تین غیر ذمے دار کون ؟

تحریر. محمد اسمعیل بدایونی

رے ۔۔۔رے ۔۔۔ارے ! ابھی پونچھا لگایا ہے اور تم نے پیر بنا دئیے ۔

کیاکروں اس لڑکے کا سارا دن آوارہ گردی اور پھر گندے غلیظ پاؤں لے کر گھر میں آجاتا ہے ۔۔۔ امی نے اپنا ماتھا پیٹتے ہوئے فرخ کی کلاس لی ۔

ایک کو باہر گھومنے سے فرصت نہیں دوسرا سارا سارا دن گھر میں گزار دیتا ہے لیپ ٹاپ ، ٹی وی اور موبائل پر پورا دن گیم کھیلتارہتا ہے۔۔۔ امی نے بننے والے پاؤں کے نشانات مٹاتے ہوئے کہا ۔

فرخ ٹی وی کے سامنے بیٹھا میچ دیکھ رہا تھا ،واہ زبردست! کیا چوکا مارا ہے ۔۔۔فاخر نے کشن اٹھا کر زور سے پھینکا ۔

ارے بس کردو بھئی تم دونوں بھائیوں نے تو میرا جینا حرام کر دیا ہے ۔۔۔اتنی اودھم دھاڑ کسی اور گھر میں نہیں ہو تی ہو گی جتنی اس گھر میں ہوتی ہے۔

ٹنگ ٹان۔۔۔ٹنگ ٹان ۔۔۔۔

گھر کی بیل بج رہی ہے مگر مجال ہے جو ان دونوں بھائیوں کے کانوں پر جوں تک رینگے ۔۔۔امی نے جا کر دروازہ کھولا تو سامنے چھوٹے ماما موجود تھے ۔

السلام علیکم !بھئی آپا کس پر برس رہی ہیں؟ چھوٹے مامانے گھر میں داخل ہو تے ہوئے کہا ۔

وعلیکم السلام !ارے برسنا کس پر ہے یہ تمہارے دو نالا ئق بھانجوں نے میری زندگی اجیرن کر دی ہے ۔

کہاں ہیں دونوں ؟چھوٹے ماما نے پوچھا۔

السلام علیکم ! فرخ نے چھوٹے ماما کو سلام کیا ۔

وعلیکم السلام ! چھوٹے ماما نے جواب دیا ۔

چلو اتنی تمیز تو ہے کہ کسی آئے گئے کو سلام کر لیں ۔ لیکن فرخ کو سمجھ نہیں آیا کہ یہ امی نے شاباش دی یا ڈانٹا ہے ۔

ارے آپا ! بس کریں آپ تو پیچھے ہی پڑ گئیں بچوں کے ۔۔۔چھوٹے ماما نے بچوں کی طرف داری کرتے ہوئے کہا ۔

فاخر کہاں ہے ؟ چھوٹے ماما نے سرگوشی کرتے ہوئے فرخ سے پوچھا ۔

وہ میچ دیکھ رہاہے ۔۔۔فرخ نے اطلاع دیتے ہوئے کہا ۔

کچھ دیر میں میچ ختم ہو گیا اور فاخر کمرے سے باہر آیا تو ارسلان ماما کو دیکھ کر خوش ہو گیا کہنے لگا ماما ! آپ کب آئے ؟

کچھ ہی دیر ہو ئی ہے ۔۔۔ارسلان ماما نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

بھئ آپا ! تم دونوں سے بہت ناراض ہیں کیا مسئلہ ہے ؟ماما نے پوچھا ۔

دونوں خاموش تھے کہ امی آ گئیں بھئی ارسلان تم ہی انہیں سمجھاؤ، میں تو سمجھا سمجھا کر تھک چکی ہوں ان کی سمجھ میں نہیں آتی کوئی بات۔۔۔جب تک میں تمہارے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں ۔امی نے اٹھتے ہوئے کہا ۔

ہاں بھئی تو کیا حال ہیں بھانجو! کیوں ستایا جارہا ہے ہماری آپا کو ؟

ارے ماما! ایسا کچھ نہیں کرتے ہم ۔۔۔فرخ نے کہا ۔

اور تم ؟ ماما نے فاخر سے پوچھا ۔

میں ، میں تو سارا دن گھر ہی میں رہتا ہوں ۔فاخر نے صفائی پیش کی ۔

اور گیم کھیلتا رہتا ہوں ۔۔۔ٹی وی دیکھتا رہتا ہوں ۔۔۔مکمل جملہ بولو نا ! فاخر ! ماما نے کچھ ناراضگی سے کہا تو فاخر نے شرمندگی سے گردن جھکا لی ۔

بچو ! آپ مسلمان ہو اور آپ جانتے ہو کل قیامت کے دن ہم سے ہر چیز کے بارے میں سوال ہو گا ۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کیا فرماتا ہے ۔

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)

تو جو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گااور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا

دیکھو بچو ! ہمیں اپنے اعمال کا جواب دینا ہے ۔

آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ماما ! فاخر نے گردن جھکاتے ہوئے کہا ۔

ا ب تم بڑے ہو گئے ہو تمہیں ذمہ داری اٹھانا چاہیے ۔۔۔ماما نے کہا ۔

ہم ذمے داری کیسے اٹھا سکتے ہیں ہم تو کماتے ہی نہیں ہیں ؟ فرخ نے جھٹ وضاحت پیش کی ۔

ذمے داری سمجھتے بھی ہو؟ کسے کہتے ہیں ذمہ داری ؟ماما نے سوال کیا ۔

یہی کہ کماؤ اور اپنی اولاد کو کھلاؤ ماں باپ کی خدمت کرو ۔۔۔فاخر نے اپنی دونوں ہتھیلیاں گھماتے ہوئے کہا۔

نہیں یہ تو ذمے داری کی ایک شاخ کے بارے میں بتا دیا تم دونوں نے ۔۔۔دونوں کو یوں لگا جیسے ماما نے ان کی نالائقی کی سند ان کے ہاتھ میں تھما دی ہو۔

کوئی بھی مسئلہ ہو ذاتی مسائل سے لے کرخاندانی مسائل تک اور قومی مسائل سے لے کر عالمی مسائل تک کسی سے بھی کچھ گفتگو کیجیے وہ یہ کہے گا اس کا ذمہ دار فلاں ہے ۔۔۔۔

میرا بیٹا انتہائی لا پرواہ ہے ۔۔۔۔میری بہو بہت بری ۔۔۔۔میرا باس تو انتہائی واہیت آدمی ہے ۔۔۔۔آج کل مخلص آدمی ہی نہیں ہے کوئی ۔۔۔۔ارے یہ سب حکمران چور ہیں ۔۔۔۔یہ سب بدمعاش ہیں وغیرہ وغیرہ

یہ اور ان جیسے سب لوگ انتہائی غیر ذمہ دار لوگ ہیں۔۔۔۔ہم ذمے داری کا سارا ملبہ دوسروں پر ڈالتے ہیں سوائے اپنے ۔

کبھی ہم نے سوچا کیا ہم ذمہ دار ہیں ؟

نہیں نا ! کبھی نہیں سوچا ہمیشہ سارا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا اور شاید یہ بہت آسان بھی ہے ۔۔۔۔۔

پھر آپ بتائیے کیاہے ذمے داری ؟ فرخ نےسوال کیا۔

معلوم ہے ہمارا لمیہ کیا ہے ؟

فرخ اور فاخر ماما کو دیکھ رہے تھے

ہمارا لمیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ذ مہ داری قبول نہیں کرتے ۔

ماما ! پھر آپ بتائیے نا ذمے داری کیاہے ؟فاخر نے فرخ کا سوال دہرایا

تم یہ سوال کرو کہ ذمے داری کون نہیں اٹھاتا ؟

ٹھیک ہے ماما ! یوں سوال کر لیتے ہیں ذمہ داری کون نہیں اٹھاتا ؟

تین ۔ماما نے کہا

کیا تین ؟فرخ نے حیرت سے پوچھا ۔

ایک تو شیطان یہ ذمے داری نہیں اٹھاتا ۔ذمہ داری سے گریز کرنا یہ شیطان لعین کا کام ہے ۔ماما نے کہا ۔

وہ کیسے ماما ؟ فاخر نے پوچھا ۔

قرآن بیان کرتا ہے ۔

قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ اعراف 16

بولا تو قسم اس کی کہ تونے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستے پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا سورہ اعراف 16

شیطان چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے ۔۔۔میں ذمہ دار نہیں ہوں ۔۔۔۔۔تو نے مجھے گمراہ کیا ۔۔۔۔۔میں ذمہ دار نہیں ہوں ۔

یہ مزاجِ شیطان ہے ۔۔۔۔۔وہ ذمہ داری قبول نہیں کرتا ۔۔۔۔

یہ شیطان کون تھا ؟معلوم ہے ؟ اس کے بارے میں “سنہری کہانیاں ” میں تو پڑھا ہو گا ؟ماما نے پوچھا ۔

ہاں بالکل پڑھا تھا ،وہ فرشتوں کا سردار تھا ۔۔۔ فاخر نے کہا ۔

لیکن وہ ناکام ہو گیا ۔۔۔۔۔ماما نے کہا ۔

ہاں بالکل ۔ فرخ نے کہا ۔

معلوم ہے کیوں ؟ ماما نے پوچھا ۔

اس لیے کہ اس نے ذمہ داری سے گریز کیا ،اس نے ذمہ داری قبول نہیں کی ۔فاخر نے کہا ۔

شاباش ! ماما نے فاخر کو شاباشی دی ۔

یہ تو ایک ہو گیا دوسرا؟

دوسرا کافر ۔ماما نےکہا ۔

وہ کیسے ؟ فاخر نے پوچھا ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُۙ-قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ ﳓ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ یس 47

اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دئیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا تم تو نہیں مگر کُھلی گمراہی میں

کافروں سے کہا: وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُۙ

اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دئیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو

تو کافروں نے کیا کہا ؟

لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ

کیاہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلا دیتا

ذمہ داری سے گریز ۔۔۔۔۔

اگر تم امیر ہو تو ۔۔۔غریب تمہاری ذمہ داری ہیں ۔۔۔۔۔

اگر تم

طبیب ہو تویہ مریض تمہاری ذمہ داری ہیں ۔۔۔۔۔

استاد ہو تو علم کی پیاسوں کو سیراب کرنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔۔۔

والدین ہو تو فرائض کا بار تمہارے کاندھوں پر ۔۔۔۔۔۔تمہاری اولاد تمہاری ذمہ داری ہے

منصف ہو تو انصاف فراہم کرنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

پولیس ہو تو رعایا کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاجر ہو تو دیانت داری تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طالب علم ہو تو کامیابی سے محنت سے توجہ سے علم حاصل کرنا تمہاری ذمہ داری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذمہ داری سے گریز ممکن ہے کیا ؟

تم ذمہ داری سے گریز کرو گے معاشرہ شیطانی معاشرے میں تبدیل ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔اور شیطان چاہتا بھی یہی ہے ۔۔۔

تم غیر ذمہ دار بن جاؤ۔۔۔۔

تو فرخ ذمہ داری سے گریز کون کرتا ہے ؟ماما نے سوال کیا ۔

شیطان اور کافر ۔فرخ نے جواب دیا

یہ تو دو ہو گئے اور تیسرا غیر ذمے دار کون ہو تا ہے ؟فاخر نے پوچھا ۔

گدھا ۔ماما نے جواب دیا ۔

ہیں کیا مطلب ؟ فاخر نے حیرت سے پوچھا ۔

گدھا بھی کوئی ذمہ داری نہیں اٹھاتا سیٹھ موتی والا کسی گدھے سے کہے یہ آٹے کی بوری فرخ کے گھر دے آؤ تو کیا گدھا یہ بوری لے کر آئے گا ؟ ماما نے اس طرح کہا کہ فرخ اور فاخر کے ساتھ چائے لاتے ہوئے آپا بھی ہنس پڑیں ۔

نہیں ۔فرخ نے بے ساختہ کہا ۔

یعنی گدھا ہزار سال پہلے بھی گدھا تھا آج بھی گدھا ہے اور ہزار سال بعد بھی گدھا ہی رہےگا ۔۔۔۔ماما نے ہنستے ہوئے کہا ۔

تو بتاؤ کون سے سے تین ہیں وہ جو ذمے داری نہیں اٹھاتے ؟

شیطان ، کافر اور گدھا دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔

دیکھو بچو ! ہم زندگی میں ان لوگوں کو ہی پسند کرتے ہیں جو ذمے دار ہوتے ہیں غیر ذمے دار اور لاپرواہ لوگوں کو کوئی پسند نہیں کرتا ۔

راستے ہمارے پاس دونوں ہم چاہیں تو ذمہ دار بن جائیں اور چاہیں تو لا پرواہ ۔۔۔۔

قرآن بیان کرتا ہے

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ البلد ۱۰

اورہم نے اسے دو راستے دکھائے

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا ۸شمس

پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی

اِنَّا ہَدَیۡنٰہُ السَّبِیۡلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّ اِمَّا کَفُوۡرًا دھر 3

(اور) اسے راستہ بھی دکھایا (اب) خواہ وہ شکر گزار ہو خواہ نا شکرا

دونوں راستے بتا دئیے ۔۔۔۔۔نیکی کا بھی اور بدی کا بھی

فسق و فجور کا بھی زہد و تقوے کا بھی ۔۔۔اچھائی کا بھی اور برائی کا بھی ۔۔۔۔ذمہ داری کا بھی اور لاپرواہی کا بھی ۔۔۔۔۔محبت کا بھی نفرت کا بھی ۔۔۔۔عشق کا بھی عداوت کا بھی ۔۔۔۔

اب تم ذمہ دار ہو ۔۔۔۔ ماما نے بات ختم کی ۔

لیکن !!!!ایک بات تو آپ نے بتائی نہیں فاخر نے کہا ۔

کیا بات نہیں بتائی اتنا طویل لیکچر دیا اتنی تفصیل سے ساری بات سمجھائی اور کہہ رہے ہو ،ایک بات تو آپ نے بتائی نہیں ۔۔ماما مصنوعی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔

ارے واقعی نہیں بتا ئی ۔۔۔فاخر نے ضد کی ۔

اچھا وہ کیا ؟ ماما سنجیدہ ہو گئے ۔

وہ یہ کہ ہم ذمے دار کیسے بنیں ؟ فاخر نے سوال کیا

وہ بھی مجھے بتانا ہو گا ؟ ماما نے حیرت سے پوچھا ۔

ہاں ماما ! بالکل یہ تو فاخر بھائی نے بالکل صحیح سوال کیا یہ بھی تو بتائیے کہ ہم ذمے دار کیسے بنیں ؟

بھئی آج تو مجھے اجازت دو، کل ان شاء اللہ یہ ہی بتاؤں گا ذمے دار کیسے بنیں اگر یہ فارمولا سمجھ آگیا تو یاد رکھنا کبھی ڈپریشن بھی نہیں ہو گا زندگی میں ۔۔۔

ہیں ۔۔۔امی نے حیرت سے کہا ۔

ایسا کون سا فارمولا ہے تمہارے پاس ؟ امی نے پوچھا ۔

بس آپا یہ تو میں کل بتاؤں گا ابھی مجھے اجازت دیں ماما نے چائے کا کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے کہا ۔

تو بچو ! کل کہانی کا انتظار کیجیے گا ۔۔۔۔کل ہم آپ کو بتائیں گے ذمے دار بچے کیسے بنتے ہیں ۔

بچوں کے لیے روز ایک کہانی پڑھنے کے لیے  جوائن کیجیے