أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّكُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ يُمَتِّعۡكُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَ يُؤۡتِ كُلَّ ذِىۡ فَضۡلٍ فَضۡلَهٗ ‌ؕ وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّىۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ كَبِيۡرٍ ۞

ترجمہ:

اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو اور اس کے سامنے توبہ کرو وہ تم کو ایک مقرر مدت تک بہت اچھا فائدہ پہنچائے گا اور ہر زیادہ نیکی کرنے والے کو زیادہ اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم نے رو گردانی کی تو میں تم پر بہت بڑے دن کے عذاب کا خطرہ محسوس کرتا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت طلب کرو اور اس کے سامنے توبہ کرو وہ تم کو ایک مقرر مدت تک بہت اچھا فائدہ پہنچائے گا اور ہر زیادہ نیکی کرنے والے کو زیادہ اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم نے رو گردانی کی تو میں تم پر بہت بڑے دن کے عذاب کا خطرہ محسوس کرتا ہوں تم نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (ھود : ٤۔ ٣) 

استغفار کے حکم کے بعد توبہ کے حکم کی توجیہ

اللہ تعالیٰ نے مغفرت طلب کرنے اور توبہ کرنے کا حکم دیا ہے اور طلب مغفرت کو توبہ پر مقدم فرمایا ہے کیونکہ مغفرت مقصود بالذات ہے اور توبہ کرنا مغفرت کے حصول کا ذریعہ ہے، اس لیے وہ مقصود بالعرض ہے۔ اس ترتیب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اپنے سابقہ گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور آئندہ گناہ نہ کرنے کے لیے اس کے حضور توبہ کرو تیسری وجہ یہ ہے کہ پہلے ہر قسم کے شرک جلی اور خفی سے استغفار کرو پھر اپنے گناہوں پر توجہ کرو چوتھی وجہ یہ ہے کہ پہلے کبیرہ گناہوں پر استغفار کرو پھر صغیرہ گناہوں پر توبہ کرو پانچویں وجہ یہ ہے کہ فرائض اور واجبات میں کمی پر استغفار کرو اور محرمات اور مکروہات کے ارتکاب پر توبہ کرو۔ 

دنیا میں کافروں کی خوش حالی اور مسلمانوں کی بدحالی کی توجیہ اس آیت میں فرمایا ہے :

وہ تم کو ایک مقرر مدت تک بہت اچھا فائدہ پہنچائے گا۔ جب کہ ایک اور آیت اور احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں کافروں کو خوش حالی میں رکھے گا اور مسلمانوں کو تنگ دستی میں رکھے گا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولو لا ان یکون الناس امۃ واحدۃ لجعلنا لمن یکفر بالرحمن لبیوتھم سقفا من فضۃ ومعارج علیھا یظھرون ولیبیوتھم ابوابا وسررا علیھا یتکئون وزخرفا وان کل ذلک لما متاع الحیوۃ الدنیا والاخرۃ عند ربک للمتقین (الزخرف : ٣٥۔ ٣٣) اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں کی) ایک جماعت بن جائیں گے تو ہم ضرور رحمن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو اور ان کی سیڑھیوں کو جن پر وہ چڑھتے ہیں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھروں کے دروازوں کو اور ان کے تختوں کو جن پر وہ مسند آرائی کرتے ہیں (چاندی کا بنا دیتے) اور سونے کا اور بیشک یہ دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور (اچھی) آخرت آپ کے رب کے پاس اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا مومن کا قیدخانہ ہے اور کافر کی جنت ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٢٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٩٥٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١١٣، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٨٧، مسند احمد ج ٢ ص ٣٢٣، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٦٤٦٦، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٨٠٣، حلیتہ الاولیاء ج ٦ ص ٣٥٠، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤١٠٤، الکامل لا بن عدی ج ٣ ص ٨٨٩، المستدرک ج ٣ ص ٦٠٤)

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے زیادہ مصائب انبیاء پر آتے ہی، پھر علماء پر پھر جو ان کے زیادہ قریب ہوں اور پھر جو ان کے زیادہ قریب ہوں۔ (المستدرک ج ٣ ص ٣٤٢، کنزالعمال رقم الحدیث : ٦٧٨)

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! سب سے زیادہ مصیبت میں کون لوگ مبتلا ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : انبیاء پھر جو ان کے زیادہ مثل ہوں پھر جو ان کے زیادہ مثل ہوں ہر شخص اپنی دین داری کے اعتبار سے مصائب میں مبتلا ہوگا اگر وہ شدت سے دین پر قائم ہو تو اس پر مصائب بھی شدید ہوں گے اگر وہ معمولی سا دین پر قائم ہو تو اس پر اس کی دین داری کے لحاظ سے مصائب آئیں گے۔ بندہ پر اسی طرح مصائب آتے رہیں گے حتیٰ کہ وہ اس حال میں زمین پر چلے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٩٨، سنن ابودائود الطیالسی رقم الحدیث : ٢١٥، الطبقات الکبریٰ ج ٢ ص ٢٠٩، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٣٣، مسند احمد ج ١ ص ١٧٢، سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٧٨٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٢٣، مسند البزار رقم الحدیث : ١١٥٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٩٠١، المستدرک ج ١ ص ٤١، حلیتہ الاولیاء ج ١ ص ٣٦٨، السنن الکبریٰ ج ٣ ص ٣٧٢، شعب الایمان رقم الحدیث : ٩٧٧٥، شرح السنہ رقم الحدیث : ١٤٢٣)

قرآن مجید اور احادیث کی یہ تصریحات اس پر دلالت کرتی ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے وہ مصائب اور آلام مبتلا رہتا ہے اور سورة ھود کی زیر تفسیر آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہوگا وہ راحت اور آرام میں رہے گا کیونکہ اس میں فرمایا ہے : وہ تم کو ایک مقررہ مدت تک بہت اچھا فائدہ پہنچائے گا پس اس آیت اور ان تصریحات میں کس طرح موافقت ہوگی اس سوال کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) سورة ھود کی اس آیت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر اس طرح عذاب نازل نہیں فرمائے گا جس طرح اس سے پہلے کافروں کی بستیوں پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل فرمایا تھا۔

(٢) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بہرحال رزق عطا فرمائے گا اور ان کو بھوک پیاس، قحط اور خشک سالی کے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔

(٣) مسلمان کا مطح نظر اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی رضا ہوتی ہے اور اس پر جو مصائب اور آلام آتے ہیں وہ ان سے رنجیدہ اور کبیدہ خاطر نہیں ہوتا اس کو یقین ہوتا ہے کہ یہ مصائب اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور محبوب کے پاس سے جو کچھ بھی آئے وہ محب کے لیے کبھی رنج اور الم کا باعث نہیں ہوتا بلکہ وہ ان پر مسرور اور خوش ہوتا ہے کہ یہ اس کے محبوب کے پاس سے آئے ہوئے آلام ہیں اور اس کے محبوب کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے یہ کاملین کا مقام ہے اور عام مسلمان بھی دنیاوی مصائب سے ملول خاطر نہیں ہوتے ان کو یقین ہوتا ہے کہ یہ مصائب ان کے گناہوں کا کفارہ ہیں اور ان مصائب اور آلام کی وجہ سے جب وہ دنیا سے رخصت ہوں گے تو گناہوں سے پاک اور صاف ہو کر اللہ تعالیٰ سے آخرت میں ملاقات کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق ولنجزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون۔ (النحل : ٩٦) جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا البتہ جن لوگوں نے (عیش و آرام کی کمی یا مصائب پر) صبر کیا ہم ان کو ضرور ان کے بہترین نیک کاموں پر اجر عطا فرمائیں گے۔ اور کفار اور مشرکین ہرچند کہ مادی اور دنیاوی طور پر بہت عیش و آرام اور مال و دولت کی فراوانی میں رہتے ہیں لیکن ان کو ہر وقت یہ فکر اور پریشانی لاحق رہتی ہے کہ کہیں یہ مال ان کے پاس سے جاتا نہ رہے پھر جو شخص جتنا مالدار ہوتا ہے اس کے اتنے زیادہ دشمن ہوتے ہیں لہٰذا وہ دشمنوں اور ڈاکوئوں کی وجہ سے ہر وقت خطرات میں گھرا رہتا ہے، پھر کافر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے اس لیے وہ موت سے ہر وقت گھبراتے رہتے ہیں اس لیے وہ باوجود مال و دولت کی فراوانی کے طرح طرح کے تفکرات، اندیشوں اور پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں اور مادی عیشایوں کی بہتات کی وجہ سے وہ مہلک بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے وہ کینسر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جنسی بےاعتدالی میں زیادتی کی وجہ سے وہ ایڈز کے مریض بن جاتے ہیں، ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کا مرض ان میں عام ہوتا ہے ان پر دل کے دورے بکثرت پڑتے ہیں اور کتنے ہی لوگ فالج اور برین ہیمبرج کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ جنسی بےراہ روی اور آوارگی کی وجہ سے ان کا ذہنی سکون برباد ہوجاتا ہے ان کی گھریلو زندگی تلخ ہوجاتی ہے۔

ہمارے زمانہ میں (٩٩۔ ١٩٩٨ ء) امریکہ کے صدر بل کلنٹن اور مونیکا نس کی کا جو اسیکنڈ بنا تھا جس کی وجہ سے ساری دنیا میں امریکہ کے صدر کی جو رسوائی ہوئی تھی وہ اس کی واضح مثال ہے۔ ان لوگوں کی زندگی عدالتی طلاق کے مقدمات بھگتتے ہوئے گزر جاتی ہے ان کا ذہنی سکون بالکل ختم ہوجاتا ہے، یہ طبعی نیند سے محروم ہوجاتے ہیں اور سکون آور دوائوں کی بھاری مقدار کھائے بغیر ان کو نیند نہیں آتی، غرض مال و دولت کی ریل پیل کے باوجود ان کی زندگی بڑے کرب اور اذیت میں گزرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنگا (طہ : ١٢٤) اور جس نے میرے ذکر سے روگردانی کی تو یقیان اس کی زندگی بڑی تنگی میں گزرے گی۔ الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون۔ (الانعام : ٨٢) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک اور کبائر) کے ساتھ آلودہ نہیں کیا ان ہی کے لیے امن اور سکون ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ 

زیادہ نیکی کرنے والے کو زیادہ اجر دینے کی تحقیق

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ ہر زیادہ نیکی کرنے والے کو زیادہ فائد پہنچائے گا۔ زیادہ نیکی کرنے والے کو زیادہ فائدہ پہنچانے کی حسب ذیل وجوہات ہیں :

(١) امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا : جس شخص نے ایک گناہ کیا اس کا ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے اور جس شخص نے ایک نیکی کی تو اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اس نے دنیا میں جو ایک گناہ کیا تھا اگر اس کے گناہ کی دنیا میں سزا دے دی گئی تو اس کے مقابلہ میں اس کی دس نیکیاں باقی رہیں گی اور اگر دنیا میں اس کو اس کے ایک گناہ کی سزا نہیں دی گئی تو اس کی دس نیکیوں میں سے ایک نیکی کم کردی جائے گی اور اس کی نو نیکیاں پھر بھی باقی رہیں گی پھر فرما رہے تھے : اس شخص کی ہلاکت ہو جس کی اکائیاں اس کی دہائیوں پر غالب آجائیں۔ (جامع البیان ج ١١ ص ٢٣٥، رقم الحدیث : ١٣٨٧٢، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٨٥، الدر المنثور ج ٤ ص ٣٩٩)

(٢) جب انسان غیر اللہ کے ساتھ بالکل مشغول نہ ہو اور معرفت الٰہی کے اسباب کو حاصل کرنے میں انتہائی راغب ہو تو اس کا قلب نقش ملکوت (اللہ تعالیٰ کی صفات) کے لیے نگینہ بن جاتا ہے اور اس کا دل لاہوت (اللہ تعالیٰ کی ذات) کی تجلیات کے لیے آئینہ ہوجاتا ہے، البتہ جسمانی عوارض سے یہ انوار الہیہ مکدر ہوجاتے ہیں اور جب یہ عوارض زائل ہوجاتے ہیں تو یہ انوار چمکنے لگتے ہیں پھر اس کی اخروی سعادتوں کے اسباب بڑھنے لگتے ہیں اور یہی اس آیت کا معنی ہے اور وہ ہر زیادہ نیکی کرنے والے کو زیادہ فائدہ پہنچائے گا۔

(٣) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اخروی سعادتوں کے درجات اور مراتب مختلف ہیں کیونکہ یہ درجات دنیا میں عبادت اور قرب الٰہی کے بالمقابل ہیں اور جب دنیا کی طرف التفات نہ کرنے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف رغبت کے درجات غیر متناہی ہیں تو ان کے مقابلہ میں اخروی سعادتوں کے درجات بھی غیرمتناہی ہیں اسی وجہ سے فرمایا : وہ ہر زیادہ نیکی کرنے والے کو زیادہ فائدہ پہنچائے گا۔

(٤) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا کہ دنیا میں بھی ایک مقرر وقت تک وہی فائدہ پہنچائے گا اور آخرت میں بھی زیادہ نیکی کرنے والے کو وہی زیادہ اجر عطا فرمائے گا یعنی دنیا اور آخرت میں ہر جگہ نفع پہنچانے والا وہی ہے یہ اس لیے فرمایا کہ ظاہر بین فوائد اور ثمرات کی نسبت اسباب کی طرف کرتا ہے مثلاً وہ کہتا ہے کہ سورج نے روشنی دی اور بارش نے سبزہ اگایا لیکن جس کی نظر حقیقت پر ہوتی ہے وہ کہتا ہے : اللہ نے روشنی دی اور اللہ نے سبزہ اگایا اور اس کا ایمان ہوتا ہے کہ ہر چیز کا خالق دراصل اللہ تعالیٰ ہے۔ 

تہدید اور تبشیر کا امتزاج

دوسری آیت میں فرمایا : تم نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت میں تہدید (دھمکی) بھی ہے اور بشارت بھی ہے۔ تہدید اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہماری کوئی جائے پناہ نہیں ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کے فیصلہ کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہے اور جو کام وہ کرنا چاہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے اور جب ایسے زبردست حاکم کے سامنے پیش ہونا ہے اور ہمارے بہت عیوب ہیں اور بہت زیادہ گناہ ہیں تو پھر ہماری نجات بہت مشکل ہے سو اس آیت سے بہت خوف پیدا ہوتا ہے اور اس آیت میں بشارت بھی ہے کیونکہ وہ بہت قاہر اور غالب حاکم ہے اور ہم بہت عاجز اور کمزور ہیں اور جب قاہر اور غالب حاکم کسی عاجز اور کمزور کو ہلاکت کے قریب دیکھے تو وہ اس پر رحم فرماتا ہے اور اس کو ہلاکت سے نجات دیتا ہے۔ تو اے رحم فرمانے والے اور عیوب کو چھپانے والے اور بےکسوں کی دعا کو قبول فرمانے والے ! ہم پر رحم فرما اور ہم کو عذاب سے نجات عطا فرما !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 3