أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَذَّبُوۡهُ فَنَجَّيۡنٰهُ وَمَنۡ مَّعَهٗ فِى الۡـفُلۡكِ وَجَعَلۡنٰهُمۡ خَلٰٓئِفَ وَاَغۡرَقۡنَا الَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا‌ ۚ فَانْظُرۡ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُنۡذَرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو انہوں نے ان کی تکذیب کی پس ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں (سوار) تھے سب کو (طوفان سے) نجات دی اور ہم نے انہیں (ان کا) جانشین بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی ان کو ہم نے غرق کردیا تو آپ دیکھیے کہ ان لوگوں کا کیسا انجام ہوا جن کو ڈرایا گیا تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو انہوں نے ان کی تکذیب کی پس ہم نے ان کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں (سوار) تھے سب کو (طو فان سے) نجات دی اور ہم نے انہیں (ان کا) جانشین بنادیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی ان کو ہم نے غرق کردیا تو آپ دیکھیے کہ ان لوگوں کا کیسا انجام ہوا جن کو ڈرایا گیا تھا پھر نوح کے بعد ہم نے (اور) رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس واضح دلائل لے کر آئے تو وہ اس پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ تھے جس کی وہ پہلے تکذیب کرچکے تھے ہم اسی طرح سرکشی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں (یونس : ٧٤۔ ٧٣)

حضرت نوح کی قوم کے کافروں کا انجام :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان کیا معاملہ ہوا اور اب یہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب اور ان کی قوم کے کفار کے درمیان انجام کار کیا معاملہ ہوا، سو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب مومنین کے متعلق یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی، اور یہ کہ ان کو کفار کا جانشین بنادیا بایں طور کہ کفار کو غرق کردیا اور کفار کے متعلق یہ فرمایا کہ ان کو ہلاک کردیا اور غرق کردیا۔ اس آیت میں کفار کے لیے ترہیب اور عبرت کا سامان ہے کہ جو لوگ اللہ کے رسول کی تکذیب کریں گے ان پر ایسا عذاب آسکتا ہے جیسا حضرت نوح (علیہ السلام) کے مکذبین پر آیا تھا، ١ ور اس آیت میں مومنوں کے لیے ترغیب ہے اور ایمان پر ثابت قدم رہنے کی تحریص ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کے اصحاب کو مخالفین کے شر اور فساد سے نجات عطا کی تھی اسی طرح اللہ تعالیٰ ان کو بھی مخالفین کے ضرر سے بچائے گا۔ قوم نوح کے غرقاب ہونے کی تفصیل باقی سورتوں میں مذکور ہے۔ اس کے بعد فرمایا : پھر نوح کے بعد ہم نے (اور) رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد آنے والے رسولوں کا نام ذکر نہیں فرمایا، ان رسولوں میں سے حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط اور حضرت شعیب (علیہم السلام) وغیرہم ہیں ان انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بہت عظیم معجزات دے کر بھیجا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان انبیاء کی قوم کے لوگوں نے بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کافروں کی طرح اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔

کافروں کے دلوں پر مہر لگانے کی توجیہ :

اس کے بعد فرمایا : ہم اسی طرح سرکشی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب اللہ نے خود ہی ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے تو ایمان نہ لانے میں ان کا کیا قصور ہے ! اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے اس قسم کا سخت کفر کیا جس کی سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی، دوسرا جواب یہ ہے کہ مہر لگانے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو سخت کردیا اور یہ ایمان لانے کے منافی نہیں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بل طبع اللہ علیہا بکفر ھم فلا یومنون الا قلیلا (النساء : ١٥٥) بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگائی ہے تو وہ بہت ہی کم ایمان لائیں گے۔ اس آیت کی زیادہ تفصیل ہم نے البقرہ : ٧ میں بیان کردی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 73