كفى بالله شهيدا – كفى بالله كفيلا

اللہ کی گواہی کافی ہے – اللہ کی ضمانت کافی ہے

آئیے میں آپ کو ایک حدیث شریف سناتا ہوں۔

کافی عرصہ پہلے بہارشریعت میں پڑھی تھی، کل رات اچانک ذہن اس طرف گیا تو آج کتاب سے نکال کر اپنے مسلمان بھائیوں سے شئیر کررہا ہوں۔

صحیح بخاری شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:

بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے دوسرے سے ایک ہزار دینار قرض مانگے، اس نے کہا گواہ لاؤ جن کو گواہ بنالوں۔

اُس نے کہا، کفٰى بالله شهيداً اللہ (عزوجل) کی گواہی کافی ہے۔

اس نے کہا، کسی کو ضامن لاؤ۔ اُس نے کہا کفٰی بالله كفيلاً اللہ (عزوجل) کی ضمانت کافی ہے۔

اس نے کہا، تُو نے سچ کہا اور ایک ہزار دینار اُسے دیدیے اور ادا کی ایک میعاد (مدت) مقرر کردی۔

اُس شخص نے سمندر کا سفر کیا اور جو کام کرنا تھا انجام کو پہنچا یا پھر جب میعاد (مدت) پوری ہونے کا وقت آیا تو اُس نے کشتی تلاش کی کہ جاکر اُس کا دَین(یعنی قرض) ادا کرے مگر کوئی کشتی نہ ملی، نا چار اُس نے ایک لکڑی میں سوراخ کرکے ہزار اشرفیاں بھر دیں اور ایک خط لکھ کر اُس میں رکھا اور خوب اچھی طرح بند کردیا پھر اس لکڑی کو دریا کے پاس لایا اور یہ کہا،

اے اللہ(عزوجل) تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے قرض طلب کیا، اُس نے کفیل مانگا میں نے کہا كفى بالله كفيلا وہ تیری کفالت پر راضی ہوگیا پھر اُس نے گواہ مانگا میں نے کہا كفى بالله شهيدا وہ تیری گواہی پر راضی ہوگیا اور میں نے پوری کوشش کی کہ کوئی کشتی مل جائے تو اُس کا دَین (قرض) پہنچا دوں، مگر میسر نہ آئی اور اب یہ اشرفیاں میں تجھ کو سپرد کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ لکڑی دریا میں پھینک دی اور واپس آیا مگر برابر کشتی تلاش کرتا رہا کہ اُس شہر کو جائے اور دَین ادا کرے۔

اب وہ شخص جس نے قرض دیا تھا ایک دن دریا کی طرف گیا کہ شاید کسی کشتی پر اس کا مال آتا ہوکہ دفعۃً(اچانک) وہی لکڑی ملی جس میں اشرفیاں بھری تھیں۔ اُس نے یہ خیال کرکے کہ گھر میں جلانے کے کام آئے گی اُس کو لے لیا، جب اُس کو چیرا تو اشرفیاں اور خط ملا پھر کچھ دنوں بعد وہ شخص جس نے قرض لیا تھا، ہزار دینار لیکر آیا اور کہنے لگا، خدا کی قسم میں برابر کوشش کرتا رہا کہ کوئی کشتی مل جائے تو تمھارا مال تم کو پہنچا دوں مگر آج سے پہلے کوئی کشتی نہ ملی۔

اُس نے کہا، کیا تم نے میرے پاس کوئی چیز بھیجی تھی؟

اس نے کہا، میں کہہ تو رہا ہوں کہ آج سے پہلے مجھے کوئی کشتی نہیں ملی۔

اُس نے کہا، جو کچھ تم نے لکڑی میں بھیجا تھا، خدا نے اُس کو تمھاری طرف سے پہنچادیا۔

یہ (قرض لوٹانے والا) اپنی ایک ہزار اشرفیاں لیکر بامراد واپس ہوا۔

’’صحيح البخاري‘‘، کتاب الكفالة، باب الكفالة في القرض إلخ، الحدیث:۲۲۹۱، جـ۲، صـ۷۳

سیکھنے والی باتیں:

🍀 اعتقاد کی مضبوطی وہ جو کچھ کر دکھاتی ہے جو ہمارے مادی ذرائع اور ظاہری اسباب سے ممکن نہ ہو۔

🍀 اللہ کریم پر کامل بھروسہ رکھنے والے کبھی نامراد نہیں ہوتے۔ و من يتوكل على الله فهو حسبه (اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے، الطلاق – آیۃ 03)

🍀 جو اللہ کریم پر بھروسہ کرے تو خشکی کیا دریا بھی اسکے محافظ بنادئیے جاتے ہیں۔

🍀 ہمیں مسلسل ظاہری اسباب اختیار کرتے رہنا چاہیے مگر امید کی نظر اسباب پر نہیں صرف مُسَبِّبُ الاَسْبَاب (یعنی سبب بنانے والے کریم رب) پر رکھنی چاہیے۔

🍀 اہل ایمان اسباب اختیار کرتے ہیں اس پر انحصار نہیں کرتے لیکن اہل کفر اسباب پر انحصار کرتے ہیں۔

✍ ابو محمد عارفین القادری

13 اپریل 2020