مرزا علی انجینئر کے شہرہ آفاق جھوٹ (6)

اہل سنت پر بہتان عظیم

تعصّب و ہٹ دھرمی سے بالاتر ہوکر جن احباب نے میری گذشتہ چند پوسٹیں پڑھیں ان پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہوگی کہ مرزا جہلمی ایک جھوٹا انسان ہے کذاب بیانی دین اسلام کی معتبر ہستیوں پر بہتان درازی کرنا مرزا جہلمی کا پسندیدہ ترین مشغلہ بن چکا ہے ۔

اس پوسٹ سے قبل مرزا علی انجینئر کے پانچ شہرہ آفاق جھوٹ دوستوں کی خدمت میں پیش کرچکا کہ جنکے لنکس آپکو پوسٹ کے آخر میں مل جائیں گے آج مرزا جہلمی کا چھٹا جھوٹ منظر عام پر

مرزا علی جہلمی اپنے ایک بیان میں اہل سنت پر بہتان باندھتے ہوے کہتا ھے کہ سنی حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ذاتی علم غیب مانتے ہیں معاذاللہ

اسکے کچھ عرصہ بعد مرزا علی کے فالورز نے مرزا جہلمی کی ایک نشت میں اسی بہتان کو بیان کیا ۔۔۔۔

اب مرزا جہلمی کو چاہیے تو یہ تھا کہ ہماری طرف جو عقیدہ منسوب کیا اس پر دلیل قائم کرتا ۔۔

لیکن دلیل قائم کرنا تو بہت دور کی بات اس نشت میں اہل سنت کی جانب ایک اور بہتان منسوب کرلیے کہ اہل سنت کے نزدیک اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یکبارگی سے تمام علم عطاء کیا۔

اب ان دو ویڈیوز میں مرزا جہلمی نے اہل سنت کی جانب دو بہتانوں کی نسبت کی

(1) سنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ذاتی علم مانتے ہیں معاذاللہ

(2) سنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے یکبارگی سے تمام علم مانتے ہیں۔

تمام جہلمیوں کو چیلنج ھے کہ مرزا کے اس دعوے پر ثبوت قائم کریں ورنہ اسکا جھوٹا ہونا تو روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا ۔

اہل سنت کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے متلعق جو عقیدہ ھے مختصراً بیان کردیتا ہوں تاکہ کسی قسم کی ٍغلط فہمی نا رھے۔

بخاری شریف میں ایک حدیث مبارکہ ذکر کرتے ہیں ہمارا عقیدہ نا اس سے کم ھے اور نا زیادہ

حضرت عمرؓ سے مروی ھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری مجلس میں قیام فرماکر ابتدائے آفرینش سےلیکر جنتیوں اور دوذخیوں کے اپنی منزل میں داخل ہونے تک کی خبر دی ۔

(بخاری شریف، کت بدء الخلق، باباب ما جاء فی قول اللہ تعالیٰ وھو یبدءالخلق، ص 790 ، حدیث 3192)

اب اس حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا کہ دنیا کی ابتداءسے لیکر انتہا تک تمام چیزوں کو جانتے ہیں یہی اہل سنت کا عقیدہ ھے۔

امام احمدرضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور زمانہ کتاب الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبہ میں علم باری تعالیٰ اور علم رسول کی جو تقسیم بیان کرتے ہیں اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بریلوی ہر گز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو علم الہی جیسا تسلیم نہیں کرتے۔

فرماتے ہیں کہ اللہ کیلئے ہم ذاتی علم مانتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے عطائی

(1) علم ذاتی غیر محیط اللہ کیلئے ھے اور علم عطائی محیط حضور کیلئے ھے۔

(2) علم مخلوقات متناہی، علم الٰہی غیر متناہی____دونوں میں نسبت تو ناممکن، کجا مساوات کا دعوی۔

(3) علم ذاتی واجب للذات اور علم عطائی ممکن ۔

(4) وہ ازلی یہ حادث

(5) وہ غیرمخلوق یہ مخلوق

(6) وہ واجب البقاء یہ جائز الفناء

(7) اسکا تغیر محال اسکا ممکن۔

(صفحہ نمبر 26)

اسی طرح ایک اور مقام پر نہایت واضح الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ

ذاتی علم تو صرف اللہ کیلئے کیلئے ہی مخصوص ھے۔کسی غیر اللہ کا اس میں حصہ نہیں اور جہان میں ایسا علم کسی کیلئے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔جو شخص کسی کیلئے ایک ذرہ سے کمتر بھی ذاتی علم ثابت کرے گا وہ یقینا مشرک اور تباہ و برباد ہوجائے گا۔

(الدوۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ، ص 50 ،مترجم ،ناشر مکتبہ نبویہ گنج بخش روڑ لاہور)

ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اہل سنت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے قطعاً ذاتی علم غیب کا عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ اسے مشرک جانتے ہیں۔

اب مرزا جی نے اپنے بیانات میں جو الزام لگائیں ہیں برائے مہربانی دلائل کے ساتھ انکے جوابات دیے جائیں۔

ویڈیوز کمنٹس میں سینڈ کردی جائیں گی۔

1) حضرت علیؓ پر بہتان کے انھوں نے خوارج کا نماز جنازہ پڑھایا 

(2) امام بخاری و امام مسلم پر بہتان 

(3) امام ابن کثیر پر بہتان لگانا کے انھوں نے کذاب مختار ثقفی کی تعریف کی 

(4) امام اعظم ابوحنیفہ پر بہتان کے وہ امام مالک کے شاگرد ہیں 

(5)امام مسلم پر بہتان 

مرزا جہلمی اس صدی کا بہت بڑا کذاب ھے اسکے ماننے والوں سے چیلنج ھے کہ اسکے جھوٹوں کا جواب دیں ورنہ جھوٹے انسان کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔

MirzaonAhlesunnat