أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَاۤ اِنَّهُمۡ يَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡهُ‌ؕ اَلَا حِيۡنَ يَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِيَابَهُمۡۙ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّوۡنَ وَمَا يُعۡلِنُوۡنَ‌ۚ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ۞

ترجمہ:

سنو ! وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ وہ اس سے چھپائیں، سنو ! جس وقت وہ اپنے کپڑے اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں (اس وقت بھی) وہ اس کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور جس کو وہ ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ سینوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سنو وہ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ وہ اس سے چھپائیں، سنو ! جس وقت وہ اپنے کپڑے اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں (اس وقت بھی) وہ اس کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور جس کو وہ ظاہر کرتے ہیں بیشک وہ سینوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔ (ھود : ٥) 

منافقین کے سینہ موڑنے کے محامل

امام محمد بن جعفر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : عبداللہ بن شداد بن الہاد بیان کرتے ہیں کہ منافقین جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرتے تو اپنا سینہ موڑ لیتے اور سر جھکا لیتے تاکہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چھپ جائیں تب یہ آیت نازل فرمائی۔

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ منافقین حق میں شک کرتے تھے اور اپنی استطاعت کے مطابق اللہ سے چھپنے کی کوشش کرتے تھے۔ قتادہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنا سینہ اس لیے موڑتے تھے کہ اللہ کی کتاب کو نہ سن سکیں۔ بعض نے کہا : منافقین اپنے دلوں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بغض اور عداوت کو چھپاتے تھے اور ظاہر یہ کرتے تھے کہ ان کو آپ سے محبت ہے اور وہ آپ پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ وہ کفر کو اپنے سینوں میں لپیٹتے ہیں اور تاکہ کفر کو اللہ سے چھپائیں حالانکہ اللہ تعالیٰ پر ان کا ظاہر اور باطن سب عیاں ہیں اور بعض نے کہا : جب وہ ایک دوسرے سے سرگوشی کرتے تھے تو اپنا سینہ موڑتے تھے تاکہ ان کی سرگوشیاں ظاہر نہ ہوں۔ (جامع البیان ج ١١ ص ٢٣٨۔ ٢٣٦، مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 5