یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(۱۱۹)

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو (ف۲۸۰) اور سچوں کے ساتھ ہو(ف۲۸۱)

(ف280)

معاصی ترک کرو ۔

(ف281)

جو صادق الایمان ہیں مخلِص ہیں ، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اخلاص کے ساتھ تصدیق کرتے ہیں ۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ صادقین سے حضرت ابوبکر و عمر مراد ہیں رضی اللہ عنہما ۔ ابنِ جریر کہتے ہیں کہ مہاجرین ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ لوگ جن کی نیتیں ثابت رہیں اور قلب و اعمال مستقیم اور وہ اخلاص کے ساتھ غزوۂ تبو ک میں حاضر ہوئے ۔

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ اِجماع حُجّت ہے کیونکہ صادقین کے ساتھ رہنے کا حکم فرمایا ، اس سے ان کے قول کا قبول کرنا لازم آتا ہے ۔

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَـٴُـوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ(۱۲۰)

مدینہ والوں (ف۲۸۲) اور ان کے گرد دیہات والوں کو لائق نہ تھا کہ رسول اللہ سے پیچھے بیٹھ رہیں (ف۲۸۳) اور نہ یہ کہ ان کی جان سے اپنی جان پیاری سمجھیں (ف۲۸۴) یہ اس لیے کہ انہیں جو پیاس یا تکلیف یا بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں ایسی جگہ قدم رکھتے ہیں (ف۲۸۵) جس سے کافروں کو غیظ(غصہ) آئے اور جو کچھ کسی دشمن کا بگاڑتے ہیں (ف۲۸۶) اس سب کے بدلے ان کے لیے نیک عمل لکھا جاتا ہے (ف۲۸۷) بےشک اللہ نیکوں کا نیگ(اَجر وانعام) ضائع نہیں کرتا

(ف282)

یہاں اہلِ مدینہ سے مدینۂ طیّبہ میں سکونت رکھنے والے مراد ہیں خواہ وہ مہاجرین ہوں یا انصار ۔

(ف283)

اور جہاد میں حاضر نہ ہوں ۔

(ف284)

بلکہ انہیں حکم تھا کہ شدّت و تکلیف میں حضور کا ساتھ نہ چھوڑیں اور سختی کے موقع پر اپنی جانیں آپ پر فدا کریں ۔

(ف285)

اور کُفّار کی زمین کو اپنے گھوڑوں کے سُموں سے روندتے ہیں ۔

(ف286)

قید کر کے یا قتل کر کے یا زخمی کر کے یا ہزیمت دے کر ۔

(ف287)

اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص اطاعتِ الٰہی کا قصد کرے اس کا اٹھنا بیٹھنا ، چلنا ، حرکت کرنا ، ساکن رہنا سب نیکیاں ہیں اللہ کے یہاں لکھی جاتی ہیں ۔

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۲۱)

اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں چھوٹا (ف۲۸۸) یا بڑا (ف۲۸۹) اور جو نالا طے کرتے ہیں سب ان کے لیے لکھا جاتا ہے تاکہ اللہ ان کے سب سے بہتر کاموں کا انہیں صلہ دے (ف۲۹۰)

(ف288)

یعنی قلیل مثلاً ایک کھجور ۔

(ف289)

جیسا کہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے جیشِ عُسرت میں خرچ کیا ۔

(ف290)

اس آیت سے جہاد کی فضیلت اور اس کا احسن الاعمال ہونا ثابت ہوا ۔

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةًؕ-فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآىٕفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠(۱۲۲)

اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں (ف۲۹۱) تو کیوں نہ ہو ا کہ ان کے ہر گروہ میں سے (ف۲۹۲)ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں(ف۲۹۳) اس امید پر کہ وہ بچیں (ف۲۹۴)

(ف291)

اور ایک دم اپنے وطن خالی کر دیں ۔

(ف292)

ایک جماعت وطن میں رہے اور ۔

(ف293)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھماسے مروی ہے کہ قبائلِ عرب میں سے ہر ہر قبیلہ سے جماعتیں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوتیں اور وہ حضور سے دین کے مسائل سیکھتے اور تَفَقُّہ حاصل کرتے اور اپنے لئے احکام دریافت کرتے اور اپنی قوم کے لئے ، حضور انہیں اللہ اور رسول کی فرماں برداری کا حکم دیتے اور نماز زکوٰۃ وغیرہ کی تعلیم کے لئے انہیں ان کی قوم پر مامور فرماتے ، جب وہ لوگ اپنی قوم میں پہنچتے تو اعلان کر دیتے کہ جو اسلام لائے وہ ہم میں سے ہے اور لوگوں کو خدا کا خوف دلاتے اور دین کی مخالفت سے ڈراتے یہاں تک کہ لوگ اپنے والدین کو چھوڑ دیتے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں دین کے تمام ضروری علوم تعلیم فرما دیتے ۔ (خازن ) یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجِزۂ عظیمہ ہے کہ بالکل بے پڑھے لوگوں کو بہت تھوڑی دیر میں دین کے احکام کا عالِم اور قوم کا ہادی بنا دیتے تھے ۔ اس آیت سے چند مسائل معلوم ہوئے ۔

مسئلہ : علمِ دین حاصل کرنا فرض ہے جو چیزیں بندے پر فرض و واجب ہیں اور جو اس کے لئے ممنوع و حرام ہیں اس کا سیکھنا فرضِ عین ہے اور اس سے زائدعلم حاصل کرنا فرضِ کفایہ ۔ حدیث شریف میں ہے علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ امام شافعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ علم سیکھنا نفل نماز سے افضل ہے ۔

مسئلہ : طلبِ علم کے لئے سفر کا حکم حدیث شریف میں ہے جو شخص طلبِ علم کے لئے راہ چلے اللہ اس کے لئے جنّت کی راہ آسان کرتا ہے ۔ (ترمذی)

مسئلہ : فِقۡہ افضل ترین علوم ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالٰی جس کے لئے بہتری چاہتا ہے اس کو دین میں فقیہ بناتا ہے ، میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالٰی دینے والا ۔ (بخاری و مسلم) حدیث میں ہے ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے ۔ (ترمذی) فِقۡہ احکامِ دین کے علم کو کہتے ہیں ، فِقہِ مُصطلَح اس کا صحیح مصداق ہے ۔

(ف294)

عذابِ الٰہی سے احکامِ دین کا اِتّباع کر کے ۔