أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَيَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر ایمان لے آئے، اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر کی) نجاست ڈال دیتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر ایمان لے آئے اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر کی) نجاست ڈال دیتا ہے۔ (یونس : ١٠٠) 

انسان مجبور محض ہے نہ مختار مطلق یعنی کسی نفس کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ، اس کی مشیت اور اس کی توفیق کے بغیر ایمان لے آئے یا کسی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی مشیت کے بغیر ایمان لے آئے انسان کو ایمان لانے کا اختیار دیا ہے اور وہ ایمان یا کفر میں سے جس کو اختیار کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ وہی پیدا کردیتا ہے اور اس کو ازل میں اس کا علم تھا کہ وہ ایمان یا کفر میں سے کس چیز کو اختیار کرے گا اور اسی چیز کو اس نے اس کے لیے لکھ دیا اور اسی کا نام تقدیر ہے سو نہ تو انسان مجبور محض ہے کیونکہ اس کو اختیار دیا گیا ہے اور نہ وہ اپنے افعال کا خالق ہے۔ اس کے بعد فرمایا : اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ کفر کی نجاست ڈال دیتا ہے یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدت کے دلائل پر غور نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں اپنی ذات پر جو نشانیاں رکھی ہیں اور خود انسان کے اندر جو اس کی ذات پر نشانیاں ہیں ان میں غور و فکر نہیں کرتے اور وہ باپ دادا کی اندھی تقلید پر جمے رہتے ہیں ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ کفر کی نجاست ڈال دیتا ہے یا ان کے لیے عذاب مخلد کو مقدر کردیتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 10 يونس آیت نمبر 100