حدیث نمبر136

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم التحیات ایسے ہی سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے ۱؎ فرماتے تھے کہ برکت والی تحیتیں اور طیب نمازیں اﷲ کے لیئے ہیں اے نبی آپ پر سلام اور اﷲ کی رحمتیں برکتیں ہوں،ہم پر اور اﷲ کے نیک بندوں پر سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اﷲ کے رسول ہیں ۲؎(مسلم)میں نے صحیحین میں اور صحیحین کے جامع میں سلام علیك اور سلام علینا بغیر الف لام کے نہ پایا لیکن اسے جامع والے نے ترمذی سے روایت کیا ۳؎

شرح

۱؎ یعنی جیسا اہتمام قرآن شریف کے سکھانے میں کرتے تھے ویسا ہی التحیات کے سکھانے میں بھی۔اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ نماز میں التحیات واجب ہے۔

۲؎ یہ حضرت ابن عباس کی التحیات ہے،امام شافعی نے اسی کو اختیا ر فرمایا امام ابوحنیفہ و امام احمد ابن حنبل اور اکثر صحابہ و تابعین نے حضرت ابن مسعود کی التحیات کو لیا جو پہلے گزر چکی، علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ ابن مسعود کی التحیات کی حدیث بہت صحیح ہے،مسند امام احمد ابن حنبل میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مسعود کو حکم دیا کہ اس التحیات کی سب کو تعلیم دو اور امام مالک کی التحیات وہ ہے جو سیدنا عمر فاروق سے مروی۔”اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ الزَّاکِیَاتُ لِلّٰہِ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ السَّلَامُ عَلَیْكَ اَیُّھَا النَّبِیُّ”الخ۔(اشعہ)

۳؎ یعنی صاحب مصابیح نے حضرت ابن عباس کی التحیات میں سلامٌ بغیر الف لام کے نقل کیا مگر ایسی التحیات سوا ترمذی کے اور کہیں نہیں لہذا یہ حدیث صاحب مصابیح کو پہلی فصل میں نہیں لانی چاہیے تھی۔