أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَمَا يَتَّبِعُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ‌ ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنۡ هُمۡ اِلَّا يَخۡرُصُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سنو ! جو لوگ آسمانوں میں ہیں اور جو زمینوں میں ہیں سب اللہ ہی کے مملوک ہیں، یہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر (خودساختہ) شریکوں کو پکارتے ہیں یہ کس کی پیروی کر رہے ہیں ؟ یہ صرف اپنے گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور یہ صرف غلط اندازے لگا رہے ہیں

شرک کے ابطال پر دلائل :

اس سے پہلے فرمایا تھا : الا ان للہ ما فی السموت والارض۔ (یونس : ٥٥) یعنی آسمانوں اور زمینوں کی تمام غیرذوی العقول چیزیں اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں اور اس آیت میں فرمایا : الا ان للہ من فی السموت والارض۔ (یونس : ٦٦) یعنی آسمانوں اور زمینوں کی تمام ذوی العقول چیزیں بھی اللہ کی ملکیت میں ہیں اور ذوی العقول سے مراد جن اور ملائکہ ہیں، ان دونوں آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ عقل والے ہوں یا بےعقل، تمام جمادات، نباتات، حیوانات، جن، انسان اور فرشتے سب اللہ کے مملوک ہیں۔ اس میں مشرکین کا رد ہے جو بتوں کو پوجتے تھے، کیونکہ تمام پتھر اس کے مملوک ہیں، سو بت بھی اس کے مملوک ہیں اور جو مملوک ہو وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے، اسی طرح اس میں یہود اور نصاریٰ کا بھی رد ہے جو حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ کو معبود مانتے تھے کیونکہ حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ بھی اللہ کے مملوک ہیں اور جو مملوک ہیں وہ معبود کیسے ہوسکتا ہے، اس پر تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا : یہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر (خودساختہ) شریکوں کی پیروی کر رہے ہیں یہ کس کی پیروی کر رہے ہیں ؟ یعنی یہ جن شریکوں کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو سب اللہ کے مملوک ہیں، وہ عبادت کے کیسے مستحق ہوگئے ! یہ صرف اپنے گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور ان کا اندازہ غلط ہے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو، اور دکھانے والا دن بنایا الخ، اس سے پہلے فرمایا تھا : ان العزۃ للہ جمیعا۔ (یو نس : ٦٥) یعنی ہر قسم کا غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے، اس آیت میں اس پر دلیل قائم فرمائی ہے کہ اس نے رات اس لیے بنائی ہے کہ تمہاری تھکاوٹ دور ہو اور دن اس لیے بنایا ہے کہ اس کی روشنی میں اپنی ضروریات زندگی کو فراہم کرسکو۔

القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 66