حدیث نمبر111

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ لوگوں میں بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرے لوگ بولے یا رسول اﷲ اپنی نماز میں چوری کیسےکرے گا فرمایا کہ رکوع اور سجدہ پورا نہ کرے ۱؎(احمد)

شرح

۱؎ واہ سبحان اﷲ! کیا نفیس تمثیل ہے یعنی مال کے چور سے نماز کا چور بدتر ہے کیونکہ مال کا چور اگر سزا پاتا ہے تو کچھ نفع بھی اٹھالیتا ہے مگر نماز کا چور سزا پوری پائے گا نفع کچھ حاصل نہیں کرتا،نیز مال کا چور بندے کا حق مارتا ہے نماز کا چور اﷲ کا حق،نیز مال کا چور یہاں سزا پاکر عذاب آخرت سے بچ جاتا ہے مگر نماز کے چور میں یہ بات نہیں،نیز بعض صورتوں میں مال کے چور کو مالک معاف کرسکتا ہے لیکن نماز کے چور کی معافی کی کوئی صورت نہیں۔خیال کرو کہ جب نماز ناقص پڑھنے والوں کا یہ حال ہے تو جو سرے سے پڑھتے ہی نہیں ان کا کیا حال ہے۔پھر جو کل یابعض نمازوں کے منکر ہوچکے جیسےبھنگی،پوستی فقیر اور چکڑالوی وغیرہم ان کا کیا پوچھنا۔