أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ ۚؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡىِ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ وہ (عذاب کی نشانی دیکھ کر) ایمان لے آتی تو اس کا ایمان اس کو نفع دیتا سوا یونس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لے آئی تو ہم نے اس سے دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب دور کردیا اور ہم نے ان کو ایک وقت مقرر تک فائدہ پہنچایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ وہ (عذاب کی نشانی دیکھ کر) ایمان لے آتی تو اس کا ایمان اس کو نفع دیتا سوا یونس کی قوم کے کہ جب وہ ایمان لے آئی تو ہم نے اس سے دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب دور کردیا اور ہم نے ان کو ایک وقت مقرر تک فائدہ پہنچایا۔ (یونس : ٩٨) 

ربط آیات :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : بیشک جن لوگوں پر آپ کے رب کا حکم صادر ہوچکا ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے خواہ ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں حتیٰ کہ وہ دردناک عذاب کو (بھی) دیکھ لیں (یونس : ٩٧۔ ٩٦) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کفر کے بعد ایمان لے آئی، اس طرح کافر قوموں کی اب دو قسمیں ہوگئیں : ایک وہ جن کا خاتمہ کفر پر ہوا اور دوسری وہ جن کا خاتمہ ایمان پر ہوا۔ 

آثار عذاب دیکھ کر حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کا توبہ کرنا :

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : اصحاب سیر و تفسیر نے بیان کیا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم سرزمین موصل کے مقام نینوا میں رہتی تھی، اللہ عزوجل نے ان کی طرف حضرت یونس (علیہ السلام) کو بھیجا۔ حضرت یونس نے ان کو بت پرستی ترک کرنے کی اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی، انہوں نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) نے ان کو خبر دی کہ تین دن کے بعد ان پر عذاب آجائے گا جب ان پر آثار عذاب ظاہر ہوئے،

حضرت ابن عباس اور حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ حضر یونس کی قوم اور عذاب کے درمیان صرف دوتہائی میل کا فاصلہ رہ گیا تھا، مقاتل نے کہا کہ ایک میل کا فاصلہ رہ گیا تھا

ابوصالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ انہوں نے عذاب کی تپش اپنے کندھوں پر محسوس کی، بعض نے کہا کہ آسمان پر سیاہ رنگ کے بادل نمودار ہوگئے اور بہت سخت دھواں ظاہر ہونے لگا جس نے ان کے شہر کو ڈھانپ لیا اور ان کے مکانوں کی چھتیں سیاہ پڑگئیں جب ان کو ہلاکت کا یقین ہوگیا تو انہوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہنے اور اپنے سروں پر راکھ ڈال لی اور تمام لوگ بڑے اور چھوٹے، والدین اور بچے، تمام جانوروں کو لے کر میدان میں جمع ہوئے اور سب نے باآواز بلند اللہ تعالیٰ سے توبہ کی اور صدق دل سے معافی مانگی اور یہ کہا کہ ہم حضرت یونس (علیہ السلام) کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔

حضرت ابن مسعود نے فرمایا : ان کی توبہ یہاں تک تھی کہ انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ جو زیادتیاں کی تھیں ان کی بھی تلافی کرلی حتیٰ کہ اگر کسی نے دوسرے کا پتھر اپنی دیوار میں لگایا تھا تو وہ پتھر دیوار سے نکال کر اس کو واپس کردیا اور

ابوالجلد نے کہا : جب ان پر عذاب کے آثار نمودار ہوئے تو وہ اپنے بوڑھے عالم کے پاس گئے اور اس سے اس عذاب سے نجات کے متعلق سوال کیا اس نے کہا یہ کہو : یاحی حین لا حی یا حی محی الموتی یا حی لا الہ الا انت۔ اے زندہ ! جب کوئی زندہ نہ ہو، اے زندہ ! مردوں کو زندہ کرنے والے، اے زندہ ! تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ جب انہوں نے یہ کلمات کہے تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔

مقاتل نے کہا : وہ چالیس دن تک اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہے پھر ان سے عذاب دور کردیا گیا۔ دس محرم جمعہ کے دن ان کی توبہ قبول ہوئی۔ حضرت یونس (علیہ السلام) ان کے پاس سے جا چکے تھے ان سے کہا گیا کہ آپ اپنی قوم کے پاس چلے جائیں۔ حضرت یونس نے فرمایا : میں ان کے پاس کیسے جائوں، وہ مجھ کو جھوٹا قرار دیں گے اور ان کے ہاں یہ دستور تھا کہ جو شخص جھوٹا ثابت ہو اور اس کے پاس اپنی سچائی پر کوئی دلیل نہ ہو اس کو قتل کردیا جاتا تھا تب حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی قوم پر ناراضگی کے باعث دریا کی طرف چلے گئے اور مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٩٩۔ ٩٨، جامع البیان جز ١١ ص ٢٢٤۔ ٢٢٢ ملخصا، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ١٩٨٩۔ ١٩٨٨، تفسیر کبیر ج ٦ ص ٣٠٣، جامع البیان جز ٨ ص ٢٩٠۔ ٢٨٩، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٨١، روح المعانی ج ٧ ص ٢٨٣۔ ٢٨٢) 

حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی توبہ قبول کرنے اور فرعون کی توبہ قبول نہ کرنے کی وجہ :

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : علامہ طبری نے کہا ہے کہ تمام امتوں میں سے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی یہ خصوصیت ہے کہ عذاب کے معائنہ کے بعد ان کی توبہ قبول کرلی گئی اور مفسرین کی ایک جماعت سے اسی طرح منقول ہے۔ زجاج نے یہ کہا ہے کہ ان پر عذاب واقع نہیں ہوا تھا، انہوں نے صرف وہ علامات دیکھی تھیں جو عذاب پر دلالت کرتی ہیں اور اگر وہ بعینہ عذاب کو دیکھ لیتے تو ان کو ایمان نفع نہ دیتا۔ (علامہ قرطبی فرماتے ہیں :) میں کہتا ہوں کہ زجاج کا قول بہت عمدہ ہے کیونکہ جس عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان نفع نہیں دیتا وہ عذاب میں مبتلا ہونا ہے جیسا کہ فرعون کے قصہ سے ظاہر ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت یونس کی قوم کے قصہ کو فرعون کی قوم کے قصہ کے بعد ذکر فرمایا ہے کیونکہ وہ اس وقت ایمان لایا تھا جب وہ عذاب کو دیکھ چکا تھا اس وجہ سے اس کے ایمان نے اس کو نفع نہیں پہنچایا اور حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے اس سے پہلے توبہ کرلی تھی اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ (موت) نہ ہو۔ (غرغرہ : موت کے وقت غرغر کی آواز نکالنا) (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٣٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٥٣، مسند احمد ج ٢ ص ١٣٢، مسند ابویعلی رقم الحدیث : ٥٦٠٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٢٨، الکامل لابن عدی ج ٤ ص ١٥٩٢، حلیتہ الاولیاء ج ٥ ص ١٩٠، المستدرک ج ٤ ص ٢٥٧، شعب الایمان رقم الحدیث : ٧٠٦٤)

ہم نے جو ذکر کیا ہے اس کی تائید حضرت ابن مسعود (رض) کے اس قول سے ہوتی ہے کہ جب حضرت یونس نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ تین دن کے بعد ان پر عذاب آجائے گا اور حضرت یونس ان کے درمیان سے چلے گئے اور اگلی صبح کو قوم نے حضرت یونس کو موجود نہ پایا تو انہوں نے توبہ کرلی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب روک لیا، حضرت یونس عذاب کا انتظار کر رہے تھے جب انہوں نے کوئی چیز نہ دیکھی اور ان کا دستور یہ تھا کہ جو شخص جھوٹا قرار دیا جائے اور اس کے پاس دلیل نہ ہو تو وہ قتل کردیا جاتا تھا، تب حضرت یونس (علیہ السلام) اپنیقوم پر غم و غصہ کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٣٨٥٣، تفسیر امام ابن ابنی حاتم رقم الحدیث : ١٠٥٩٧)

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے عذاب کی علامت دیکھنے سے پہلے توبہ کرلی تھی اور کشفنا عنہم عذاب الخزی کا معنی یہ ہے کہ جس عذاب کا حضرت یونس نے ان سے وعدہ کیا تھا وہ ان پر نازل ہوگا، وہ عذاب اللہ تعالیٰ نے ان سے دور کردیا، یہ معنی نہیں ہے کہ انہوں نے عذاب کو دیکھ لیا تھا اور اس توجیہ کی بناء پر حضرت یونس کی قوم سے عذاب کو دور کرنے اور فرعون سے عذاب کو دور نہ کرنے میں کوئی تعارض نہیں ہے اور نہ یہ حضرت یونس کی قوم کی خصوصیت ہے، خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں اہل نینوا سعادت مند لوگوں میں سے تھے۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : احتیاط سے تقدیر نہیں بدلتی اور دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے نیز حضرت علی نے فرمایا : ان سے عاشوراء کے دن عذاب دور ہوا تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٨ ص ٢٩٠، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٥ ھ) ہرچند کہ علامہ قرطبی کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت یونس کی قوم نے عذاب کی علامات دیکھنے سے پہلے توبہ کرلی تھی لیکن ظاہر قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے عذاب کی علامات اور نشانیاں دیکھ کر توبہ کی تھی، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس کی قوم کا باقی اقوام سے استثناء کیا ہے اور باقی تمام مفسرین کا بھی مختار ہے۔

حضرت یونس (علیہ السلام) پر گرفت کی توجیہ اور نگاہ رسالت میں ان کا بلند مقام :

حضرت یونس (علیہ السلام) پر سخت غم و غصہ اور پریشانی کی کیفیت طاری تھی جب انہوں نے یہ دیکھ لیا کہ عذاب نہیں آیا تو ان کو خیال آیا کہ ان کی قوم اب ان کو جھوٹا کہے گی کہ جس وقت انہوں نے عذاب آنے کی پیش گوئی کی تھی اس وقت عذاب نہیں آیا اور ان کے ہاں یہ دستور تھا کہ جو شخص جھوٹا ثابت ہو اور اس کے جھوٹ پر کوئی دلیل نہ ہو اس کو قتل کردیا جاتا تھا، اس غم اور پریشانی کی کیفیت میں حضرت یونس نے اس علاقہ سے نکل جانا چاہا اور اس پریشانی میں وہ یہ بھول گئے کہ یہاں سے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت لینا ضروری ہے اور ہرچند کہ عام مسلمانوں سے بھول پر مواخذہ اور گرفت نہیں ہوتی لیکن انبیاء (علیہم السلام) کا مقام عام مسلمانوں سے بہت بلند ہوتا ہے اس لیے ان سے بھول پر بھی مواخذہ ہوتا ہے، ہرچند کہ بھول کوئی گناہ نہیں ہے لیکن حضرت آدم نے بھولے سے شجرممنوع سے کھالیا تو ان کا لباس اتر گیا اور انہیں جنت سے باہر جانے کا حکم دیا پھر وہ اس بھول پر بھی عرصہ دراز تک توبہ کرتے رہے پھر انہوں نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، اسی طرح حضرت یونس (علیہ السلام) بھی بھولے سے کشتی میں بیٹھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر گرفت فرمائی اور ان کو مچھلی کے پیٹ میں رہنا پڑا پھر ان کی تسبیہ کی وجہ سے ان کو نجات عطا فرمائی پھر ان کی نازبرداری فرمائی، جبرئیل ان کو مچھلی کے منہ سے نکال کر ایک چٹیل میدان میں لے گئے وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو سائے میں رکھنے کے لیے کدو کی پھیلنے والی بیل پیدا فرمائی اور اس کی شاخوں میں دودھ اتارا جس سے حضرت یونس (علیہ السلام) کی نشو و نما فرمائی پھر حضرت یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں جو تسبیح کی تھی اس تسبیح کو یہ مرتبہ اور مقام عطا فرمایا کہ قیامت تک جو مسلمان بھی کسی رنج اور غم میں متبلا ہو جب وہ اس تسبیح کو پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے غم سے نجات عطا فرمائے گا، تسبیح اور استغفار کے کلمات تو بہت ہیں لیکن ان کلمات کو یہ مرتبہ اس لیے عطا فرمایا کہ یہ اس کے محبوب اور مکرم نبی کے منہ سے نکلے ہوئے کلمات تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کس قدر بلند تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کے مقام کی رفعت اور عظمت کو ظاہر کرتے ہوئے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی ایک شخص بھی حضرت یونس بن متی سے افضل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤١٥) آپ نے یونہی تو نہیں فرمایا : کسی شخص کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ مجھے حضرت یونس بن متی پر فضیلت دے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤١٦) نگاہ رسالت سے یہ امر پوشیدہ نہ تھا کہ کچھ لوگ حضرت یونس (علیہ السلام) کی اس آزمائش کے واقعہ کو دیکھ کر ان پر زبان طعن دراز کریں گے اس لیے اس کے سدباب کی خاطر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیش بندی کے طور پر پہلے ہی فرما دیا کہ کوئی شخص بھی حضرت یونس سے افضل نہیں ہے، مجھے بھی ان پر فضیلت مت دو ، ہرچند کہ آپ کے یہ کلمات بطور تواضع ہیں لیکن ان کلمات سے حضرت یونس کے بلند مقام اور ان کی رفعت شان کا پتا چلتا ہے۔

حضرت یونس (علیہ السلام) کی آزمائش پر سید مودودی کی تنقید :

سید ابوالاعلیٰ مودودی کی متوفی ١٣٩٩ ھ سورة یونس کی تفسیر میں لکھتے ہیں : قرآن مجید میں خدائی دستور کے جو اصول و کلیات بیان کیے گئے ہیں ان میں ایک مستقل دفعہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک اس پر اپنی حجت پوری نہیں کرلیتا پس جب نبی نے اس قوم کی مہلت کے آخری لمحے تک نصیحت کا سلسلہ جاری نہ رکھا اور اللہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے بطور خود ہی وہ ہجرت کر گیا تو اللہ تعالیٰ کے انصاف نے اس کی قوم کو عذاب دینا گوارا نہ کیا کیونکہ اس پر اتمام حجت کی قانونی شرائط پوری نہیں ہوئی تھی۔ (تفہیم القرآن ج ٢ ص ٣١٣، مطبوعہ لاہور، ١٤٠٢ ھ، ١٩٨٢ ء) اور الصفت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : مفسرین کے ان بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تین قصور تھے جن کی وجہ سے حضرت یونس پر عتاب ہوا : ایک یہ کہ انہوں نے عذاب کے دن کی خود ہی تعیین کردی حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی اعلان نہ ہوا تھا دوسرے یہ کہ وہ دن آنے سے پہلے ہجرت کر کے ملک سے نکل گئے حالانکہ نبی کو اس وقت تک اپنی جگہ نہ چھوڑنی چاہیے جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نہ آجائے، تیسرے یہ کہ جب اس قوم پر سے عذاب ٹل گیا تو واپس نہ گئے۔ (تفہیم القرآن ج ٤ ص ٣١١۔ ٣١٠، مطبوعہ لاہور، مارچ ١٩٨٣ ء) اس سے چند صفحات پہلے لکھتے ہیں : اس ابتلاء میں حضرت یونس اس لیے مبتلا ہوئے کہ وہ اپنے آقا (یعنی اللہ تعالیٰ ) کی اجازت کے بغیر اپنے مقام ماموریت سو فرار ہوگئے تھے اس معنی پر لفظ ابق بھی دلالت کرتا ہے جس کی تشریح حاشیہ نمبر ٧٨ میں گزر چکی ہے۔ (حاشیہ نمبر ٧٨ میں لکھا ہے اصل میں لفظ ابق استمال ہوا ہے جو عربی زبان میں صرف اس وقت بولا جاتا ہے جبکہ غلام اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جائے اور اسی معنی پر لفظ ملیم بھی دلالت کرتا ہے۔ ملیم ایسے قصوروار آدمی کو کہتے ہیں جو اپنے قصور کی وجہ سے آپ ہی ملامت کا مستحق ہوگیا ہو۔ (تفہیم القرآن ج ٤ ص ٣٠٧، مطبوعہ لاہور ١٩٨٣ ء) 

سید مودودی کی تنقید پر مصنف کا تبصرہ یہ امر سب کے نزدیک مسلم ہے کہ قرآن مجید میں جب کسی لفظ کا لغوی معنی اللہ اور رسول کے شایان شان نہ ہو تو اس کو اس کو مجاز پر محمول کیا جاتا ہے جیسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ استہزاء استعمال کیا ہے اس کا معنی ہے مذاق اڑانا اور یہ معنی اللہ تعالیٰ کے شایان شان نہیں ہے اس لیے اس کا معنی مذاق اڑانے کی سزا کیا جاتا ہے اسی طرح جو الفاظ انبیاء (علیہم السلام) کی شایان شان نہ ہوں ان میں بھی تاویل کی جائے گی۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہیں اور تحقیق یہ ہے کہ ان سے صغیرہ یا کبیرہ کسی قسم کا بھی گناہ صادر نہیں ہوتا اور وہ قصد اور ارادے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے البتہ ان سے نسیان کے ساتھ کوئی ممنوع کام ہوجاتا ہے جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کا بھولے سے شجر ممنوع سے کھالینا، یا حضرت یونس (علیہ السلام) کا بھولے سے بغیر اجازت لیے چلے جانا یہ کام گناہ نہیں ہیں، ان کاموں پر جو ان سے مواخذہ ہو اور وہ ان کے مقام کی بلندی کی وجہ سے ہے کیونکہ ان کے بلند مقام کی وجہ سے ان سے بھول بھی قابل مواخذہ ہے اور ان کا اپنے آپ کو ظالم کہنا ان کی تواضع اور انکسار ہے لیکن یہ ان کا اور ان کے رب کے درمیان معاملہ ہے اللہ تعالیٰ ان کا مالک اور مولیٰ ہے وہ جو جا ہے انہیں فرمائے اور وہ اس کے بندے ہیں وہ اس کے سامنے جس طرح چاہیں تواضع اور انکسار کریں ہمارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ہم اپنی طرف سے ان پر کوئی حکم لگائیں ان کے کسی کام پر تنقید کریں یا تبصرہ کریں ہم صرف ان سے متعلق آیات اور احادیث کا ترجمہ کرسکتے ہیں اور ان آیات اور احادیث کے علاوہ ان پر کوئی حکم لگانے کے یا ان پر کوئی تبصرہ کرنے کے ہم مجاز نہیں ہیں۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے حضرت یونس (علیہ السلام) کے متعلق جس طرح لکھا ہے اس سے یہ لگتا ہے جیسے عدالت ملزم پر فرد جرم عائد کر رہی ہو ہم اس قسم کی عبارات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ علامہ ابن الحاج مالکی متوفی ٧٣٧ ھ لکھتے ہیں : جس شخص نے قرآن مجید کی تلاوت یا حدیث کے علاوہ کسی نبی کے متعلق یہ کہا کہ اس نے معصیت کی یا مخالفت کی تو وہ کافر ہوگیا ہم اس سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ (المدخل ج ٢ ص ١٤، مطبوعہ دارالفکر بیروت) خاص طور پر حضرت یونس (علیہ السلام) کا مقام بہت عظیم ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی شخص بھی حضرت یونس سے افضل نہیں ہے اور فرمایا : مجھے بھی یونس بن متی پر فضیلت مت دو ۔ ایسے عظیم الشان نبی کے متعلق یہ لکھنا ” ان کے تین قصور تھے “ لائق صد افسوس ہے ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 98۔