أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا مِنۡ دَآ بَّةٍ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَ يَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا‌ؕ كُلٌّ فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞

ترجمہ:

اور زمین پر چلنے والے (ہر جاندار) کا رزق اللہ کے ذمہ (کرم پر) ہے وہ اس کے قیام کی جگہ کو (بھی) جانتا ہے اور اس کی سپردگی کی جگہ کو بھی جانتا ہے سب کچھ روشن کتاب میں مذکور ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور زمین پر چلنے والے ( ہر جاندار) کا رزق اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے وہ اس کے قیام کی جگہ کو (بھی) جانتا ہے اور اس کی سپردگی کی جگہ کو (بھی) جانتا ہے سب کچھ روشن کتاب میں (مذکور) ہے۔ ہود ٦

ربط آیات :

اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا : وہ اس کو جانتا ہے جس کو وہ چھپاتے ہیں اور جس کو وہ ظاہر کرتے ہیں اور اسی کے موافق اس آیت میں واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام معلومات کا عالم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ہر جان دار کو اس کا رزق پہنچاتا ہے پس اگر وہ ہر جان دار کو، اس کی موت وحیات کو، اس کے قیام اور اس کے سفر کی جگہ کو نہ جانتا ہوتا تو وہ ان کو رزق کیسے پہنچاتا۔

دابۃ کا معنی دابۃ عرف میں چوپایہ کو اور زمین پر چلنے والے کو کہتے ہیں اور یہاں اس سے مراد ہے جان دار خواہ وہ مذکر ہو یا مونث اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جانداروں کی بہت سی اقسام ہیں۔ یہ دریائو، سمندروں اور خشکی میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی طبائع کی کیفیتوں کو، ان کے احوال کو اور ان کی غذائوں کو اور ان کی موافق اور مخالف چیزوں کو اور ان کے مسکنوں کو جانتا ہے۔ 

مستقر اور مستودع کا معنی حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ مستقر اور مستودع کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا : منتہائے سیر (چل پھر کر جہاں رک جائے) کو مستقر کہتے ہیں اور جس کو ٹھکانا بنایا جائے وہ مستودع ہے اور مجاہد نے کہا : مستقر سے مراد رحم مادر ہے اور مستودع سے مراد باپ کی پشت ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٨٥)

امام ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ نے ان کے علاوہ اور بھی اقوال ذکر کیے ہیں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٦ ص ٢٠٠٤۔ ٢٠٠١)

مستودع سے مراد موت کی جگہ ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کی اجل (موت) کسی زمین میں ہو تو اس کی کوئی ضرورت اس کو وہاں پہنچا دیتی ہے اور جب وہ اس جگہ کی منتہٰی کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ سبحانہ اس کی روح کو قبض فرما لیتا ہے اور قیامت کے دن وہ زمین کہے گی : اے رب ! یہ وہ ہے جس کو تو نے میرے پاس ودیعت (امانت) رکھا تھا۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٦٣، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٤٠٣، المستدرک ج ١ ص ٣٦٧، شعب الایمان رقم الحدیث : ٩٨٨٩، اس حدیث کی سند صحیح ہے) 

اللہ تعالیٰ کے رزق پہنچانے کی مثالیں

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : روایت ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہوئی تھی ان کے دل میں اپنے گھر والوں کا خیال آیا (کہ انہوں نے کھانا کھلایا ہے یا نہیں) اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ایک چٹان پر لاٹھی ماریں، اس سے ایک پتھر ٹوٹ کر نکلا، پھر انہوں نے اس دوسرے پتھر پر لاٹھی ماری، اس سے ایک اور پتھر ٹوٹ کر نکلا انہوں نے اس پر بھی لاٹھی ماری اس سے پھر ایک اور پتھر نکلا اس پتھر میں چیونٹی کے برابر ایک کیڑا تھا اس کے منہ میں غذا کی قائم مقام کوئی چیز تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کیڑے کا کلام سنایا، وہ کہہ رہا تھا : پاک ہے وہ جو مجھے دیکھتا ہے اور میرا کلام سنتا ہے اور میری جگہ کو جانتا ہے اور مجھے یاد رکھتا ہے اور مجھے نہیں بھولتا۔ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٣١٨، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : حکیم ترمذی نے زید بن اسلم (رض) سے روایت کیا ہے کہ اشعریوں کی ایک جماعت جو حضرت ابوموسیٰ ، حضرت ابومالک اور حضرت ابوعامر (رض) پر مشتمل تھی، جب انہوں نے ہجرت کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ سفر میں جو کھانا تھا وہ ختم ہوچکا تھا۔ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھانے کا سوال کرنے کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔ جب وہ شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر پہنچا تو انہوں نے ایک شخص کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا : وما من دابۃ فی الارض الاعلی اللہ رزقھا۔ اس شخص نے کہا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک اشعریوں کی بہ نسبت چوپایوں کو رزق دینا زیادہ آسان تو نہیں ہے۔ وہ واپس آگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نہیں گیا اور اس نے اپنے اصحاب سے کہا : تم کو خوشخبری ہو تمہارے پاس مدد آنے والی ہے۔ اس کے اصحاب نے یہ سمجھا کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا ہوگا اور آپ نے طعام بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہوگا، اسی دوران دو آدمی ان کے پاس برتنوں میں کھانا لے کر آگئے جن میں گوشت کا سالن اور روٹیاں تھیں۔ انہوں نے سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر اس شخص نے اپنے بعض اصحاب سے کہا : تم یہ کھانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے جائو کیونکہ ہم پیٹ بھر کر کھاچکے ہیں، پھر جب وہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمارے لیے جو کھانا بھیجا تھا اس سے عمدہ اور لذیذ کھانا ہم نے کبھی نہیں کھایا۔ آپ نے فرمایا : میں نے تو تمہیں کوئی کھانا نہیں بھیجا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو آپ کی خدمت میں بھیجا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس نے کیا کیا تھا اور اپنے اصحاب سے کیا کہا تھا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کو اللہ نے یہ رزق دیا تھا۔ (الدر المنثور ج ٤ ص ٤٠٢۔ ٤٠١، مطبوعہ دارالفکر بیروت، ١٤١٤ ھ، الجامع لاحکام القرآن جز ٩ ص ٨) حرام رزق ہوتا ہے یا نہیں، اس پر مفصل بحث ہم نے البقرہ : ٣ میں کردی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 6