فرمان خدا کا پاس کرو

عورتوں کو اپنی زندگی میں یہ بات کبھی فراموش نہ کرنی چاہیئے کہ اللہ نے اپنے کلام پاک میں اپنی طرف سے شوہر کی بیوی پر حاکمیت کا اعلان فرمایا ہے تو عورت کو اپنے شوہر کو حاکم ماننا ہی چاہیئے اس لئے کہ یہ فرمان الٰہی سے ماخوذ ہے،عورتیں شادی کے بعد اس بات کو فراموش کر جاتی ہیں اور مغربی تہذیبزدہ عورتوں کی چال میں آکر آتے ہی خود حاکم بننا چاہتی ہیں،وہ کسی کی نہیں سنتیں سب کو اپنی چاہت پر رکھنے کی کوشش کرتی ہیں،عورتوں کا یہ رویہ پیار کی وجہ سے اس کے میکے میں تو چل سکتا ہے لیکن شوہر کے یہاں پہنچنے کے بعد نہیں دیار غیر میں اس غیر ہی کی چلنے والی ہے،جبر و تشدد کا نظام وہاں نہیں چلنے والا ہے تواضع و انکساری والا نظام ہی کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے،اس لئے مسلمان عورتوں کو مغربی تہذیب نہیں اپنانی ہے جس سے گھر اکھاڑا بن جائے اور طلاق کے بموں کی برسات کے بعد ہمیں اپنی شکشت کا اعلان کرنا پڑے ،اور پھر آوارگی کی ہلاکتوںاور مایوسیوں کی ظلمتوں میںبھٹکنا پڑے ،بھٹکنے والی زندگی مؤمن کی نہیں ہو سکتی اس کے رہبر و رہنما تو اللہ اور رسول ہیں،شادی کے بعد کی دنیا محبتوں کی دنیا ہے یہاں ہر بات محبتوں کے گلدستے میں پیش کی جائیگی اور تواضع کی عقیدتوں میں قبول کی جائے گی ،عورتوں کو اپنی حاکمیت کا بھوت دماغ سے نکال کر کامیابی کے خواب کو شرمندہٗ تعبیر کرنے کے لئے محکومیت کا اعلان کرنا ہوگا،اور یہ اعلان کرنے میں عار کیوں محسوس کی جائے ؟یہ تو اللہ کے فرمان پر عمل کی بات ہے،فرمان الٰھی کی خلاف ورزی باعث عار ہے اس پرعمل نہیں،مسلمان عورتوں کی پکار تو یہ ہونی چاہیئے کہ دنیا میںجس عورت کو حاکمیت کرنی ہو کرے ہم تو مسلمان ہیں ہمنے اللہ کے فرمان کے مطابق اپنے شوہروں کی حاکمیت کو تسلیم کرلیا ہے،اس لئے ہماری زبان سے اٰمنا صدقنا کے سوا کوئے لفظ نکل نہیں سکتا

من مانی کون کرے

من مانی کون کرے جو اپنے آپ کو حاکم سمجھے،نافرمانی کون کرے جو اپنے آپکو بڑا سمجھے،اطاعت سے جی کون چرائے جو خود محتار ہو،حکم عدولی کون کرے جس میں محبت کی کمی ہو،زبان درازی کون کرے جو شرم سے عاری ہو،مشورہ کو ہلکا کون جانے جس کے پاس علم کی کمی ہو،اپنی چاہتوں کو قربان کون نہ کرے جسے اپنے مستقبل کی پڑی نہ ہو،یہ ساری باتیں عورت کی ازدواجی زندگی کے لئے زہر ہلاہل ہیں،میرے پیارے آقا ﷺ کی پیاری دیوانیو ! یہ زہر مغربی تہذیب کی تخریب کاری کا ہے ہمیں اسکا اثر کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے پاس اللہ و رسول کا عطا کیا ہوا تریاق قرآن و حدیث کی تعلیمات کی صورت میں موجود ہے،ہمیں من مانی نہیں کرنی ہے ہمیں اسی کے فرمان پر اعاعت کرنی ہے جن پر ایمان کو ہم نے اپنے دل کی اتہاہ گہرائیوں میں جگہ دے دی ہے،ہم اپنے عمل سے یہ واضح کر دیں کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام کی تہذیب ہماری پہچان ہے