحمت کرسکتا ہے اور نہ کوئی اس کے اذن اور اس کی رضا کے بغیر کسی کی شفاعت کرسکتا ہے اور نہ کوئی کسی کافر اور مشرک کو دائمی عذاب سے بچا سکتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 53