أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِى الۡاَرۡضِ كُلُّهُمۡ جَمِيۡعًا‌ ؕ اَفَاَنۡتَ تُكۡرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر آپ کا رب چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں پر جبر کریں گے حتیٰ کہ وہ ایمان لے آئیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر آپ کا رب چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں پر جبر کریں گے حتیٰ کہ وہ ایمان لے آئیں۔ (یونس : ٩٩) 

روئے زمین کے تمام لوگوں کو مومن بنانا،

اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے لیکن اس کی حکمت میں نہیں اس سورت کی ابتداء سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں کفار کے شبہات بیان کیے گئے ہیں ان کا ایک شہ یہ تھا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ کی نبوت کو نہ مانا گیا تو اللہ تعالیٰ منکرین پر آسمان سے عذاب بھیجے گا اور اپنے نبی اور مومنوں کی مدد فرمائے گا وہ یہ کہتے تھے کہ ہم آپ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں تو ہم پر آسمانی عذاب کیوں نہیں آتا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کا قصہ بیان فرمایا : ان کی قومیں بھی جلد عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتی تھیں، بالآخر ان پر عذاب آگیا اور حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم نے آثار عذاب دیکھتے ہی توبہ کرلی اس لیے ان سے عذاب ٹل گیا اور چونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی قوم کے ایمان لانے پر بہت حریص تھے اور اس کے لیے بہت جدوجہد کرتے تھے اور ان کے ایمان نہ لانے سے آپ سخت رنجیدہ ہوتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے پر ملول خاطر نہ ہوں کیونکہ جس کے متعلق ازل میں اللہ عزوجل کو یہ علم تھا کہ وہ کفر کے مقابلہ میں ایمان کو اختیار کرے گا اسی کے لیے اللہ تعالیٰ ایمان پیدا کرے گا اور جس کے متعلق ازل میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ وہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو اختیار کرے گا وہ اس کے لیے ایمان کو پیدا نہیں کرے گا بلکہ کفر کو پیدا کرے گا اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ وہ لوگوں کے اختیار کے بجائے اضطراری طور پر ان کو ایمان والا بنا دے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ابتداء مومن اور مطیع پیدا فرمایا اور ان میں ایمان لانے یا نہ لانے کا اختیار نہیں رکھا اور نہ ان کے لیے ثواب اور عذاب کو مقدر فرمایا سو اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت میں ہوتا تو وہ روئے زمین کے تمام انسانوں کو مومن بنا دیتا لیکن یہ چیز اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو ہے اس کی حکمت میں نہیں ہے اور آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے صرف تبلیغ کے لیے بھیجا ہے اور اگر کوئی شخص آپ کی پیہم تبلیغ کے باوجود ایمان نہیں لاتا تو آپ غم نہ کریں کیونکہ آپ کو اس لیے تو نہیں بھیجا گیا کہ آپ ان پر جبر کر کے ان کو کلمہ پڑھا دیں، اسی مفہوم میں قرآن مجید کی اور بھی آیات ہیں : 

نحن اعلم بما یقولون وما انت علیھم بجبار سافذکر بالقرآن من یخاف وعید۔ (ق : ٤٥) جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں ہم اس کو خوب جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں سو آپ اس کو قرآن سے نصیحت فرمائیں جو میرے عذاب کی وعید سے ڈرتا ہو۔ فان اعرضو فما ارسلنک علیھم حفیظا ان علیک الا البلغ۔ (الشوریٰ : ٤٨) پس اگر وہ روگردانی کریں تو ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا آپ کے ذمہ تو (دین کو) صرف پہنچانا ہے۔ انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء وھو اعلم بالمھتدین (القصص : ٥٦) بیشک آپ (اسے) ہدایت یافتہ نہیں بناتے جس کا ہدایت یافتہ ہونا آپ کو پسند ہو لیکن اللہ ہدایت یافتہ بناتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت قبول کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 99