ذمے دار بچہ کون ؟ ۔۔۔

تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

فون کی بیل مسلسل بج رہی تھی۔۔۔۔

فاخر !!! فاخر ! دیکھو کس کا فون ہے ؟کچن میں برتن دھوتے ہوئے امی نے فاخر سے کہا ۔

فاخر نے فون اٹھا یا اور کہا :نانی کافون ہے امی !

لاؤ لا کر مجھے دو !

فاخر نے فون امی کو لا کر دے دیا ۔

السلام ُ علیکم امی !

وعلیکم السلام کیسی ہو ثریا !

جی امی ! الحمد للہ میں ٹھیک ہوں ۔

اچھا آج میں شام میں کوفتے آلو بنا رہی ہوں تم کچھ بنانا نہیں ارسلان کے ہاتھ بھجوا دوں گی ۔

امی آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں مجھے کہا ہو تا میں بنا دیتی ۔

ارے نہیں بیٹا ! اس میں پریشانی کی کیا بات ہے ویسے بھی تمہیں اور ارسلان کو تو میرے ہاتھ کے کوفتے آلو بہت پسند ہیں ۔

ہاں امی ! اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ماں کے ہاتھ میں جو ذائقہ ہو تا ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا ۔امی نے نانی سے کہا ۔

اللہ تعالیٰ تمہیں اچھا رکھے بس یہ ہی کہنے کے لیے فون کیا تھا کہ رات کو کچھ پکانا نہیں ۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

فی امان اللہ ۔

وعلیکم السلام و رحمۃا للہ وبرکاتہ ،امی نے سلام کا جواب دیا اور فی امان اللہ کہہ کر فون بند کر دیا ۔

فاخر اور فرخ کو تو ارسلان ماما کا انتظار ویسے ہی تھا ذمے دار بننے کا فارمولا جو جاننا تھا ۔

شام کے وقت جیسے ہی ڈور بیل بجی تو دونوں نے دروازے کی جانب دوڑ لگا دی ارسلان ماما آگئے ۔۔۔

دروازہ کھولا تو دروازے پر دودھ والا کھڑا تھا بیٹا برتن لے آؤ اور دودھ لے لو ۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور فاخر نے فرخ سے کہا جاؤ برتن لے کر آؤ۔

میں کیوں لاؤں آپ بھی لا سکتے ہو بڑے ہو تو کیا ہر وقت مجھ پر حکم چلاتے رہو گے؟

برتن لانے پر دونوں میں جھگڑ ا شروع ہو گیا تو دودھ والے نے کہا : بیٹا ! بعد میں لڑ لینا ابھی تو دودھ کا برتن لے آؤ مجھے اور بھی گھروں میں دودھ پہنچانا ہے ۔

فاخر اندر گیا دودھ کا برتن لایا اور دودھ کچن میں رکھ کر کہا:امی ! آئندہ اس فرخ کے بچے کو چائے نہیں دیجیے گا ۔

ارے ایک تو تم دنوں ہر وقت لڑتے رہتے ہو ۔

امی ! ماما کب تک آئیں گے ؟فرخ نے اپنی امی سے پوچھا ۔

مغرب کے بعد آئیں گے آج تمہاری نانی نے کوفتے آلو بنائے ہیں ماما ! لیتے ہوئے ہی آئیں گے ۔امی نے کہا ۔

ارے واہ ! یعنی آج تو مزہ آجائے گا ۔فرخ نے کہا ۔

یہ تو ایسے کہہ رہاہے جیسے اسے گوشت کھائے عرصہ ہو گیا ہے ۔فاخر نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔

مغرب کی اذان کی آواز سُنائی دی تو دونوں مسجد کی جانب روانہ ہو گئے۔

دونوں (فرخ اور فاخر ) میں ایک اچھی بات تو ہے دونوں نماز با جماعت پڑھتے ہیں ۔

نماز پڑھ کر گھر آئے تو ارسلان ماما موجود تھے ۔

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ! ماما ! دونوں نے ارسلان کو سلام کیا ۔

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! ارسلان نے سلام کا جواب دیا ۔

بڑی دیر کر دی ماما ! آپ نے ۔فاخر نے کہا ۔

دیر کردی ؟ ارسلان ماما نے حیرت سے پوچھا ۔

ارے کل تم بتا کر گئے تھے کہ ذمے دار بننے کا فارمولا کیا ہے اس کے انتظار میں ہیں۔ امی نے کہا ۔

اچھا اچھا ! یعنی آتش ِ شوق جوبن پر ہے اب سمجھنے میں آسانی رہے گی ۔۔۔

بچو! انسان نے ذمے داری اٹھائی تو اس نے ہوا میں اڑنا سیکھ لیا ۔۔۔سمندر کی تہہ میں چلا گیا ۔

سوال یہ ہے کہ ہم کیسے ذمہ داری اٹھائیں ؟

یا ہم کیسے ذمہ داری اٹھانا سیکھیں ؟

یا ہم کیسے ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں ؟۔۔۔فارمولا بہت آسان ہے ۔ماما نے کہا ۔

لیکن فارمولا ہے کیا ؟فرخ نے پوچھا ۔

فارمولا یہ ہے .

Thoughts +Emotion+Words+Action = Responsible

اپنی سوچ وخیالات ،احساسات و جذبات ، الفاظ اورعمل کی ذمہ داری لے لو

یہ کیا ہے ؟ کچھ سمجھ نہیں آیا ۔فاخر نے کہا ۔

ہم سب سے پہلے بات کرتے ہیں سوچ کیا ہے ؟ خیالات کیا ہیں ؟ماما نے کہا

سوچ تو وہی ہے جو ہم سوچتے ہیں ۔ فرخ نے کہا ۔

یہ سوچ / خیال بہت اہم آپ نے اس کی ذمے داری لینی ہے کہ کوئی منفی خیال ، کوئی گناہ کا خیال ، کسی جرم کا خیال آپ کے دماغ میں نہ آئے اورآئے تو فوراً جھٹک دیں ۔۔۔۔

اب کچھ بات سمجھ میں آئی یعنی ہمیں اپنی سوچ کی ذمے داری قبول کرنی ہے ۔فاخر نے کہا ۔

بالکل ! کیونکہ یہ سوچ ، یہ خیالات ،بیج ہیں ۔۔۔۔اس بیج سے احساس کی کونپل پھوٹتی ہے ۔۔۔۔احساس سے الفاظ پنپتے ہیں اور پھر یہ ہی الفاظ عمل کا تناور درخت بن جاتے ہیں ۔۔۔

اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے آپ کےخیالات سے کوئی پھل دار درخت جنم لیتا ہے یا دھتورے کا پودا ۔۔۔۔

یاد رکھیے ! گلاب کے بیج سے گلاب نکلتا ہے ۔۔۔۔ جیسے خیالات ہوں گے ویسا عمل ہو گا ۔۔۔

آپ کے پاس بیج کی چوائس ہے پودے کی نہیں ۔۔۔۔جو بیج بوئیں گے وہی پھل پائیں ۔

دوسری مثال سنو !

جی فرخ نے کہا ۔

عمارت کی بنیاد ٹیڑھی ہو جائے تو پوری عمارت ٹیڑھی ہو جاتی ہے ۔۔۔۔گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود ڈرائیور کی توجہ کہیں اور چلی جائے اس کی سوچ کی رو بہک جائے تو حادثہ ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔

واہ ماما واہ ! آپ نے بہت اچھے طریقے سے سمجھایا ۔فرخ نے کہا ۔

ابھی لیکچر جاری ہے۔ارسلان ماما نے ہنستے ہوئے کہا ۔

تو پہلی بات سمجھ آ گئی ؟ ماما نے پوچھا ۔

جی ماما بالکل سمجھ آ گئی۔فاخر نے کہا ۔

کیا سمجھ آئی؟ ماما نے سوال کیا ۔

ہم نے ذمے داری کےساتھ سوچنا ہے کیونکہ یہ خیالات زندگی کو منظم بھی کر سکتے ہیں اور دھرم بھرم بھی ۔ فاخر نے کہا

واہ بھئی واہ ! آپا! میرے بھانجے تو مجھ سے بھی زیادہ فاسٹ ہیں ۔ ارسلان ماما نے ہنستے ہوئے کہا ۔

دیکھو قرآن کیا بیان کررہاہے ۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ ۡ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ القرآن 12:49

اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے

ہم نے اس حوالے سے ایک کہانی ” سنہری بخاری شریف ” میں بھی پڑھی تھی کہ اچھی نیت اور سوچ نہ ہونے کےسبب انسان شیطان سے شکست کھا گیا تھا ۔ فرخ نے کہا۔

شاباش ! بس آج سے پہلا کام تو یہ کرناہے کہ تم نے کوئی بد گمانی نہیں کرنی اچھا اچھا سوچنا ہے ۔۔۔یہ ذمے دار قبول کرنا ہو گی ٹھیک ہے کیونکہ ذمے دار کون قبول نہیں کرتا ؟

شیطان ۔۔۔کافر ۔۔۔اور گدھا یعنی جانور دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔

فارمولے کا دوسرا پارٹ ہے ۔ جذبات Emotion

یہ جذبات سوچ سے ہی جنم لیتے ہیں اور کبھی کبھی ہم اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں بیٹھے بیٹھے مسکرانے لگتے ہیں ۔۔۔کبھی بیٹھے بیٹھے کسی سے خیالوں ہی خیالوں میں لڑنے لگتے ہیں ۔۔۔ کسی لیڈر کی جذباتی تقریر سُن لی اسی کے ہو کر رہے گئے ۔

دوسرا آپ نے اپنے جذبات کی ذمے داری لینی ہے اس کو بھٹکنے کےلیے نہیں چھوڑ دیناہے کہ کوئی بھی آپ کے جذبات کو بر انگیختہ کر کے فائدہ اٹھا لے ۔

یہ بھی آپ نے ٹھیک کہا ماما ! ہمیں اپنے جذبات کی ذمے داری بھی قبول کرنا ہو گی اکثر فاخر بھائی ایساہی کررہےہو تے ہیں ۔ فرخ نے کہا ۔

ہمیں اپنے خیالات کی بھی ذمے داری قبول کرنا ہو گی کیونکہ ذمے دار کون قبول نہیں کرتا ؟

شیطان ۔۔۔کافر ۔۔۔اور گدھا یعنی جانور دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔

اب آتے ہیں فرخ آپ کی طرف فارمولے کا تیسرا حصہ ہے الفاظ ۔ words

وہ تو سُنا ہو گا نا !الفاظ کے دانت نہیں ہو تے مگر یہ کاٹ لیتے ہیں اس بات کی ذمے داری بھی آپ کو اٹھانا ہو گی کہ آپ کے الفاظ کسی دوسرے کے لیے دکھ ، اذیت اور غم کا سبب نہ بنیں ۔کوئی تلخ جملہ ، غیبت ، چغلی ، دل آزاری ، طنز ،مذاق اڑانا وغیرہ آپ کے الفاظ کے ذریعے نہ ہو آپ کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہو گی ۔

یہ ذمے داری قبول کرنا ہو گی ٹھیک ہے کیونکہ ذمے دار ی کون قبول نہیں کرتا ؟

شیطان ۔۔۔کافر ۔۔۔اور گدھا یعنی جانور دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔

آخری بات عمل Work ماما نے کہا ۔

آپ کے عمل کی ذمہ داری بھی آپ پر ہی عائد ہو تی ہے ۔۔۔۔۔آپ اپنے ہر عمل کے ذمہ دار خود ہیں ۔

آپ جو عمل کررہے ہیں وہ کیا ہے؟

کیا وہ اللہ و رسول ﷺ کے حکم کے مطابق ہے ؟

کہیں وہ اللہ و رسول ﷺ کے حکم کے خلاف تو نہیں ؟

عمل سے قبل سوچنا یہ آپ کی ذمہ داری ہے ۔۔۔۔آپ کا طرزِ عمل لوگوں کے لیے پریشان کن تو نہیں؟

کیونکہ ذمے داری کون قبول نہیں کرتا ؟ ماما نے پوچھا ۔

شیطان ۔۔۔کافر ۔۔۔اور گدھا یعنی جانور فرخ ، فاخر کے ساتھ ماما نے بھی کورس کی شکل میں کہا ۔

دیکھو بچو اللہ تعالیٰ کیا ارشاد فرما رہاہے۔

اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا بنی اسرائیل 36)

بےشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے سوال ہونا ہے

یہ کان ، آنکھ ، دل ، زبان ہاتھ پاؤں یہ سب ہمارے اختیار میں اللہ نے دئیے ہیں ان سب سے سوال ہو گا ان سب کی ذمہ داری آپ پر ہے ۔آپ گیم کھیل کر وقت ضائع کررہے ہیں یا ٹی وی دیکھ کر ۔۔۔آپ بلاوجہ گھوم پھر رہے ہیں آپ سب کے ذمے دار ہیں آپ سے کل قیامت کے دن سوال ہو گا لہذا ذمہ دار بنیے اپنی ہر سوچ ، جذبات ، الفاظ اور عمل کے آپ خود ذمے دار ہیں ۔

خیال بیج ہیں ۔۔۔۔۔بیج پر آپ کو اختیار ہے ۔۔۔۔پودے پر نہیں ۔

رات سوتے ہوئے روزانہ ان الفاظ کو دہرائیے ۔

ہاں ! میں ذمہ دار ہوں اپنے خیالات ،احساسات ، جذبات ، الفاظ اورعمل کا

ذمے داری تین قبول نہیں کرتے

شیطان ۔۔۔کافر ۔۔۔جانور

کل مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور حا ضر ہو نا ہے ۔۔۔۔۔۔جو ذمہ دار ہو تا ہے وہی لائق انعام ہو تا ہے ۔۔۔۔۔

اچھا ! آپا آج کافی دیر ہو گئی میں نے گھر جا کر کوفتے آلو بھی کھانا ہیں ۔ ماما نے اٹھتے ہوئے کہا ۔