رضا جنت ناراضگی دوزخ

ہمارے معاشرہ میں نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی میں ہونے والیں زیادہ تر لڑائیاں کہیںضد اور حکم عدولی پر موقوف ہوتی ہیں،اور کہیںکام میں سستی اور حق کی ادائیگی میں غفلت کی وجہ سے ہوتی ہیں، معاشرہ کو پاکیزہ اور خوشگوار بنانے کے لئے فرمان نبی ﷺ پر عمل کرلیا جائے تو وہ مقصد ضرور حاصل ہو کر رہے گا اوربالیقین ہر گھر جنت کا باغ بن جائے گا،ہمارے نبی ﷺ نے ہمارے گھروں کو جنت کا باغ بنانے ہی کے لئے یہپیاری پیاری نصیحتیں فرمائیں

حصین بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انکی پھوپھی بارگاہ رسالت میں آئیں آپنے ان سے فرمایا اذات زوج انت ؟ قالت نعم قال فاین انت منہ؟قالت ماآلوہ الا ماعجزت عنہ قال فکیف انت لہ؟ فانہ جنتک و نارک،کیا آپ شوہر والی ہیں عرض کی ہاں،فرمایا کتنی خدمت کرتی ہو؟عرض کی جتنا بن پڑے،آپنے فرمایا تم اس کے لئے جیسی بھی ہو وہی تمہاری جنت اور دوزخ ہے

( ترغیب ض ۳ ص ۳۴)

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے نبی اکرم نور مجسم ﷺ فرمایا ایما امراٗۃ ماتت و زوجھا عنھا راض دخلت الجنۃ ،جو عورت اس حال میں مر جائے کہ اسکا شوہر اس سے راضی تھا جنت میں داخل ہوگی (بیہقی شعب الایمان ج۶ ص ۴۲۱)

ان دو حدیثوں سے یہ جانا گیا کہ شوہر کی خدمت ثواب کا کام ہے اللہ اور رسول کی رضا کا باعث ہے،اللہ تعالیٰ اس خدمت کے عوض میں اسے جنت عطا فرمائے گا،اور اس کی ناراضگی اچھی نہیں گناہ کا سبب ہے اور گناہ کا انجام کار دوزخ ہوتا ہے،جب شوہر کی رضا میں جنت کی بشارت ہے اور ناراضگی پر دوزخ کی وعید ہے تو ہمیں وہ راہ لینی چاہیئے جو جنت کی طرف جا رہی ہو،رضا کی راہ آخرت کی جنت کا باعث ہونے کے ساتھ اور اس سے دنیا کوبھی اپنے لئے جنت کا باغیچہ بنا دیتی ہے،اور ناراضگی آخرت کی دوذخ کا سبب ہے تاہم اس سے دنیا کی زندگی بھی برباد ہوتی ہے،ہمیں آخرت کی جنت چاہیئے تو بھی اطاعت کرنی ہے اور دنیا کی زندگی کی خوشگواری کی حاجت ہے پھر بھی اطاعت کرنی ہے،اور کون مسلمان ہے جس کی یہ تمنا نہ ہو کہ اسے آخرت کی جنت مل جائے اور کون شخص ایسا ہے جو دنیا کی زندگی کی راحت کا متمنی نہ ہو،تو دونوں دار کا فائدہ اطاعت میں رکھا ہے