باپ کی مغفرت کیسے ہوئی

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روارت ہے سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک شخص باہر گیا اور اپنی بیوی کو حکم دیا کہ وہ گھر سے نہ نکلے،اسکا باپ گھر کے نیچلے حصہ میں رہتا تھا اور وہ اوپر کے منزلہ پر،اس کے والد بیمار ہوئے تو اسنے نبی پاک ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیج کر معلوم کروایا،آپنے ارشاد فرمایا اطیعی زوجک،اپنے شوہر کی اطاعت کرو،فمات ابوہا،پھر اسکے والد کا انتقال ہو گیا،اسنے نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیج کر معلوم کروایا،آہنے فرمایا اطیعی زوجک،اپنے شوہر کی اطاعت کرو،پھر نبی ﷺ نے اس کے پاس بھیج کر بتایا کہ ان اللہ قد غفر لابیھا لطاعتھا لزوجھا بیشک اللہ تعالیٰ نے اسکے والد کو اسکے اپنے شوہر کی اطاعت کی وجہ سے بخش دیا (مجمع ج ۴ ص ۳۱۶)

یہ حدیث عورت پر شوہر کی حاکمیت کا عام اعلان ہے کہ اس کے نکاح میں آجانے کے بعد اور اسکے گھر کو اپنی مسکنت بنا لینے کے بعد اسکا حکم سب پر بھارے ہوگا،والدین سے بھی بڑا حق اسکے شوہر کا ہے اس لئے شریعت کے خلاف نہ ہو تو اسی کی بات کو دوسرے رشتہ داروں کی بات پر ترجیح دیگی،اس حدیث پاک کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیجیئے کہ عورت گھر سے باہر سفر پر گیا تو اپنی بیوی سے باہر نکلنے سے منع کر گیا تھا تو اسکا باپ دور نہیں اپنے مکان کے نیچلے حصہ میں رہتا تھا ان سے ملاقات کرنے کے بارے میں بھی نبی ﷺ سے سوال کرتی ہے،اور ہمارے آقا بھی فرما رہے ہیں شوہر کی اطاعت کرو اس لئے کہ تمہارے لئے شادی کے بعد بڑا درجہ تمہارے شوہر کا ہے،وادل بیمار ہوئے اور انتقال کر گئے اس کے باوجود عورت اپنے سے فیصلہ نہیں کر رہی ہے بلکہ پیارے آقا سے معلوم کرنے بعد وہی فیصلہ کرتی ہے جو نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اہنے شوہر کی اطاعت کرو اور جب اسنے تمہیں باہر نکلنے سے منع کیا ہے تو تمہیں نہیں نلکلنا چاہیئے،اسنے ایسا کیا اور اپنے شوہر کے حکم کے خلاف نہین کیا تو اسے کتنا بڑا فایدہ ہوا کہ نبی پاک ﷺ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے والد کی مغفرت ہو جانے کی بشارت پہنچائی

تلاشو اللہ کی رضا کہاں ہے

وہ عورت باپ کی عیادت کے لئے چلی جاتی تو حالات یہ بتا رہے ہیں شوہر کو اس سے ناراضگی نہ ہوتی، اس کے والد کے انتقال کے بعد وہ والد کے یہاں چلی جاتی تو شوہر کی دل شکنی نہ ہوتی،مگر اس کے باوجود بھی نہ جانا اور شوہر کے حکم پر ثابت رہنا کتنی بڑی ہمت کا کام ہے اور کتنی عظیم وفاداری کا کام ہے کہ اللہ اور رسول اس عمل سے راضی ہو گئے اور اس کے والد کی مغفرت فرمادی گیٔ،معلوم ہوا شوہر کی اطاعت امر غیر ضروری میں بھی ثواب کا کام ہے،اللہ اور رسول کی رضا اسی میں ہے کہ شوہر کی مخالفت نہ کیجائے،اور اس سے یہ بھی جانا گیا کہ شوہر کی حاکمیت اللہ کی عطا کی ہوئی ہے عورت کی نجات اور کامیابی اسی میں ہے کہ اللہ اور رسولنے جسے حاکمیت عطا فرمائی اسکی حاکمیت کا اقرار کرکے اپنی طرف سے محکومیت والا عمل پیش کیا جائے،گھر واقعۃ مچالی جنت بن جائے گا،باغ کا مالک کوئی ہو مگر باغبان عورت ہے،باغبان کی کوششیں ہی ہر جانب امن سکون کے پھول کھلا سکتی ہے اس لئے عورتوں کو یہ نصیحت بارہا کی جارہی ہے