حدیث نمبر112

روایت ہے حضرت نعمان ابن مرہ سے ۱؎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم شرابی زانی اور چور کےمتعلق کیاسمجھتے ہو اور یہ سوال ان کی سزائیں اترنے سے پہلے تھا۲؎ لوگ بولے اﷲ ورسول جانیں فرمایا یہ گناہ کبیرہ ہیں ان میں سخت عذاب ہے اور بدترین چوری اس کی ہے جو اپنی نماز میں سے چرائے لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ نماز میں سے کیسے چرائے گا فرمایا کہ اس کا رکوع اورسجدہ پورا نہ کرے۳؎(مالک و احمد اور دارمی نے اس کی مثل)

شرح

۱؎ آپ انصاری ہیں،رومی مدینی ہیں۔حق یہ ہے کہ تابعی ہیں جنہوں نے انہیں صحابی کہاغلطی کی لہذا یہ حدیث مرسل ہےکیونکہ صحابی کا ذکر چھوٹ گیا۔

۲؎ خیال رہے کہ چوری اور زنا ہمیشہ ہی سے حرام تھے مگر شراب شروع اسلام میں حلال تھی پھرعرصہ کے بعد آہستگی سے حرام ہوئی،حرمت کے کچھ عرصہ بعد اس پر اسی(۸۰)کوڑے سزا مقرر ہوئی،یونہی زنا اور چوری کی سزائیں بعد میں آئیں،یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب شراب حرام ہوچکی تھی لیکن ابھی اس کی سزا مقرر نہ ہوئی تھی۔

۳؎ یہ صحابی کا انتہائی ادب ہے کہ معلوم چیز کا بھی جواب نہیں دیتے۔اس سےمعلوم ہواکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خدا کے ساتھ کرنا اور دونوں ہستیوں کے لیے ایک ہی صیغہ لاناجائزہے،رب فرماتاہے:”اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضْلِہٖ”لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ اﷲ و رسول بھلاکریں،اﷲ رسول عزت ایمان دولت دیں۔

۳؎ یعنی اطمینان سے اداکرے۔خیال رہے کہ نماز کے ہر رکن کو پوراکرنا چاہیے اورکسی رکن کو ناقص کرنے والا بدترین چور ہے مگر چونکہ رکوع سجدہ اہم ارکان تھے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا۔