باب السجود و فضلہ

سجدے اوراس کی بزرگی کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ سجدہ لغت میں زمین پر سر رکھنے،عاجزی کرنے،سرجھکانےکو کہتے ہیں۔شریعت میں سات اعضاء کا زمین پر لگاناعبادت یا اطاعت کی نیت سےسجدہ کہلاتاہے۔سجدہ تین قسم کا ہے:سجدۂ عبادت جو اﷲکو ہوتاہے،سجدۂ تعظیم جو فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو کیا،سجدۂ تحیۃ جو یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو کیا۔سجدۂ عبادت غیرخدا کو شرک ہے،آخری دو سجدے اسلام میں حرام ہیں۔اس کی پوری بحث ہماری”تفسیرنعیمی”خورد میں دیکھو۔خیال رہے کہ صرف سجدہ بھی عبادت ہے مگرصرف رکوع اور قیام عبادت نہیں بلکہ یہ نماز میں عبادت ہے۔(مرقات)

حدیث نمبر113

روایت ہےحضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا گیا کہ سات ہڈیوں پرسجدہ کروں پیشانی،دو ہاتھ،دو گھٹنے،قدموں کے کنارے ۱؎ اور یہ کہ کپڑے اور بال جمع نہ کریں ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اگرچہ سجدےمیں ناک بھی لگائی جاتی ہے مگر پیشانی اصل ہے اور ناک اس کی تابع اس لیے ناک کا ذکر نہ فرمایا۔ہاتھوں سے مراد ہتھیلیاں ہیں اور قدم کے کناروں سے مراد پورے پنجے ہیں اس طرح کہ دسوں انگلیوں کا سر کعبے کی طرف رہے۔

۲؎ نماز میں کپڑے سمیٹنا،روکنا سب منع ہے،لہذا آستین یا پائنچے چڑھاکریا پائجامہ پرلنگوٹ باندھ کر نماز پڑھنا منع ہے ایسے ہی دھوتی باندھ کر نماز پڑھنا منع کہ ان سب میں کپڑے کا روکنا ہے،ہاں اگر پائجامہ کے نیچےلنگوٹ بندھا ہو اوپر پائجامہ یا تہبند ہوتو منع نہیں کیونکہ اس میں کپڑے کا روکنا نہیں۔خیال رہے کہ سجدے میں قدم اور پیشانی زمین پر لگنا فرض ہے لیکن ہاتھ اورگھٹنوں کا لگنا سنت،امام صاحب کے نزدیک صرف پیشانی پر بغیر ناک لگے سجدہ جائز ہے،یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔