أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَ زِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

جو لوگ (صرف) دنیا کی زندگی اور اس کی آسائش کو طلب کرتے ہیں تو ہم ان کے کل اعمال کا صلہ یہیں دے دیں گے اور یہاں ان کے صلہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ (صرف) دنیا کی زندگی اور اس کی آسائش کو طلب کرتے ہیں تو ہم ان کے کل اعمال کا صلہ یہیں دے دیں گے اور یہاں ان کے صلہ میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ہے اور انہوں نے دنیا میں جو کام کیے وہ ضائع ہوگئے اور جو کچھ وہ کرتے تھے وہ برباد ہے۔ (ھود : ١٦۔ ١٥) 

ریاکاری کی مذمت اور اس پر وعید

اس مضمون کی قرآن مجید میں اور بھی آیات ہیں : من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا ما نشاء لمن نرید ثم جعلنا لہ جھنم یصلھا مذموما مدحورا۔ ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن فالئک کان سعیھم مشکورا۔ (بنی اسرائیل : ١٩۔ ١٨) جو لوگ صرف دنیا کے خواہش مند ہیں، ہم ان کو اس دنیا سے جتنا ہم چاہیں اس دنیا میں دے دیتے ہیں، پھر ہم ان کے لیے دوزخ کو ٹھکانا بنادیا ہے وہ اس دوزخ میں مذمت کیا ہوا اور دھتکارا ہوا داخل ہوگا۔ اور جو شخص مومن ہو اور وہ آخرت کا ارادہ کرے اور اسی کے لیے کوشش کرے تو ان ہی لوگوں کی کوشش مقبول ہوگی۔ من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدنیا نونہ منہا و ما لہ فی الاخرۃ من نصیب۔ (الشوریٰ : ٢٠) جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ کرے، ہم اس کے لیے اس کی کھیتی کو زیادہ کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا ارادہ کرے ہم اس کو اس میں سے دیں گے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : اس آیت کے متعلق چار قول ہیں :

(١) اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ اس آیت کا حکم تمام مخلوق کے لیے عام ہے۔

(٢) ابوصالح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ یہ اہل قبلہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

(٣) حضرت انس (رض) نے کہا کہ یہ یہود اور نصاریٰ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

(٤) مجاہد نے یہ کہا کہ یہ ریاکاروں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (زاد المسیر ج ص ٨٤۔ ٨٣، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

انسان جس کام کو جس نیت سے کرے گا اسی نیت کے اعتبار سے اس کو صلہ دیا جائے گا، اگر اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کوئی عمل کرے گا تو آخرت میں اس پر اجر ملے گا اور اگر لوگوں کو دکھانے اور سنانے کے لیے عمل کرے گا تو وہ عمل اس کے لیے باعث وبال ہوگا۔

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اعمال کا مدار نیت پر ہے، ہر شکص کو اس کی نیت کے مطابق ثمر ملتا ہے، سو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف شمار ہوگی اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف شمار کی جائے گی جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١، ٥٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٠٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٢٠١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٤٧، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٧٩٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٢٧، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٤٧٣٦، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٩٥٦٧، مسند احمد ج ٤ ص ٣٩٢، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٩ ص ١٦٨۔ ١٦٧، شرح السنہ رقم الحدیث : ٦٢٢٦)

سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس لوگوں کا ہجوم تھا، جب لوگ ان سے چھٹ گئے تو اہل شام میں سے ناتل نامی ایک شخص نے کہا : اے شیخ ! آپ مجھے وہ حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو۔ آپ نے فرمایا : ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے : قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا وہ شہید ہوگا، اس کو بلایا جائے گا اور اسے اس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی، جب وہ ان نعمتوں کو پہچان لے گا تو (اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا : تو نے ان نعمتوں سے کام لیا ؟ وہ کہے گا : میں نے تیری راہ میں جہاد کیا حتیٰ کہ شہید ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو جھوٹ بولتا ہے، بلکہ تو نے اس لیے قتال کیا تھا تاکہ تو بہادر کہلائے سو تجھے بہادر کہا گیا، پھر اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا، حتیٰ کہ اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ایک شخص نے علم حاصل کیا اور لوگوں کو تعلیم دی اور قرآن مجید پڑھا، اس کو بلایا جائے گا اور اس کو اس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی، جب وہ ان نعمتوں کو پہچان لے گا تو (اللہ تعالیٰ ) اس سے فرمائے گا : تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا ؟ وہ کہے گا : میں نے علم حاصل کیا اور اس علم کو سکھلایا اور تیرے لیے قرآن مجید پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو جھوٹ بولتا ہے، تو نے اس لیے علم حاصل کیا تھا تاکہ تو عالم کہلائے اور تو نے قرآن پڑھا تاکہ تو قاری کہلائے سو تجھے (عالم اور قاری) کہا گیا، پھر اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا، حتیٰ کہ اس کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ایک شخص پر اللہ نے وسعت کی اور اس کو ہر قسم کا مال عطا کیا، اس کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور وہ نعمتیں دکھائی جائیں گی اور جب وہ ان نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا ؟ وہ کہے گا : میں نے ہر اس راستہ میں خرچ کیا جس راستہ میں مال خرچ کرنا تجھ کو پسند ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تو جھوٹ بولتا ہے، تو نے یہ کام اس لیے کیے تاکہ تجھ کو سخی کہا جائے سو تجھ کو سخی کہا گیا، پھر اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا اور پھر اس کو آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٠٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٨٢، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٣٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٠٨، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤١٤٣، مسند احمد ج ٢ ص ٣٢١، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٩ ص ١٦٨ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 15