أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَئِنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡهُمُ الۡعَذَابَ اِلٰٓى اُمَّةٍ مَّعۡدُوۡدَةٍ لَّيَـقُوۡلُنَّ مَا يَحۡبِسُهٗؕ اَلَا يَوۡمَ يَاۡتِيۡهِمۡ لَـيۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡهُمۡ وَحَاقَ بِهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم ایک معین مدت تک ان سے عذاب موخر کردیں تو وہ ضرور نہ کہیں گے کہ عذاب کو کس چیز نے روک لیا ؟ سنو جس دن ان پر وہ عذاب واقع ہوگا تو پھر وہ ان سے دور نہیں کیا جائے گا اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان کا احاطہ کرے گا۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ہم ایک معین مدت تک ان سے عذاب موخر کردیں تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ عذاب کو کس چیز نے روک لیا ؟ سنو جس دن ان پر وہ عذاب واقع ہوگا تو پھر وہ ان سے دور نہیں کیا جائے گا اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان کا احاطہ کرلے گا۔ (ھود : ٨) 

ربط آیات اس سے پہلی آیت کے اخیر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اور اگر آپ ان سے کہیں کہ تم یقینا موت کے بعد اٹھائے جائو گے تو کافر ضرور یہ کہیں گے کہ یہ صرف کھلا ہوا جادو ہے اب ان کی خرافات میں سے ایک اور باطل قول کو نقل فرماتا ہے کہ جب ان سے وہ عذاب موخر ہوگیا جس عذاب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ڈرایا تھا تو انہوں نے آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا : یہ عذاب کس وجہ سے ہم سے روک لیا گیا ! اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کا جو وقت معین کیا ہے، جب وہ وقت آجائے گا تو پھر وہ عذاب آجائے گا جس کا وہ مذاق اراتے تھے۔ اس عذاب سے مراد یا تو دنیا کا عذاب ہے یا آخرت کا عذاب ہے، اگر دنیا کا عذاب مراد ہو تو یہ وہ عذاب ہے جو غزوہ بدر میں ان کو ذلت آمیز شکست کی صورت میں حاصل ہوا تھا اور اگر اس سے آخرت کا عذاب مراد ہے تو وہ قیامت کے بعد ان پر نازل کیا جائے گا۔ 

قرآن مجید اور احادیث میں لفظ ” امت “ کے اطلاقات اس آیت میں فرمایا ہے :

اگر ہم امت معدودہ تک عذاب کو ان سے موخر کردیں، اس آیت میں امت کا معنی مدت ہے، لغت عرب میں لفظ امت کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : امت ہر اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی ایک چیز میں مشترک ہو یا کوئی ایک امران کا جامع ہو، خواہ وہ امر دین واحد ہو یا زمان واحد ہو یا مکان واحد ہو، خواہ یہ امر جامع اختیاراً ہو یا اضطراراً ہو، اس کی جمع امم ہے۔ قرآن مجید میں ہے : وما من دابۃ فی الارض ولا طئر یطیر بجناحیہ الا امم امثالکم۔ (الانعام : ٣٨) زمین پر ہر چلنے والا (چوپایہ) اور (فضا میں) اپنے بازوئوں سے اڑنے والا ہر پرندہ تمہاری ہی مثل جماعتیں ہیں۔ جالا بننے والی مکڑی ہو یا گھن لگانے والا کیڑا ہو یا ذخیرہ اندوزی کرنے والی چیونٹی ہو یا چڑیا اور کبوتر ہوں، ان سب کو اللہ تعالیٰ نے مسخر کر کے اپنی اپنی نوع میں ایک مخصوص وصف کے ساتھ جمع کردیا ہے۔ کان الناس امۃ واحدۃ۔ (البقرہ : ٢١٣) سب لوگ ایک امت تھے۔ یعنی سب لوگ کفر اور گمراہی کے ایک نظریہ پر مجتمع تھے۔ ولو شاء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ۔ (ھود : ١١٨) اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت کردیتا۔ یعنی سب لوگوں کو ایمان میں مجتمع کردیتا۔ ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر۔ (آل عمران : ١٠٤) اور تم میں سے لوگوں کا ایک گروہ ہونا چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے۔ یعنی تم میں سے لوگوں کی ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو علم اور اعمال صالحہ میں لوگوں کے لیے مقتدا ہو۔ انا وجدنا اباء نا علی امۃ۔ (الزخرف : ٢٢) ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا۔ واذ کر بعد امۃ۔ (یوسف : ٤٥) اسے ایک مدت کے بعد (یوسف) یاد آیا۔ یعنی جب ایک زمانہ میں مجتمع لوگ یا ایک دین پر لوگ گزر گئے۔ ان ابراھیم کان امۃ فانتا للہ۔ (النحل : ١٢٠) بیشک ابراہیم (اپنی اجتماعی عبادات کے اعتبار سے) ایک امت تھے، اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں ایک جماعت کے قائم مقام تھے، جیسے کہتے ہیں فلاں شخص فی نفسہٖ ایک قبیلہ ہے یا فلاں شخص اپنی ذات میں انجمن ہے۔ (المفردات ج ١ ص ٢٩۔ ٢٨، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ) علامہ ابو السعادات المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : حدیث میں ہے خمر (انگور کی شراب) سے بچو کیونکہ یہ ام الخبائث ہے۔ (سنن النسائی، الاشربہ : ٤٤) یعنی یہ شراب تمام خبائث اور خرابیوں کی جامع ہے۔ نیز حدیث میں ہے : اگر کتے تسبیح کرنے والی امت نہ ہوتے تو میں ان کو قتل کرنے کا حکم دیتا۔ (سنن ابودائود، الاضاحی : ٢٢، سنن الترمذی، الصید : ١٦، سنن النسائی، الصید : ١٠، مسند احمد ج ٤ ص ٨٥) ایک اور حدیث میں ہے : ہم امی امت ہیں، لکھتے ہیں نہ گنتی کرتے ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٧٦١، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢٣١٩، مسند احمد ج ٢ ص ٤٣) آپ کی مراد یہ تھی وہ اسی اصل پر ہیں جس پر اپنی ماں سے پیدا ہوئے تھے، انہوں نے لکھنا اور گنتی کرنا نہیں سیکھا پس وہ اپنی جبلت اولیٰ پر ہیں۔ امی کا ایک معنی ہے جو لکھتا نہ ہو۔ (النہایہ ج ١ ص ٦٩۔ ٦٨، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، ١٤١٨ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 8