أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ نُنَجِّىۡ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا‌ كَذٰلِكَ‌ۚ حَقًّا عَلَيۡنَا نُـنۡجِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

پس ہم (عذاب آنے پر) اپنے رسولوں کو اور ایمان والوں کو (عذاب سے) بچاتے رہے ہیں اسی طرح اللہ کی سنت جاریہ ہے، مومنوں کو نجات دینا ہمارے ذمہ (کرم پر) ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس ہم (عذاب آنے پر) اپنے رسولوں کو اور ایمان والوں کو (عذاب سے) بچاتے رہے ہیں، اسی طرح اللہ کی سنت جاریہ ہے، مومنوں کو نجات دینا ہمارے ذمہ (کرم پر) ہے۔ (یونس : ١٠٣) 

مومنوں کو ثواب عطا فرمانے کا وجوب اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی وجہ سے ہے جب کہ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی کفار کی طرح عذاب کا انتظار کریں تو اس آیت میں اس کی تفصیل فرمائی کہ عذاب صرف کفار پر نازل ہوگا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین اہل نجات میں سے ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مومنوں کو نجات دینا ہمارے ذمہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ مومنوں کو نجات دینا اللہ پر واجب ہے اور یہ معتزلہ کا مذہب ہے اس کا جواب یہ ہے کہ معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ مومنوں کے نیک اعمال کے استحقاق کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر واجب ہے کہ وہ ان کو ثواب عطا فرمائے جب کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور کرم کی وجہ سے مومنوں سے ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور کریم وعدہ کر کے اسے پورا کرتا ہے اس وجہ سے اس پر ثواب عطا فرمانا واجب ہے نہ اس وجہ سے کہ مومنوں کا اللہ پر کوئی حق ہے جیسے کام کرنے والے کا کام کرانے والے پر حق ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کرم سے اپنے اوپر مومنوں کی نجات کو واجب کرلیا ہے، قرآن مجید میں ہے : کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ۔ (الانعام : ٥٤) تمہارے رب نے (محض اپنے کرم سے) اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے تو یہ اس کے پاس عرش پر لکھا ہوا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٥٤، ٣١٩٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٥١، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٧٧٥٠ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 103