أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ مُوۡسٰى يٰقَوۡمِ اِنۡ كُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰهِ فَعَلَيۡهِ تَوَكَّلُوۡاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو صرف اسی پر توکل کرو اگر تم (واقعی) مسلمان ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو صرف اسی پر توکل کرو اگر تم (واقعی) مسلمان ہو انہوں نے کہا ہم نے اللہ پر ہی توکل کیا ہے، اے ہمارے رب ! ہم کو ظالم لوگوں کے ذریعہ آزمائش میں مبتلا نہ کر اور ہم کو اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات عطا فرما (یونس : ٨٦۔ ٨٤)

اسلام اور ایمان کا معنی اور اس معنی پر توکل کا متفرع ہونا :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ گویا کہ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے فرما رہا ہے کہ اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو صرف اللہ پر توکل کرو کیونکہ اسلام کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنا، اور اس کے احکام کی اطاعت کرنا اور ایمان کا معنی یہ ہے کہ بندہ یہ مان لے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے اور واجب الوجود ہے اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ حادث ہے اور اس کی مخلوق ہے اور اس کے زیرتصرف اور اس کے زیرتدبیر ہے اور جب بندہ میں یہ دونوں کیفیتیں پیدا ہوجائیں گی تو وہ اپنے تمام معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے گا اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ پر توکل کا نور پیدا ہوجائے گا اور توکل کا معنی یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور تمام احوال میں صرف اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا تھا کہ انہوں نے کہا : فعلی اللہ توکلت ” میں نے صرف اللہ پر توکل کیا ہے “ (یونس : ٧١) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم صرف اللہ پر توکل کرو، (یونس : ٨٤) اس سے معلوم ہوا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی ذات میں کامل تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی امت کو کامل بنانے والے تھے اور ان دونوں مرتبوں میں بڑا فرق ہے۔

حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والوں کی دعا کے د ومحمل :

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں نے دعا کی تھی : اے ہمارے رب ! ہم کو ظالم لوگوں کے لیے آزمائش نہ بنا، اس کے دو محمل ہیں : ایک یہ ہے کہ قوم فرعون کو ہمارے ذریعہ آزمائش میں مبتلا نہ کر، کیونکہ اگر تو نے قوم فرعون کو ہم پر مسلط کردیا تو ان کے دلوں میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ اگر ہم حق پر ہوتے تو وہ ہم پر مسلط نہ ہوتے اور یہ ان کے کفر پر اصرار کرنے کا قوی شبہ ہوجائے گا اور اس طرح ہم پر ان کا تسلط ان کے لیے آزمائش بن جائے گا یا اگر تو نے ان کو ہم پر مسلط کردیا تو وہ آخرت میں عذاب شدید کے مستحق ہوں گے اور یہ ان کے لیے آزمائش ہے اور اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ ان ظالموں کے ذریعہ ہم کو آزمائش میں مبتلا نہ کر یعنی ان کو ہم پر قدرت نہ دے تاکہ وہ ہم پر ظلم اور قہر کریں اور یہ خطرہ ہو کہ ہم اس دین سے پھرجائیں جس کو ہم نے قبول کیا ہے۔ اور پھر انہوں نے یہ دعا کہ اے اللہ ! ہم کو اپنی رحمت سے قوم کفار سے نجات عطا فرما۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 84