حدیث نمبر134

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تو کلمہ پڑھتے ۱؎ تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں ران پر رکھتے اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر۲؎ اور اپنی کلمے کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنا انگوٹھا بیچ کی انگلی پر رکھتے ۳؎ اور بائیں ہتھیلی سے گھٹنا پکڑلیتے۴؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہاں دعا سے مراد کلمہ شہادت ہے جیسے حدیث شریف میں ہے کہ عرفہ کے دن بہترین دعا کلمہ طیبہ ہے یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم نماز میں جب بیٹھتے تو التحیات پڑھتے اور اس میں کلمہ طیبہ پڑھتے۔خیال رہے کہ نماز میں جب بھی بیٹھنا پڑے تب التحیات پڑھے لہذا اگر کوئی التحیات میں جماعت سے ملا اس کے ملتے ہی امام کھڑا ہوگیا تو یہ شخص پوری التحیات و رسولہ تک پڑھ کر اٹھے،اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۲؎ یہ پچھلی حدیث کی شرح ہے جس میں تھا کہ حضور قعدہ میں گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے تھے اس نے بتایا کہ ہاتھ رانوں پر رکھتے انگلیوں کے کنارے گھٹنوں پر۔

۳؎ یعنی انگوٹھے اور بیچ کی انگلی کا حلقہ بنا کر اشارہ فرماتے جیسا ہم احناف کا عمل ہے۔

۴؎ اس طرح کہ بایاں گھٹنا بائیں ہتھیلی میں ایسے آجاتا ہے جیسے منہ میں لقمہ۔خیال رہے کہ حضور کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے اور پہلی حدیث کا عمل بیان التحیات کے لیے تھا یعنی دونوں ہاتھ دونوں رانوں پر بچھا دینا بہتر ہے تاکہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں قبلہ رو رہیں اور بایاں گھٹنا بائیں ہاتھ سے پکڑ لینا جائز ہے لہذا نہ تو احادیث میں تعارض ہے اور نہ مسلمانوں کا عمل اس حدیث کے خلاف۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہ اشارہ صرف کلمہ شہادت پر تھا جو کلمہ ختم ہونے پر ختم ہوجاتا تھا اول سے ہاتھ بچھاہوتا پھر بعد میں بھی بچھادیا جاتا تاکہ انگلیاں متوجہ قبلہ رہیں۔