أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰٓى اِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ عَلٰى خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ ئِهِمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَهُمۡ‌ ؕ وَاِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِى الۡاَرۡضِ‌ ۚ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو (ابتدائً ) موسیٰ کی قوم کی بعض اولاد کے سوا ان پر کوئی ایمان نہیں لایا (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ وہ ان کو فتنہ میں مبتلا کردیں گے اور بیشک فرعون زمین میں متکبر تھا اور وہ یقینا حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو (ابتداء) موسیٰ کی قوم کی بعض اولاد کے سوا ان پر کوئی ایمان نہیں لای (اور وہ بھی) فرعون اور اس کے درباریوں سے ڈرتے ہوئے کہ وہ ان کو فتنہ میں مبتلا کردیں گے اور بیشک فرعون زمین میں متکبر تھا اور وہ یقینا حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا (یونس : ٨٣)

ربط آیات اور فرعون کے واقعہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عظیم معجزات پیش کیے اور ان کا عصا جادوگروں کی تمام لاٹھیوں اور رسیوں کو کھا گیا، یہ ایسا عظیم حسی معجزہ تھا جس کو تمام لوگوں نے اپنی جاگتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا، اس کے باوجود حضرت موسیٰ کی قوم کی بعض اولاد کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لایا، اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ آپ کفار مکہ کے اعراض کرنے اور کفر پر اصرار کرنے پر غم نہ کریں کیونکہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ یہی ہوتا آیا ہے کہ ان کی پیہم تبلیغ اور بکثرت معجزات دکھانے کے باوجود معدودے چند افراد ہی ایمان لاتے ہیں، سو اگر آپ کی مسلسل تبلیغ کے باوجود چند افرد نے ہی اسلام قبول کیا ہے تو اس پر غم نہ کریں، آپ اس معاملہ میں تمام انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ منسلک ہیں۔

حضرت موسیٰ کی قوم کی بعض اولاد کا مصداق :

اس آیت میں ذکر فرمایا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کی بعض اولاد ایمان لائے بعض اولاد کے تعین میں اختلاف ہے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : مجاہد بیان کرتے ہیں کہ جن لوگوں کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا، لمبے عرصہ کے بعد وہ لوگ مرگئے اور ان کی اولاد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا : جن لوگوں کی اولاد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائی تھی وہ بنی اسرائیل نہیں تھے بلکہ وہ فرعون کی قوم کے چند لوگ تھے۔ ان میں فرعون کی بیوی، آل فرعون کا مومن، فرعون کا خازن اور فرعون کے خازن کی بیوی تھی۔

حضرت ابن عباس کی دوسری روایت یہ ہے کہ وہ لوگ بنی اسرائیل کی اولاد تھے۔

امام ابن جریر فرماتے ہیں : میرے نزدیک راجح مجاہد کی روایت ہے کہ جن لوگوں کی ذریت ایمان لائی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا تھا اور وہ بنو اسرائیل ہیں، لمبا عرصہ گزرنے کے بعد وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے پہلے مرگئے، پھر ان کی اولاد نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پایا اور ان میں سے بعض لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ (جامع البیان جز ١١ ص ١٩٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

بنی اسرائیل کی اولاد میں سے جو بعض ایمان لائے تھے ان کو بھی یہ ڈر تھا کہ فرعون اور اس کے سردار ان کو فتنہ میں مبتلا کردیں گے کیونکہ وہ فرعون سے بہت ڈرتے تھے اور فرعون کی گرفت بہت سخت تھی اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بہت بڑا دشمن تھا، اور فتنہ کا معنی ہے آزمائش اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان پر طرح طرح کے عذاب مسلط کر کے ان کو ان کے سابق دین کی طرف لوٹانے کی کوشش کرے گا اور فرعون زمین میں متکبر تھا کیونکہ وہ اپنے مخالفین کو سخت سزائیں دیتا تھا اور بہت قتل کرتا تھا اور وہ حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا کیونکہ اس نے اللہ کا بندہ ہونے کے باوجود الوہیت کا دعویٰ کیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 83