أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ مُّوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَاِ۫ ئِهٖ بِاٰيٰتِنَا فَاسۡتَكۡبَرُوۡا وَكَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا وہ مجرم لوگ تھے

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ :

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا وہ مجرم لوگ تھے پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے بیشک یہ تو ضرور کھلا ہوا جادو ہے موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے متعلق یہ کہتے ہو، جب وہ تمہارے پاس آیا کیا یہ جادو ہے ؟ جادو کرنے والے تو کبھی کامیاب نہیں ہوتے (یونس : ٧٧۔ ٧٥)

فرعون اور اس کے درباریوں کے قول میں تعارض کا جواب اور حضرت موسیٰ کے معجزہ کا جادو نہ ہونا :

ان آیتوں کا معنی بالکل واضح ہے، صرف یہ بات وضاحت طلب ہے کہ آیت : ٧٦ میں مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کو دیکھ کر فرعون اور اس کے درباریوں نے کہا کہ بیشک یہ تو ضرور کھلاہوا جادو ہے اور آیت : ٧٧ میں ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم نے حق (معجزہ) کو دیکھ کر یہ کہا کیا یہ جادو ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کیا یہ جادو ہے ؟ یہ فرعون اور اس کے درباریوں کا قول نہیں ہے بلکہ ان کا قول محذوف ہے اور وہ یہ ہے تم وہ کہتے ہو جو کہتے ہو اور پورا مفہوم یوں ہے موسیٰ نے کہا کیا تم حق کے متعلق وہ کہتے ہو جو کہتے ہو ؟ اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور انکار فرمایا : کیا یہ جادو ہے ؟ پھر اس معجزہ کو جادو قرار دینے کا بطلان فرمایا : یہ جادو کیسے ہوسکتا ہے، جادو کرنے والے تو کبھی کامیاب نہیں ہوتے اور اللہ نے مجھے کامیاب فرمایا ہے، جادو کرنے والے تو نظربندی کرتے اور ملمع کاری کرتے ہیں اور لاٹھی کو سانپ بنادینا اور یدبیضا نظربندی یا ملمع کاری نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 75