أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يَحۡزُنۡكَ قَوۡلُهُمۡ‌ۘ اِنَّ الۡعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا‌ ؕ هُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ۞

ترجمہ:

ان کی باتوں سے آپ رنجیدہ نہ ہوں، بیشک ہر قسم کا غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے، وہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کی باتوں سے آپ رنجیدہ نہ ہوں، بیشک ہر قسم کا غلبہ اللہ ہی کے لیے ہے، وہ خوب سننے والا بہت جاننے والا ہے سنو ! جو لوگ آسمانوں میں ہیں اور جو زمینوں میں ہیں سب اللہ ہی کے مملوک ہیں، یہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر (خودساختہ) شریکوں کو پکارتے ہیں یہ کس کی پیروی کر رہے ہیں ؟ یہ صرف اپنے گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور یہ صرف غلط اندازے لگا رہے ہیں وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں آرام کرو، اور دکھانے والا دن بنایا بیشک اس میں (غور سے) سننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں (یونس : ٦٥۔ ٦٧ )

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہجرت فرمانا کفار کے خوف کی وجہ سے نہ تھا :

اس سے پہلے کفار مکہ کے مختلف شبہات کے جوابات دیئے تھے، کفار مکہ جب دلائل سے عاجز آگئے تو انہوں نے دھاندلی کا طریقہ اختیار کیا، انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھمکایا اور خوف زدہ کیا، انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مالدار ہیں اور ان کا جتھہ ہے اور وہ اپنی طاقت اور اپنے زور سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناکام بنائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رد کے لیے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہوں گے، پھر یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کی باتیں آپ کو غم زدہ نہ کریں، اللہ تعالیٰ آپ کا مددگار ہے اور ہر قسم کا غلبہ اسی کے لیے ہے یعنی اللہ تعالیٰ آپ کے خَاف ان کو قدرت نہیں دے گا، بلکہ آپ کو ان کے خلاف قدرت عطا فرمائے گا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے آپ کو کفار کے ضرر سے محفوظ رکھا اور وہ آپ کو قتل کرنے کے منصوبہ کو پورا کرنے پر قادر نہ ہو سکے۔ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامون کردیا تھا تو پھر آپ خوف زدہ کیوں ہوئے اور مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کیوں گئے اور اس کے بعد بھی آپ وقتاً فوقتاً خوف زدہ رہے۔

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس کے جواب میں لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے آپ سے کامیابی اور نصرت کا وعدہ مطلقاً کیا تھا، کسی خاص وقت کو کامیابی اور نصرت کے لیے معین نہیں فرمایا تھا، اس لیے آپ ہر وقت خوف زدہ رہتے تھے کہ کہیں اس وقت میں شکست کا سامنا نہ ہوجائے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢٧٩)

ہماری رائے میں یہ جواب درست نہیں ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے خوف سے ہجرت نہیں کی تھی، آپ ان سے خوف زدہ کیسے ہوسکتے تھے، وہ برہنہ تلواریں لیے آپ کے حجرہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے اور آپ سورة یٰسین پڑھتے ہوئے درانہ ان کے درمیان سے نکل آئے تھے، آپ کا ہجرت فرمانا اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق تھا کیونکہ ہر نبی ایک مرتبہ کفار کے علاقہ سے ہجرت کرتا ہے اور پھر دوبارہ فاتح کی حیثیت سے وہیں لوٹتا ہے۔ تین دن غار میں چھپان بھی کفار کے ڈر اور خوف کی وجہ سے نہ تھا بلکہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کی وجہ سے تھا، اسی غار میں حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا تھا : غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اسی طرح جنگ بدر میں فتح کے لیے گڑگڑا کر اللہ سے دعا کرنا بھی اظہار عبودیت کے لیے تھا، کفار کے خوف کی وجہ سے نہ تھا، آپ کو کبھی بھی کفار کا خوف نہیں ہوا، آپ صرف اللہ سے ڈرتے تھے اور کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 65