وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۹۰)

اور بہانے بنانے والے گنوار آئے (ف۱۹۹) کہ انہیں رخصت دی جائے اور بیٹھ رہے وہ جنہوں نے اللہ و رسول سے جھوٹ بولا تھا (ف۲۰۰) جلد ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب پہونچے گا (ف۲۰۱)

(ف199)

سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جہاد سے رہ جانے کا عذر کرنے ۔ ضحاک کا قول ہے کہ یہ عامر بن طفیل کی جماعت تھی انہوں نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا نبیَ اللہ اگر ہم آپ کے ساتھ جہاد میں جائیں تو قبیلۂ طے کے عرب ہماری بی بیوں بچوں اور جانوروں کو لوٹ لیں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اللہ نے تمہارے حال سے خبردار کیا ہے اور وہ مجھے تم سے بے نیاز کرے گا ۔ عمرو بن علاء نے کہا کہ ان لوگوں نے عذرِ باطل بنا کر پیش کیا تھا ۔

(ف200)

یہ دوسرے گروہ کا حال ہے جو بغیر کسی عذر کے بیٹھ رہے ، یہ منافقین تھے انہوں نے ایمان کا دعوٰی جھوٹا کیا تھا ۔

(ف201)

دنیا میں قتل ہونے کا اور آخرت میں جہنّم کا ۔

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ-مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ(۹۱)

ضعیفوں پر کچھ حرج نہیں (ف۲۰۲) اور نہ بیماروں پر (ف۲۰۳) اور نہ ان پر جنہیں خرچ کا مقدور(طاقت) نہ ہو (ف۲۰۴) جب کہ اللہ و رسول کے خیر خواہ رہیں(ف۲۰۵) نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں (ف۲۰۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف202)

باطل والوں کا ذکر فرمانے کے بعد سچّے عذر والوں کے متعلق فرمایا کہ ان پر سے جہاد کی فرضیت ساقط ہے ۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ ان کے چند طبقے بیان فرمائے ، پہلے ضعیف جیسے کہ بوڑھے ، بچے ، عورتیں اور وہ شخص بھی انہیں میں داخل ہے جو پیدائشی کمزور ، ضعیف ، نحیف ، ناکارہ ہو ۔

(ف203)

یہ دوسرا طبقہ ہے جس میں اندھے ، لنگڑے ، اپاہج بھی داخل ہیں ۔

(ف204)

اور سامانِ جہاد نہ کر سکیں یہ لوگ رہ جائیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ۔

(ف205)

ان کی اطاعت کریں اور مجاہدین کے گھر والوں کی خبر گیری رکھیں ۔

(ف206)

مؤاخَذہ کی ۔

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ۪ – تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ(۹۲)

اور نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ (ف۲۰۷) تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں اس پریوں واپس جائیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ابلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا

(ف207)

شانِ نُزول : اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے چند حضرات جہاد میں جانے کے لئے حاضر ہوئے انہوں نے حضور سے سواری کی درخواست کی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں جس پر میں تمہیں سوار کروں تو وہ روتے واپس ہوئے ۔ ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُۚ-رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِۙ-وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۹۳)

مواخذہ(پکڑ) تو ان سے ہے جو تم سے رخصت مانگتے ہیں اور وہ دولت مند ہیں (ف۲۰۸) انہیں پسند آیا کہ عورتوں کے ساتھ پیچھے بیٹھ رہیں اور اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کردی تو وہ کچھ نہیں جانتے (ف۲۰۹)

(ف208)

جہاد میں جانے کی قدرت رکھتے ہیں باوجود اس کے ۔

(ف209)

کہ جہاد میں کیا نفع و ثواب ہے ۔

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْؕ-قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْؕ-وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۹۴)

تم سے بہانے بنائیں گے (ف۲۱۰) جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تم فرمانا بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے اللہ نے ہمیں تمہاری خبریں دے دی ہیں اور اب اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے (ف۲۱۱) پھر اس کی طرف پلٹ کر جاؤ گے جو چھپے اور ظاہر سب کو جانتا ہے وہ تمہیں جتادے گا جو کچھ تم کرتے تھے

(ف210)

اور باطل عذر پیش کریں گے ، یہ جہاد سے رہ جانے والے منافق تمہارے اس سفر سے واپس ہونے کے وقت ۔

(ف211)

کہ تم نِفاق سے توبہ کرتے ہو یا اس پر قائم رہتے ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ زمانۂ مستقبِل میں وہ مومنین کی مدد کریں گے ، ہوسکتا ہے کہ اسی کی نسبت فرمایا گیا ہو کہ اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے کہ تم اپنے اس عہد کو بھی وفا کرتے ہو یا نہیں ۔

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْؕ-فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْؕ-اِنَّهُمْ رِجْسٌ٘-وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۹۵)

اب تمہارے آ گے اللہ کی قسم کھائیں گے جب (ف۲۱۲) تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے اس لیے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو (ف۲۱۳) تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو (ف۲۱۴) وہ تو نرے(بالکل) پلید ہیں (ف۲۱۵) اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ اس کا جو کماتے تھے (ف۲۱۶)

(ف212)

اپنے اس سفر سے واپس ہو کر مدینۂ طیّبہ میں ۔

(ف213)

اور ان پر ملامت و عتاب نہ کرو ۔

(ف214)

اور ان سے اجتناب کرو ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھنا ، ان سے بولنا ترک کر دو چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضور نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ منافقین کے پاس نہ بیٹھیں ، ان سے بات نہ کریں کیونکہ ان کے باطِن خبیث اور اعمال قبیح ہیں اور ملامت و عتاب سے ان کی اصلاح نہ ہوگی اس لئے کہ ۔

(ف215)

اور پلیدی کے پاک ہونے کا کوئی طریقہ نہیں ۔

(ف216)

دنیا میں خبیث عمل ۔

شانِ نُزول : حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ آیت جد بن قیس اور معتب بن قشیر اور انکے ساتھیوں کے حق میں نازِل ہوئی ۔ یہ اسّی۸۰ منافق تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے پاس نہ بیٹھو ، ان سے کلام نہ کرو ۔ مقاتل نے کہا کہ یہ آیت عبداللہ بن اُبَی کے حق میں نازِل ہوئی ، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے قسم کھائی تھی کہ اب کبھی وہ جہاد میں جانے سے سُستی نہ کرے گا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ حضور اس سے راضی ہو جائیں ۔ اس پر یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازِل ہوئی ۔

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْۚ-فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ(۹۶)

تمہارے آگے قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہوجاؤ تو اگر تم ان سے راضی ہوجاؤ (ف۲۱۷) تو بےشک اللہ تو فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا (ف۲۱۸)

(ف217)

اور ان کے عذر قبول کر لو تو اس سے انہیں کچھ نفع نہ ہوگا کیونکہ تم اگر ان کی قَسموں کا اعتبار بھی کر لو ۔

(ف218)

اس لئے کہ وہ ان کے دل کے کُفر و نفاق کو جانتا ہے ۔

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ(۹۷)

گنوار (ف۲۱۹) کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں (ف۲۲۰) اور اسی قابل ہیں کہ اللہ نے جو حکم اپنے رسول پر اتارے اس سے جاہل رہیں اور اللہ علم و حکمت والا ہے

(ف219)

جنگل کے رہنے والے ۔

(ف220)

کیونکہ وہ مجالِسِ علم اور صحبتِ عُلَماء سے دور رہتے ہیں ۔

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىٕرَؕ-عَلَیْهِمْ دَآىٕرَةُ السَّوْءِؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۹۸)

اور کچھ گنوار وہ ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کریں تواسے تاوان سمجھیں (ف۲۲۱) اور تم پر گردشیں (مصائب)آنے کے انتظار میں رہیں (ف۲۲۲) انہیں پر ہے بُری گردش (ف۲۲۳) اور اللہ سنتا جانتا ہے

(ف221)

کیونکہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں رضائے الٰہی اور طلبِ ثواب کے لئے تو کرتے نہیں ، ریا کاری اور مسلمانوں کے خوف سے خرچ کرتے ہیں ۔

(ف222)

اور یہ راہ دیکھتے ہیں کہ کب مسلمانوں کا زور کم ہو اور کب وہ مغلوب ہو ں ، انہیں خبر نہیں کہ اللہ کو کیا منظو رہے وہ بتلا دیا جاتا ہے ۔

(ف223)

اور وہی رنج و بلا اور بدحالی میں گرفتار ہوں گے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت قبیلۂ اسد و غطفان و تمیم کے اَعرابیوں کے حق میں نازِل ہوئی پھر اللہ تبارَک و تعالٰی نے ان میں سے جن کو مستثنٰی کیا ان کا ذکر اگلی آیت میں ہے ۔ (خازن)

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِؕ-اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْؕ-سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۹۹)

اور کچھ گاؤں والے وہ ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں (ف۲۲۴) اور جو خرچ کریں اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول سے دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھیں (ف۲۲۵) ہاں ہاں وہ ان کے لیے باعث قرب ہے اللہ جلد انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف224)

مجاہد نے کہا کہ یہ لوگ قبیلۂ مُزینہ میں سے بنی مقرن ہیں ۔ کلبی نے کہا وہ اسلم اور غفار اور جُہینہ کے قبیلہ ہیں ۔ بخاری اور مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قریش اور انصار اور جہینہ اور مزینہ اور اسلم اور شجاع اور غفار موالی ہیں ، اللہ اور رسول کے سوا ان کا کوئی مولا نہیں ۔

(ف225)

کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں صدَقہ لائیں تو حضور ان کے لئے خیر و برکت و مغفرت کی دعا فرمائیں ، یہی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ تھا ۔

مسئلہ : یہی فاتحہ کی اصل ہے کہ صدَقہ کے ساتھ دعائے مغفرت کی جاتی ہے لہذا فاتحہ کو بدعت و ناروا بتانا قرآن و حدیث کے خلاف ہے ۔