حدیث نمبر121

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انسان سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا پھرتا ہے ۱؎ اورکہتاہے ہائے افسوس انسان کو سجدے کا حکم دیا گیا اس نے سجدہ کرلیا اس کے لیے تو جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا میں انکاری ہوگیا میرے لیے آگ ہے ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی انسان کے لیے سجدۂ تلاوت کو دیکھ کر شیطان حسرت کرتا ہوا وہاں سے بھاگتا ہے،چونکہ یہ سجدہ سجدۂ نماز کے علاوہ ہے اور شیطان نے جس سجدہ کا انکار کیا تھا وہ بھی سجدۂ نماز کے علاوہ تھا اس لیے اسے یہ سجدہ دیکھ کر حسرت ہوتی ہے نہ کہ سجدۂ نماز دیکھ کر کیونکہ نماز کے سجدے تو خودبھی کرتا رہا ہے۔

۲؎ اس سےمعلوم ہوا کہ سجدۂ تلاوت واجب ہے جیساکہ حنفیوں کا مذہب ہے اگرچہ وہ سجدہ آدم علیہ السلام کو تھا(سجدۂ تعظیمی)اور یہ سجدہ اﷲ کو ہے(سجدۂ عبادت)مگر چونکہ اس سجدہ کا حکم بھی الٰہی تھا اور اس سجدے کا بھی اس لیے شیطان یہ کہتا ہے۔اس سجدۂ تعظیمی کی بحث ہماری کتاب”تفسیرنعیمی”جلد اول میں دیکھو۔معلوم ہوتا ہے کہ شیطان اپنی حرکت پر پچھتاتا تو رہا ہے مگر اب کیا ہوتا وقت نکل چکا۔