أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَئِنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَةً ثُمَّ نَزَعۡنٰهَا مِنۡهُ‌ۚ اِنَّهٗ لَيَــئُوۡسٌ كَفُوۡرٌ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم اپنے پاس سے انسان کو رحمت (کی لذت) چکھائیں پھر اس سے اس رحمت کو واپس لے لیں (تو) یقینا وہ ناامید اور ناشکرا ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر ہم اپنے پاس سے انسان کو رحمت (کی لذت) چکھائیں پھر اس سے اس رحمت کو واپس لے لیں (تو) یقینا وہ ناامید اور ناشکرا ہوگا اور اگر ہم اس کو مصیبت پہنچنے کے بعد آسائش (کا ذائقہ) چکھائیں تو وہ ضرور (خوشی سے) کہے گا، میرے تمام مصائب دور ہوگئے، بیشک وہ اترانے والا شیخی خورہ ہے۔ ماسوا ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کیے، ان ہی کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (ھود : ١١۔ ٩) 

مصیبت میں کفار کا مایوس ہونا اور راحت میں ناشکری کرنا

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کفار کو عذاب ضرور ہوگا خواہ تاخیر سے ہو اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے وہ سبب بتایا جس سے ان کو عذاب ہوگا اور یہ کہ اس سبب کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں وہ قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں الانسان سے مراد مطلق انسان ہے پھر آیت : ١١ میں اس سے نیک اور صبر کرنے والے مسلمانوں کا استثناء فرمایا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے : والعصر۔ ان الانسان لفی خسر۔ الا الذین امنوا وعملوا الصلحت۔ (العصر : ٣۔ ١) زمانہ کی قسم بیشک انسان ضرور نقصان میں ہے۔ ماسوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے۔ اور اس کی نظیریہ آیت بھی ہے : ان لانسان خلق ھلوعا۔ اذا مسہ الشر جزوعا۔ واذا مسہ الخیر منوعا۔ الا المصلین۔ الذین ھم علی صلاتھم دائمون۔ (المعارج : ٢٣۔ ١٩) بیشک انسان بےصبر پیدا ہوا ہے۔ جب اسے کوئی مصیبت پہنچے تو گھبرا جاتا ہے اور جب اسے کوئی فائدہ پہنچے تو اس کو روکنے والا ہوتا ہے۔ ماسوا نمازیوں کے کے۔ جو اپنی نمازوں پر مداومت کرتے ہیں۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ الانسان میں الف لام عہد کا ہے اور اس انسان سے کافر انسان مراد ہے اور اس کی نظیریہ آیت ہے : ولا تایئسوا من روح اللہ انہ لا یایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون۔ (یوسف : ٨٧) اور اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو، کیونکہ اللہ کی رحمت سے صرف کافر مایوس ہوتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت تمام کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ آیت کسی خاص کافر کے متعلق نازل ہوئی ہو۔ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ص ١١، مطبوعہ بیروت) خلاصہ یہ ہے کہ مصیبت میں اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا اور راحت میں ناشکرا ہونا کفار کا شیوہ ہے۔ 

مومن کے لیے مصیبت اور راحت دونوں کا خیر ہونا

اس کے بعد فرمایا : ماسوا ان لوگوں کے جنہوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کیے ان ہی کے لیے بڑا اجر ہے، حدیث میں ہے :

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کے حال پر تعجب ہوتا ہے، اس کے ہرحال میں خیر ہے اور یہ مومن کے سوا اور کسی کا وصف نہیں ہے، اگر اس کو راحت پہنچے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اس کو مصیبت پہنچے تو صبر کرتا ہے اور وہ (بھی) اس کے لیے خیر ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٩٩، مشکوٰۃ رقم الحدیث : ٥٢٩٧، الترغیب و التہیب ج ٤ ص ٢٧٨، کنز العمال رقم الحدیث : ٧١٠)

حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کو کانٹا یا اس سے کم کوئی چیز چبھے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب سے اس کا ایک درجہ بلند کردیتا ہے اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٩٦٥، مسند احمد ج ٦ ص ٤٢، سنن کبریٰ ج ٣ ص ٣٧٣، موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٩٧٧، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٣١٢، صحیح بن حبان رقم الحدیث : ٢٩٢٥)

حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مومن کو جو بھی درد ہو یا تھکاوٹ ہو یا بیماری ہو، یا غم ہو یا فکر اور پریشانی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٤٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٧٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٠٣٨)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑی مصیبت کا بڑا اجر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو کسی مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے، جو اس سے راضی ہو تو اللہ اس سے راضی ہوتا ہے اور جو اس سے ناراض ہو تو اللہ اس سے ناراض ہوتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٣١، المستدرک ج ٤ ص ٦٠٨، شرح السنہ رقم الحدیث : ١٤٣٥)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مومن اور مومنہ پر اس کی جان میں، اس کی اولاد میں اور اس کے مال میں مصائب نازل ہوتے رہتے ہیں حتیٰ کہ وہ اس حال میں اللہ سے ملاقات کرتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩٩، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٣١، مسند احمد ج ٢ ص ٢٨٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٩١٣)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن جب مصائب میں مبتلا ہونے والوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام اور آسائش میں رہنے والے یہ کہیں گے کہ کاش دنیا میں ان کی کھالوں کو قینچیوں سے کاٹ دیا جاتا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٠٢، المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٢٤١، سنن کبریٰ ج ٣ ص ٣٧٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 9