أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَاوَزۡنَا بِبَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتۡبـَعَهُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَجُنُوۡدُهٗ بَغۡيًا وَّعَدۡوًا‌ ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدۡرَكَهُ الۡغَرَقُ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِىۡۤ اٰمَنَتۡ بِهٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِيۡلَ وَ اَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار گزار دیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے دشمنی اور سرکشی سے ان کا پیچھا کیا حتیٰ کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو اس نے کہا میں ایمان لایا کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار گزار دیا تو فرعون اور اس کے لشکر نے دشمنی اور سرکشی سے ان کا پیچھا کیا حتیٰ کہ جب وہ غرق ہونے لگا تو اس نے کہا میں ایمان لایا کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں (فرمایا :) اب ! (ایمان لایا ہے) حالانکہ اس سے پہلے تو نے نافرمانی کی اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا سو آج ہم تیرے (بےجان) جسم کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے اور بیشک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں (یونس : ٩٢۔ ٩٠)

بنی اسرائیل کی قوم فرعون سے نجات اور فرعون کا غرق ہونا :

جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کی دعا قبول فرما لی تو بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ ایک معین وقت میں مصر سے روانہ ہوجائیں اور اس کے لیے اپنا سامان تیار کرلیں۔ فرعون اس معاملہ سے غافل تھا، اس کو جب معلوم ہوا کہ بنو اسرائیل اس کے ملک سے نکل گئے تو وہ ان کے پیچھے روانہ ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنی قوم کے ساتھ روانہ ہوئے اور سمندر کے کنارے پہنچے اور ادھر فرعون بھی اپنے لشکر کے ساتھ ان کے سروں پر آپہنچا تو بنو اسرائیل بہت خوفزدہ ہوگئے، ان کے ایک طرف دشمن تھا اور دوسری طرف سمندر تھا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائی : فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر ط فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم واز لفنا ثم الاخرین وانجینا موسیٰ ومن معہ اجمعین ثم اغرقنا الاخرین (الشعراء : ٦٦۔ ٦٣) تو ہم نے موسیٰ پر وحی فرمائی کہ آپ سمندر پر اپنا عصا ماریں تو یکایک سمندر پھٹ گیا پس اس کا ہر حصہ بڑے پہاڑی کی طرح ہوگیا اور اس جگہ ہم دوسروں (فرعون اور اس لشکر) کو قریب لائے اور ہم نے موسیٰ اور ان کے سب ساتھیوں کو نجات دی پھر دوسروں کو غرق کردیا فرعون نے جب دیکھا کہ سمندر میں خشک راستے بن گئے اور بنی اسرائیل اس سے گزر گئے تو اس نے اپنے لشکر سے کہا آگے بڑھو، بنی اسرائیل تم سے زیادہ اس راستے پر چلنے کے مستحق نہیں ہے اور جب وہ راستے کے بیچ میں پہنچے تو وہ خشک راستے غائب ہوگئے اور سمندر کے اجزاء ایک دوسرے سے مل گئے اور فرعون غرق ہونے لگا اور اس وقت اس نے کہا : میں اس پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا تو اس نے کہا میں اس پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ (یونس : ٩٠) تو جبرئیل نے کہا اے محمد ! کاش آپ اس وقت مجھے دیکھتے جب میں سمندر کی کیچڑ اس کے منہ میں ڈال رہا تھا اس خوف سے کہ اس پر رحمت ہوجائے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٠٧، مسند احمد ج ١ ص ٢٤٥، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٩٣٢) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ذکر فرمایا کہ جبرئیل فرعون کے منہ میں کیچڑ ڈال رہا تھا اس خوف سے کہ وہ کہے گا لا الہ الا اللہ تو اللہ اس پر رحم فرمائے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٠٨، مسند احمد ج ١ ص ٢٤٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٢١٥، المستدرک ج ٢ ص ٢٤٠، شعب الایمان رقم الحدیث : ٩٣٩١) 

فرعون کے ایمان کو قبول نہ کرنے کی وجوہ :

اس جگہ یہ سوال ہوتا ہے کہ جب فرعون نے یہ کہہ دیا کہ میں اس پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس کا ایمان کیوں قبول نہیں فرمایا، اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) فرعون نزول عذاب کے وقت ایمان لایا تھا اور اس وقت ایمان لانا مقبول نہیں ہے۔ قرآن مجید میں ہے : فلما راوا باسنا قالوا امنا باللہ وحدہ وکفرنا بما کنا بہ مشرکین فلم یک ینفعہم ایمانہم لما را واباسننا ط سنۃ اللہ التی قد خلت فی عبادہ وخسر ھنا لک الکفرون۔ (المومن : ٨٥۔ ٨٤) پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہا ہم اللہ پر ایمان لے آئے جو واحد ہے اور ہم نے ان کا انکار کیا جن کو ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے پس ان کے ایمان نے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا، یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو اس سے پہلے اس کے بندوں میں گزر چکا ہے اور وہاں کافروں نے سخت نقصان اٹھایا۔

(٢) فرعون نے جب عذاب کو دیکھ لیا تو اس نے وقتی طور پر عذاب کو ٹالنے کے لیے ایمان کا اظہار کیا، اس کا مقصود اللہ کی عظمت و جلال کو ماننے کا نہ تھا اور نہ ہی اس نے اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کیا تھا۔

(٣) ایمان اس وقت مکمل ہوتا ہے جب توحید کے ساتھ رسالت کا بھی اقرار کرے، فرعون نے اللہ پر ایمان لانے کا اظہار کیا تھا لیکن حضرت موسیٰ کی نبوت پر ایمان لانے کا اقرار نہیں تھا اس لیے اس کا ایمان مقبول نہیں ہوا، اگر کوئی شخص ہزار مرتبہ بھی اشہد ان لا الہ الا اللہ پڑھے اور اشہد ان محمدا رسول اللہ نہ پڑھے تو وہ مومن نہیں ہوگا۔

فرعون کے منہ میں جبرئیل کا مٹی ڈالنا اور اس پر اشکال کا جواب :

ہم نے متعدد حوالوں سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جب فرعون غرق ہو رہا تھا تو حضرت جبرئیل نے اس کے منہ میں کیچڑ ڈال دی تاکہ وہ توبہ نہ کرسکے، اس حدیث پر امام فخرالدین محمد بن عمررازی متوفی ٦٠٦ ھ نے حسب ذیل اعتراضات کیے ہیں : فرعون اللہ پر ایمان لانے کا مکلف تھا تو حضرت جبرئیل پر یہ لازم تھا کہ وہ توبہ کرنے میں فرعون کی معاونت کرتے، نہ کہ اس کی توبہ کو روکنے کی کوشش کرتیے نیز توبہ صرف زبان سے اعتراف اور ندامت کا نام نہیں ہے بلکہ دل سے نادم ہونے کا نام ہے ورنہ گونگے کی توبہ متصور نہیں ہوگی اور جب دل سے نادم ہونے کا نام توبہ ہے تو پھر اس کے منہ میں مٹی ڈالنا بےسود ہے نیز جب جبرئیل اس کو توبہ کرنے سے روک رہے تھے تو اس کا معنی یہ ہے کہ اس کو کفر پر قائم رکھنا چاہتے تھے اور کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) سے فرمایا : فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی۔ (طہ : ٤٤) تم دونوں فرعون سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ نصیحت حاصل کرے یا اللہ سے ڈرے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا تھا کہ فرعون ایمان لے آئے، پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ حضرت جبرئیل کو فرعون کے منہ میں مٹی ڈالنے کے لیے بھیجے تاکہ وہ اللہ پر ایمان نہ لاسکے۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢٩٧، داراحیاء التراث العربی بیروت) امام رازی کے یہ اعتراضات بہت قوی ہیں لیکن ہم احادیث کا خادم ہونے کی حیثیت سے ان احادیث کا تحفظ کریں گے اور ان کے اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ فرعون اللہ کی آیتوں کا انکار کر کے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں گستاخیاں کر کے اس درجہ پر پہنچ چکا تھا کہ اب اگر وہ ایمان لاتا پھر بھی اس کے ایمان کو قبول نہ کیا جاتا، اس لیے حضرت جبرئیل کو اس وقت اس کی منہ میں مٹی ڈالنے کے لیے بھیجا تاکہ اس پر یہ واضح کردیا جائے کہ تو اب راندئہ درگاہ ہوچکا ہے اور اب تیرا ایمان لانا مقبول نہیں ہے۔

قرآن مجید کی صداقت :

سو آج ہم تیرے (بےجان) جسم کو بچا لیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ تیری قوم تو سمندر کی گہرائی میں غرق ہوچکی تھی لیکن ہم تیرے بےجان جسم کو سمندر کی گہرائی سے نکال لیں گے تاکہ دیکھنے والے دیکھیں کہ جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا آج وہ بےجان مردہ پڑا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے جسم کو بچا لینے کا اعلان فرمایا اور اس کا جسم آج تک محفوظ ہے، مصر پر غیرمسلموں کی حکومت بھی رہی لیکن کسی کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس کے جسم کو ضائع کردیتا، یہ قرآن مجید کی صداق اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی حقانیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 90