أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلِ انْظُرُوۡا مَاذَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ‌ؕ وَمَا تُغۡنِى الۡاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے تم غور سے دیکھو آسمانوں اور زمینوں میں (اس کی وحدت کی) کیسی نشانیاں ہیں ! اور یہ نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو (ضد اور عناد سے) ایمان نہیں لاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ تم غور سے دیکھو آسمانوں اور زمینوں میں (اس کی وحدت کی) کیسی نشانیاں ہیں ! اور یہ نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو (ضد اور عناد سے) ایمان نہیں لاتے۔ (یونس : ١٠١)

اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر دلیل

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور اس کی تقدیر اور مشیت کے بغیر ایمان نہیں حاصل ہوسکتا اور اس آیت میں زمین اور آسمانوں میں جو اس کی ذات اور اس کی قدرت پر نشانیاں ہیں ان میں تدبر ور تفکر کا حکم دیا ہے تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ انسان مجبور محض ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک گونہ مختار بنایا ہے سو اس پر لازم ہے کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کی بناوٹ پر غور کے اور ان میں جو کواکب اور سیارے ہیں ان میں تفکر کرے کہ وہ ایک مخصوص نظام کے تحت قائم ہیں اور گردش کر رہے ہیں رات اور دن کے توارد اور ان کے اختلاف میں، بارشوں کے ہونے اور دریائوں میں سیلاب اور سمندروں کے طوفانوں میں اور کھیتوں اور باغات میں غلہ اور پھلوں کی پیداوار میں یہ نشانی ہے کہ یہ تمام چیزیں نظام واحد کے تحت روبہ عمل ہیں۔ انسانوں، مویشیوں، چرندوں، درندوں اور پرندوں میں توالد اور تناسل کا نظام واحد ہے موسموں کے بدلنے کا نظام واحد ہے روئیدگی کا نظام واحد ہے سورج اور چاند کے طلوع اور غروب کا نظام واحد ہے خود انسان کے اندر نشو و نما کا نظام واحد ہے غذا کے انہضام کا نظام واحد ہے فضلات کے اخراج کا نظام واحد ہے انسان خواہ اپنے باہر کی دنیا کو دیکھے تو ہر چیز نظام واحد میں مربوط ہے اور اپنے اندر کی دنیا کو دیکھے تو ہر چیز نظام واحد میں منسلک ہے اور نظام کی وحدت یہ بتاتی ہے کہ اس نظام کا بنانے والا بھی واحد ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : سنریھم ایتنا فی الافاق وفی انفسھم حتی یتبین لھم انہ الحق۔ (حم السجدۃ : ٥٣) عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے اس جہان کے اطراف میں اور (خود) ان کے نفسوں میں، حتیٰ کہ ان پر منکشف ہوجائے گا کہ یہی (قرآن) حق ہے۔ وفی الارض ایت للموقنین وفی انفسکم افلا تبصرون (الذاریت : ٢١۔ ٢٠) اور یقین رکھنے والوں کے لیے زمین میں نشانیاں ہیں اور خود ان کے نفسوں میں تو کیا تم (ان نشانیوں کو) نہیں دیکھتے۔ یہ جہان عالم کبیر ہے اور خود انسان عالم صغیر ہے اور عالم کبیر کے نظام میں بھی یکسانیت اور وحدت ہے اور عالم صغیر کے نظام میں بھی یکسانیت اور وحدت ہے اور نظام کی وحدت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس کا ناظم بھی واحد ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 101