حدیث نمبر122

روایت ہے حضرت ربیعہ ابن کعب سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا ۲؎ تو میں آپ کے پاس وضو کا پانی اورضروریات لایا۳؎ مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لو۴؎ میں نےعرض کیا کہ میں آپ سے جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں ۵؎ فرمایا اس کے سوا کچھ اوربھی میں نے عرض کیا بس یہی۶؎ فرمایا اپنی ذات پر زیادہ سجدوں سے میری مدد کرو ۷؎(مسلم)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابوفراس ہے،اسلمی ہیں،اصحاب صفّہ میں سے تھے،پرانے صحابی ہیں،سفروحضر کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص خادم ہیں، ۶۳ ھ؁ میں انتقال ہوا۔

۲؎ یعنی سفرمیں رات کی خدمت خصوصیت سے میرے سپرد تھی اور اگر گھر مراد ہوتو مطلب یہ ہے کہ رات بھر آپ کے دروازے پر رہتا تھا اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدمت کی ضرورت ہوتوبجالاؤں۔

۳؎ یعنی ایک شب حسبِ معمول تہجد کے وقت وضو کا پانی،مسواک،مصلی لےکر خدمت میں حاضر ہوا۔بعض نسخوں میں اَتِیْہِ ہے یعنی لایا کرتا تھا۔

۴؎ یعنی ایک شب شان کریمی کی جلوہ گری ہوئی اور دریائے رحمت جوش میں آگیا،مجھے انعام دینے کا ارادہ فرمایا۔اس جگہ مرقات اور لمعات وغیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا یہ چیز مانگو۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم باذن الٰہی اﷲ کے خزانوں کے مالک ہیں۔دین و دنیا کی جونعمت جسے چاہیں دیں بلکہ حضور احکام شرعیہ کے بھی مالک ہیں جس پر جو احکام چاہیں نافذکریں۔چنانچہ حضرت خزیمہ ابن ثابت کی گواہی دوگواہوں کی مثل قرار دی۔(بخاری)ُامِّ عطیہ کو ایک مرتبہ نوحہ کی اجازت دی۔(مسلم)ابی بردہ ابن نیازکو چھ ماہا بکری کی قربانی کی اجازت دی۔اﷲ نے جنت کی زمین کا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو مالک کیا ہے جسے چاہیں دیں۔(مرقات وغیرہ)

۵؎ یعنی مجھے آپ جنت میں اپنے ساتھ رکھیں،جیسے بادشاہ شاہی قلعہ میں اپنے خاص خادموں کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔خیال رہے کہ حضرت ربیعہ نے اس جگہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے حسب ذیل چیزیں مانگیں:زندگی میں ایمان پر استقامت،نیکیوں کی توفیق،گناہوں سےکنارہ کشی،مرتے وقت ایمان پر خاتمہ،قبر کے حساب میں کامیابی،حشرمیں اعمال کی قبولیت،پل صراط سے بخریت گزر،جنت میں رب کا فضل و بلندیٔ مراتب،یہ سب چیزیں صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگیں اور حضور نے صحابی کو بخشیں،لہذا ہم بھی حضور سے ایمان،مال،اولاد،عزت،جنت،سب کچھ مانگ سکتے ہیں،یہ مانگنا سنت صحابہ ہے۔حضور کےلنگر سے یہ سب کچھ قیامت تک بٹتا رہے گا اور ہم بھکاری لیتے رہے گے۔صوفیاءفرماتےہیں کہ حضرت ربیعہ نے حضور سے حضور ہی کو مانگا مگر چونکہ حضور جنت میں ہی ملیں گے،لہذا جنت کا بھی ذکر کردیا۔

۶؎ یعنی تمہاری یہ درخواست منظور ہے کچھ اور بھی چاہتے ہو؟عرض کیا جب چمن الٰہی کا پھو ل مل گیا تو پتوں کی کیا ضرورت ہے۔

۷؎ یعنی جنت میں تمہیں اعلیٰ مقام پرپہنچانا میرے کرم سے ہے نہ کہ محض تمہارے سجدوں سے،تم اپنے سجدوں سے مجھے اس کام میں امداد دو۔عَلیٰ نَفسِكَ فرماکر اشارۃً فرمایاگیا کہ نفس کی مخالفت جنت کا ذریعہ ہے۔(مرقات)کثرت سجود سے بتایا گیاکہ فقط نماز پنجگانہ پر کفایت نہ کرو بلکہ نوافل کثرت سے پڑھو تاکہ میرے قرب کے لائق ہوجاؤ،جیسےبادشاہ کہے کہ میرے پاس آناہے تو اچھا لباس پہنو،حاضری بادشاہ کے کرم سے ہے اور اچھا لباس دربار کے آداب میں سے۔شعر

مالک ہیں خزانۂ قدرت کے جوجس کو چاہیں دےڈالیں دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے