روزہ کب فرض ہوا

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو ! روزہ اعلان نبوت کے پندرہویں سال یعنی دس شوال ۲ ھ ؁ میں فرض ہوا۔

اللہ کا فرمان ہے: ’’ یٰاَ یُّہَا الَّذِ یْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن‘‘ (سورئہ بقرہ، پ۲، آیت ۱۸۳)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے کہ اگلوں پر فرض ہوئے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دو باتوںکا بطور خاص ذکر فرمایا اول یہ کہ یہ عبادت صرف تم ہی پر فرض نہیں کی جا رہی ہے بلکہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض ہو چکی ہے۔

چنانچہ تفسیر کبیر وتفسیر احمدی میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہر امت پر روزے فرض رہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام پر ہر قمری مہینے کی تیرہویں، چودہویں، اورپندرہویں تاریخ کے روزے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر عاشورہ کاروزہ فرض رہا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے روزے رکھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ روزے تم پر اس لئے فرض کئے گئے’’ تاکہ تم متقی بن جائو ‘‘کہ شریعت کے تمام احکام  کا مقصد مومنین کو متقی بنانا ہے اسی لئے قرآن کریم بار بار تقویٰ اختیار کرنے اور متقی بننے کا حکم دیتا ہے۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو !یوں تو نماز،روزے، حج، زکوٰۃ اوردیگر عبادات سب کے سب ایسے اعمال ہیں جن سے قرب خداوندی کی نعمت اوراللہد کاخوف دلوں میں جاگزیں ہوتاہے۔ لیکن بالخصو ص روزہ تقویٰ کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے کہ روزے دار صرف اللہ دکے حکم کی تعمیل میں حلال چیزوں کاحرام ہوجا نابھی تسلیم کرلیتا ہے بھوکارہتا ہے، پیاسا رہتا ہے، جب کہ کھانے پینے کی ہر چیزپر اسے قدرت حاصل ہوتی ہے۔ بیوی پر شہوت کی نظر تک نہیں ڈالتا۔ اس سے زیادہ اللہ دکی رضا جوئی کااظہار اور کس عمل سے ہو سکتا ہے ؟ روزہ،سخت تکلیف کے عالم میں بھی حکم الٰہی کی تعمیل کا عملی ثبوت ہے۔ روزہ اطاعت وفرمانبرداری اور اظہار عبدیت کابہترین نمونہ ہے۔ روزہ ہمدردی اور غمگساری، نیزتعاون کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ روزہ خواہشات نفس کے خلاف جہاد کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہی سب خوبیاںراہ تقویٰ کے مسافر کو منزل سے قریب کرتی ہیں۔ اسی لئے میرے آقاا نے ارشاد فرمایا: ’’ مَنْ لَمْ یَدْعُ قَوْلَ الزُّوْرِوَالْعَمَلَ بِہٖ فَلیْسَ لِلّٰہ حَاجَۃً فِی اَنْ یُّدْعَ طَعَامَہُ وَ شَرَابَہُ ‘‘ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص روزے میں جھوٹ بولنا اور برے کام کرنا نہ چھوڑے تو اللہ د کواس کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑدے۔ (بخاری شریف)

کھانا پینا چھڑانا مقصودِ روزہ نہیں مقصدروزہ تو ’’تقویٰ ‘‘ہے۔ جواسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب روزے دار ظاہری وباطنی دونوں اعتبار سے احکام شرع کی پابندی کرے ایساشخص روزے کا مقصد حاصل کرسکتاہے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو!روزے کی حالت میں اگر اپنے آپ کو جھوٹ وغیرہ سے نہیں روکا گیا توبھوکا پیاسا رہنا بارگاہِ رب د میں وہ مقام نہیں رکھتا جو مکمل طور پر ہر غیر شرعی کام سے بچا کر روزہ رکھنا مقام رکھتا ہے اندازہ لگائیے کہ تاجدار کائنات نے ارشاد فرمایا: کہ اللہ دکو ہمیں بھوکا پیاسارکھنا مقصود نہیں بلکہ ہر برائی سے بچانا مقصود ہے اب اگر کوئی شخص کھانے پینے سے اپنے آپ کو روکے اور جھوٹ سے اپنے آپ کو نہ بچائے، مقصدروزہ فوت ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہم کو چاہئیے کہ ہم روزے کی حالت میں جھوٹ سے اپنے آپ کوروکیں۔ اور روزہ کی ہی کیا تخصیص ہمیں تو ہر حال میں اپنے آپ کوجملہ صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے روکنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

اللہ ہم سب کو تو فیق عطا فرمائے۔

آمین بجا ہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم