أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ ‌ۚ وَاِنۡ يُّرِدۡكَ بِخَيۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِهٖ‌ ؕ يُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ ؕ وَهُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ۞

ترجمہ:

اور اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس تکلیف کو، کوئی دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ آپ کے لیے کسی خیر کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بےحد بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس تکلیف کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ آپ کے لیے کسی خیر کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بےحد بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (یونس : ١٠٧) 

اللہ تعالیٰ کا اصل مقصود اپنے بندوں کو نفع پہنچانا ہے نہ کہ ضرر پہنچانا

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہر قسم کا نقصان اور ہر طرح کا نفع، اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی قضاء و قدر کے تحت واقع ہوتا ہے اس میں کفر اور ایمان، اطاعت اور معصیت، راحت اور مصیبت، آلام اور لذات سب داخل ہیں اور جس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کسی مصیبت کو مقدر کرے دے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں ہے اور جس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کسی راحت کو مقدر کردے تو اس کو کوئی چھیننے والا نہیں ہے آیت کے پہلے حصہ میں یہ فرمایا ہے کہ وہی تکلیفوں کو دور کرنے والا ہے اور دوسرے حصہ میں یہ فرمایا ہے کہ وہی خیر عطا کرنے والا اور فضل فرمانے والا ہے اور اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصل مقصود خیر پہنچانا اس کا اصل مقصود نہیں ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٥٥٤) ان چاروں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ خیر اور شر اور نفع اور ضرر بالذات صرف اللہ عزوجل کی طرف راجع ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور استحقاق عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر وقت اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی خوشبودار ہوائوں کے پیچھے پڑے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی خوشبودار ہوائیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہے پہنچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کرو کہ وہ تمہارے عیوب کو چھپائے اور تم کو تمہارے خوف کی چیزوں سے محفوظ رکھے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ١١ ص ٩٥، تہذیب تاریخ دمشق ج ٦ ص ٤٣٥، کنز العمال رقم الحدیث : ٣١٨٩، تمہید ج ٢ ص ٦٤٩، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٩ ھ، فتح المالک ج ٩ ص ٦٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ١١٠٨) 

اپنے گناہوں کو چھپانا واجب ہے اور ظاہر کرنا حرام ہے

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہی بےحد بخشنے والا بہت رحم فرمانا والا ہے۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے وہ اس کو بخش دیتا ہے خواہ اس نے کوئی گناہ کیا ہو حتیٰ کہ وہ توبہ کرنے سے شرک اور کفر کو بھی بخش دیتا ہے۔ انسان سے اگر کوئی گناہ ہوجائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ کسی پر اس گناہ کو ظاہر نہ کرے اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے۔ حافظ ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر المالکی القرطبی المتوفی ٤٦٣ ھ لکتے ہیں : ہر مسلمان پر ستر کرنا (پردہ رکھنا) واجب ہے خصوصاً اپنے اوپر جب اس سے کوئی بےحیائی کا کام سرزد ہوجائے اور دوسرے پر بھی ستر کرے جب تک کہ حاکم نے اس پر حد جاری نہ کی ہو اس سلسلہ میں بکثرت احادیث وارد ہیں جن میں سے ہم بعض احادیث کا یہاں ذکر کریں گے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی سے دنیا کی کوئی پریشانی دور کی اللہ اس کی آخرت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کر دے گا جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے اللہ اس کا دنیا اور آخرت میں پردہ رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ بندے کی اس وقت تک مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤٢٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٢٥، مسند احمد ج ٢ ص ٥٠٠)

حافظ ابن عبدالربر فرماتے ہیں : جب بندے کو دوسرے کی پردہ پوشی پر اجر ملتا ہے تو اپنی پردہ پوشی کرنے پر بھی اجر ملے گا بلکہ اس میں زیادہ اجر ملے گا اور بندے پر لازم ہے کہ وہ توبہ کرے اور اللہ سے رجوع کرے اور اپنے پچھلے کاموں پر نادم ہو اور اس سے انشاء اللہ اس کے گناہ مٹ جائیں گے۔ العلاء بن بدر نے روایت کیا ہے کہ جو امت اپنے گناہوں سے استغفار کر رہی ہو اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک نہیں کرتا۔ بحث ہم الانعام : ٥٠ اور الاعراف : ٢٠٣ میں کرچکے ہیں۔ اس آیت میں آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے یعنی عبادت کی مشقت پر آپ صبر کیجیے یہ مکی سورت ہے اس وقت تک قتال اور جہاد فرض نہیں ہوا تھا اس لیے اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دشمنان اسلام کی اذیت رسانیوں پر آپ صبر کیجیے آپ نے امت کو بھی زیادیتوں پر صبر کرنے کا حکم دیا ہے :

حضرت اسید بن حضیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی میں عرض کیا : آپ مجھے عامل نہیں بناتے جس طرح آپ نے فلاں شخص کو عامل بنایا ہے۔ آپ نے فرمایا : عنقریب تم میرے بعد ترجیحات کو دیکھو گے سو تم صبر کرنا حتیٰ کہ تم مجھ سے ملاقات کرو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٧٨٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٨٩، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٣٨٣، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٣٤٤) 

سورة یونس کی اختتامی دعا آج بروز بدھ بعد از نماز عصر مورخہ ٢٤ رجب ١٤٢٠ ھ/ ٣ نومبر ١٩٩٩ ء سورة یونس کا ترجمہ اور تفسیر ختم ہوگئی۔ الہ العالمین ! جس طرح آپ نے سورة یونس تک کی تفسیر اپنے فضل اور کرم سے مکمل کر ادی ہے قرآن مجید کی باقی سورتوں کا ترجمہ اور تفسیر بھی مکمل کر وادیں۔ الٰہ العالمین ! اس تفسیر کو مخالفین کے لیے ہدایت اور موافقین کے لیے استقامت کا ذریعہ بنا دے اور محض اپنے فضل اور اپنے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے توسل اور آپ کی شفاعت سے مصنف، اس کے والدین، اساتذہ، تلامذہ، احباب اور اس کتاب کے معاونین، ناشرین اور قارئین کی مغفرت فرما ہم سب کو دنیا اور آخرت کی ہر پریشانی اور بلا سے محفوظ رکھ اور دنیا اور آخرت کی ہر سعادت اور کامرانی عطا فرما۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد وعلی الہ و اصحابہ و ازواجہ و علماء ملتہ واولیاء امتہ اجمعین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 107