حدیث نمبر131

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جو اپنی پیشانی زمین پر رکھے تو اپنے ہاتھ بھی وہیں رکھے جہاں پیشانی رکھتا ہے ۱؎ پھر جب سر اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے کیونکہ جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے ویسے ہی ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۲؎(مالک)

شرح

۱؎ یعنی ہاتھ پیشانی کے آس پاس چاہیں نہ کہ کندھوں کے متصل،نیز پیشانی کے لیے کوئی خاص چیز نہ ہو جس پر پیشانی رکھی جائے اسی پر ہاتھ بھی رکھے جائیں،بعض لوگ کربلا کی مٹی یا کاغذ یا پتے پرصرف پیشانی رکھتے ہیں ان کا یہ عمل اس حدیث کے خلاف ہے۔پیشانی اور ہاتھوں کی جگہ ایک ہونی چاہیے۔

۲؎ لہذا ہاتھوں کی انگلیوں قبلہ کی طرف چاہیں اور یہ نہ کرے کہ سجدے سے صرف سر اٹھائے،ہاتھ زمین پر ہی لگے رہنے دے کہ یہ تعدیل ارکان کے خلاف ہے۔