حدیث نمبر123

روایت ہے حضرت معدان ابن طلحہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان سے ملا میں نے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتائیں جو میں کروں تو اﷲ مجھے اس کی برکت سے جنت میں داخل کردے آپ خاموش رہے میں نے پھر پوچھا آپ خاموش رہے میں نے پھرتیسری بار پوچھا تو فرمایا کہ میں نے اس بارے میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا۲؎ آپ نے فرمایا کہ اﷲ کے لیئے زیادہ سجدے اختیارکرو۳؎ کیونکہ تم اﷲ کے لیےکوئی سجدہ نہ کرو گے مگر اﷲ اس کی برکت سے تمہارا درجہ بڑھائے گا اورتمہاری خطا معاف کرے گا۔معدان کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابودرداء سے ملا ان سے پوچھا انہوں نے مجھ سے وہی کہا جو ثوبان نے کہا تھا۴؎(مسلم)

شرح

۱؎ آپ تابعی ہیں،شام کے رہنے والے ہیں،عالم باعمل ہیں،حضرت عمر،ابوالدرداء اور ثوبان رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں۔

۲؎ یعنی میں نے بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے تین بار یہ سوال کیا تھا دو بارسرکار خاموش رہے تھے اور تیسری بار میں جواب دیا تھا۔(مرقات)اسی سنت پرعمل کرتے ہوئے میں بھی دوبار خاموش رہا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خاموشی سائل کا شوق بڑھانے کے لیے اور حضرت ثوبان کی خاموشی اسی سنت پر عمل کے لیے ہے،صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اداؤں کی نقل کرتے تھے۔

۳؎ اس طرح کہ نوافل زیادہ پڑھو اور تلاوت قرآن کثرت سے کرو،سجدۂ شکر زیادہ کرو۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ سجدہ گناہوں کاکفارہ ہے مگر گناہوں سے مرادحقوق اﷲ کے گناہ صغیرہ ہیں،حقوق العباد ادا کرنے سے اور گناہ کبیرتوبہ سے معاف ہوتے ہیں۔