فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّؕ-قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّاؕ-لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ(۸۱)

پیچھے رہ جانے والے اس پر خوش ہوئے کہ وہ رسول کے پیچھے بیٹھ رہے (ف۱۸۷) اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں لڑیں اور بولے اس گرمی میں نہ نکلو تم فرماؤ جہنم کی آ گ سب سے سخت گرم ہے کسی طرح انہیں سمجھ ہوتی(ف۱۸۸)

(ف187)

اور غزوۂ تبوک میں نہ گئے ۔

(ف188)

تو تھوڑی دیر کی گرمی برداشت کرتے اور ہمیشہ کی آ گ میں جلنے سے اپنے آپ کو بچاتے ۔

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًاۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۸۲)

تو انہیں چاہیے کہ تھوڑا ہنسیں اور بہت روئیں (ف۱۸۹) بدلہ اس کا جو کماتے تھے (ف۱۹۰)

(ف189)

یعنی دنیا میں خوش ہونا اور ہنسنا چاہے کتنی ہی دراز مدّت کے لئے ہو مگر وہ آخرت کے رونے کے مقابل تھوڑا ہے کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت دائم اور باقی ہے ۔

(ف190)

یعنی آخرت کا رونا دنیا میں ہنسنے اور خبیث عمل کرنے کا بدلہ ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم جانتے وہ جو میں جانتا ہوں تو تھوڑا ہنستے اور بہت روتے ۔

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآىٕفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّاؕ-اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ(۸۳)

پھر اے محبوب (ف۱۹۱) اگر اللہ تمہیں ان (ف۱۹۲) میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے جائے اور وہ (ف۱۹۳) تم سے جہاد کو نکلنے کی اجازت مانگیں تو تم فرمانا تم کبھی میرے ساتھ نہ چلو اور ہرگز میرے ساتھ کسی دشمن سے نہ لڑو تم نے پہلی دفعہ بیٹھ رہنا پسند کیا تو بیٹھ رہو پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ(ف۱۹۴)

(ف191)

غزوۂ تبوک کے بعد ۔

(ف192)

مُتخلِّفین ۔

(ف193)

اگر وہ منافق جو تبوک میں جانے سے بیٹھ رہا تھا ۔

(ف194)

عورتوں , بچوں , بیماروں اور اپاہجوں کے ۔

مسئلہ : اس سے ثابت ہوا کہ جس شخص سے مَکر و خداع ظاہر ہو ، اس سے انقطاع اور علیٰحدگی کرنا چاہیئے اور مَحض اسلام کے مدَّعی ہونے سے مصاحبت و موافقت جائز نہیں ہوتی اسی لئے اللہ تعالٰی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منافقین کے جہاد میں جانے کو منع فرما دیا ۔ آج کل جو لوگ کہتے ہیں کہ ہر کلمہ گو کو ملا لو اور اس کے ساتھ اتفاق و اتحاد کرو ۔ یہ اس حکم قرآنی کے بالکل خلاف ہے ۔

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ(۸۴)

اور ان میں سے کسی کی میّت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بےشک وہ اللہ و رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے(ف۱۹۵)

(ف195)

اس آیت میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منافقین کے جنازے کی نماز اور ان کے دفن میں شرکت کرنے سے منع فرمایا گیا ۔

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ کافِر کے جنازے کی نماز کسی حال میں جائز نہیں اور کافِر کی قبر پر دفن و زیارت کے لئے کھڑے ہونا بھی ممنوع ہے اور یہ جو فرمایا (اور فِسق ہی میں مرگئے) یہاں فِسق سے کُفر مراد ہے ۔ قرآنِ کریم میں اور جگہ بھی فِسق بمعنی کُفر وارِد ہوا ہے جیسے کہ آیت ” اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِناً کَمَنْ کَانَ فَاسِقاً ” میں ۔

مسئلہ : فاسق کے جنازے کی نماز جائز ہے اس پر صحابہ اور تابعین کا اجماع ہے اور اس پر عُلَماءِ صالحین کا عمل اور یہی اہلِ سنّت و جما عت کا مذہب ہے ۔

مسئلہ : اس آیت سے مسلمانوں کے جنازے کی نماز کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے اور اس کا فرضِ کفایہ ہونا حدیثِ مشہور سے ثابت ہے ۔

مسئلہ : جس شخص کے مؤمن یا کافِر ہونے میں شبہ ہو اس کے جنازے کی نماز نہ پڑھی جائے ۔

مسئلہ : جب کوئی کافِر مر جائے اور اس کا ولی مسلمان ہو تو اس کو چاہیئے کہ بطریقِ مسنون غسل نہ دے بلکہ نجاست کی طرح اس پر پانی بہا دے اور نہ کفنِ مسنون دے بلکہ اتنے کپڑے میں لپیٹ دے جس سے سِتر چھپ جائے اور نہ سنّت طریقہ پر دفن کرے اور نہ بطریقِ سنّت قبر بنائے صرف گڑھا کھود کر دبادے ۔

شانِ نُزول : عبداللہ بن اُبَی بن سلول منافقوں کا سردار تھا جب وہ مرگیا تو اس کے بیٹے عبداللہ نے جو مسلمان ، صالح ، مخلِص صحابی اور کثیر العبادت تھے ۔ انہوں نے یہ خواہش کی کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے باپ عبداللہ بن اُبَی بن سلول کو کفن کے لئے اپنا قمیص مبارک عنایت فرمادیں اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے اس کے خلاف تھی لیکن چونکہ اس وقت تک ممانعت نہیں ہوئی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم تھا کہ حضور کا یہ عمل ایک ہزار آدمیوں کے ایمان لانے کا باعث ہوگا اس لئے حضور نے اپنی قمیص بھی عنایت فرمائی اور جنازہ کی شرکت بھی کی ۔ قمیص دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت عباس جو بدر میں اسیر ہو کر آئے تھے تو عبداللہ بن اُبَی نے اپنا کُرتہ انہیں پہنایا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا بدلہ کردینا بھی منظور تھا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور اس کے بعد پھر کبھی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی منافق کے جنازہ کی شرکت نہ فرمائی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ مصلحت بھی پوری ہوئی چنانچہ جب کُفّار نے دیکھا کہ ایسا شدید العداوت شخص جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کُرتے سے برکت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے عقیدے میں بھی آپ اللہ کے حبیب اور اس کے سچّے رسول ہیں ۔ یہ سوچ کر ہزار کافِر مسلمان ہوگئے ۔

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ(۸۵)

اور ان کے مال یا اولاد پر تعجب نہ کرنا اللہ یہی چاہتا ہے کہ اسے دنیا میں ان پر وبال کرے اور کفر ہی پر ان کا دم نکل جائے

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ(۸۶)

اور جب کوئی سورت اترے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ہمراہ جہاد کرو تو ان کے مقدور(طاقت رکھنے)والے تم سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں چھوڑ دیجئے کہ بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہولیں

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِـعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ(۸۷)

انہیں پسند آیا کہ پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ ہوجائیں اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی (ف۱۹۶) تو وہ کچھ نہیں سمجھتے (ف۱۹۷)

(ف196)

ان کے کُفر و نِفاق اختیار کرنے کے باعث ۔

(ف197)

کہ جہاد میں کیا فوز و سعادت اور بیٹھ رہنے میں کیسی ہلاکت و شقاوت ہے ۔

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ٘-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۸۸)

لیکن رسول اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے انہوں نے اپنے مالوں جانوں سے جہاد کیا اور اُنہیں کے لیےبھلائیاں ہیں (ف۱۹۸) اور یہی مراد کو پہونچے

(ف198)

دونوں جہان کی ۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠(۸۹)

اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں بہشتیں جن کے نیچے نہریں رواں ہمیشہ ان میں رہیں گے یہی بڑی مراد ملنی ہے