فاطمہ کی کال۔۔۔

تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

مما! مجھے لگتا ہے یہ فتوری چڑیل کبھی کبھی مما پر بلکہ سب کی ماؤں پر حملہ کر دیتی ہے ۔فاطمہ نے کہانی پڑھنے کے بعد کہا ۔

اچھا وہ کیسے ؟ مما نے پوچھا ۔

وہ میں اسمٰعیل انکل ہی کو بتاؤں گی ۔۔۔وہی کچھ علاج کر سکتے ہیں ایسی صورت حال میں ۔

ارے پہلے مجھے تو بتاؤ فاطمہ !!!

ایک منٹ رکیے میں پہلے اسمٰعیل انکل کو فون کر لوں ۔۔۔ فاطمہ نے فون نمبر ملاتے ہوئے کہا ۔

ارے کیوں فون کررہی ہو انہیں وہ بہت مصروف آدمی ہیں تمہارا فون سننے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں ہے ۔مما نے کہا ۔

ایک منٹ کوشش کرنے میں کیا حرج ہے ؟

بیل جا رہی ہے مما ! فاطمہ نے کہا ۔

مما فاطمہ کو مسکرا کر دیکھ رہی ہیں ۔

فون اٹھا لیں اسمٰعیل انکل!!! بلا وجہ بے عزتی ہو جائے گی ۔فاطمہ نے دھیرے سے کہا ۔

نہیں اٹھایا نا !!! میں تو پہلے ہی کہہ رہی تھی لیکن تم نے میری بات سننی ہی نہیں ہے ماں ہے کہتی رہے گی کچھ دیر بعد خاموش ہو جائے گی ۔

فاطمہ نے دوبارہ فون ملادیا ۔

اسمٰعیل انکل :السلام علیکم

فاطمہ :وعلیکم السلام ! کیا آپ اسمٰعیل انکل بات کررہے ہیں ؟

اسمٰعیل انکل :جی ! بات کررہاہوں ۔

فاطمہ :انکل آپ سے ایک بات کرنی تھی اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہو تو ۔۔

اسمٰعیل انکل :جی بات کیجیے بیٹا !

فاطمہ : یہ جو شیطان کی بیوی ہے نا فتوری چڑیل

اسمٰعیل انکل :فتوری چڑیل شیطان کی بیوی ہے ؟

فاطمہ:ہاں انکل وہ آپ جس فتوری چڑیل کا تذکرہ اپنی کہانیوں میں کرتے ہیں ۔

اسمٰعیل انکل :مگر میں نے اس میں کبھی یہ نہیں کہا کہ فتوری چڑیل شیطان کی بیوی ہے ۔

فاطمہ:انکل میرا مطلب ہے چیلی ۔

اسمٰعیل انکل (مسکراتے ہوئے )ہاں یہ چیلی ٹھیک ہے ۔

فاطمہ:ہاں تو اس فتوری چڑیل نے ماؤں پر بھی حملہ کیاہے اس پربھی ایک کہانی لکھ دیں ۔

اسمٰعیل انکل :اچھا وہ کیسے ؟

فاطمہ: ابھی کل ہی کی بات ہے میں پڑوس میں گئی تو میں نے دیکھا ان کی مما اپنے بچوں کو ڈانٹ رہی ہیں ۔

اسمٰعیل انکل :یقینا ً ان بچوں نے شرارت کی ہو گی جب ہی تو ڈانٹ پڑی ہو گی ۔

فاطمہ: ٹھیک ہے شرارت پر ڈانٹ دیں لیکن بددعائیں تو نہیں دینی چاہیے نا !

اسمٰعیل انکل :ہاں یہ بات آپ کی ٹھیک ہے کہ بد دعائیں نہیں دینی چاہیے ۔

فاطمہ: بس اسمٰعیل انکل ! آپ سےیہ ہی کہنا تھا کہ ایک کہانی آپ ساری ماؤں کے لیے بھی لکھ دیں تاکہ سب کی مائیں فتوری چڑیل سے بچ جائیں ۔میرا تو خیال ہے یہ فتوری چڑیل ہی کی کارستانی ہے وہی ماؤں کو غصہ دلاتی ہو گی ورنہ مائیں تو بہت پیاری ہوتی ہیں ۔

اسمٰعیل انکل :ہاں اس میں تو کوئی شک نہیں مائیں تو ساری ہی بہت پیاری ہو تی ہیں ۔

فاطمہ:انکل پھر آپ کہانی لکھ رہے ہیں نا !

اسمٰعیل انکل :ان شاء اللہ میں ضرور یہ کہانی لکھوں گا ۔

فاطمہ:بہت شکریہ انکل جزاک اللہ ۔

مما ! بات ہو گئی میری اسمٰعیل انکل سے ۔۔۔

مما : پھر کیا کہااسمٰعیل انکل نے ؟

فاطمہ : انہوں نے کہا ہے کہ وہ آج اس پر کہانی لکھیں گے ۔

ایک منٹ مما ! میں فیملی گروپ میں ایک میسج کردوں فاطمہ نے مما کا موبائل لیتے ہوئے کہا ۔

کیا میسج کرنا ہے ؟ مما نے حیرت سے پو چھا

پیارے بچو! ایک اعلان ملاحظہ کیجیے : آج منارہ نور گروپ میں مما بابا کے لیےتحریر آئے گی لہذا سب بچے اپنے اپنے مما بابا کو وہ تحریر ضرور پڑھائیں ۔اعلان ختم ہوا ۔

مما : تم بھی نا فاطمہ اب اگر اسمٰعیل انکل نے نہیں لکھی نا تحریر تو سوچو کیا ہو گا ۔

فاطمہ : اسمٰعیل انکل نے کہا ہے لکھنے کا تو وہ لکھیں گےورنہ وہ منع کردیتے ۔

فاطمہ نے تو فون کر دیا لیکن کوئی اسمٰعیل انکل سے بھی پوچھے ان پر کیا بیتی کیا لکھوں؟ کیسےلکھوں؟ ایک آیت ایک کہانی کا سلسلہ چل رہاہے اس میں کوئی نئی بات شامل کر نا۔ ۔۔۔ہر نئی کہانی شروع کرنے سےپہلے کئی گھنٹے صرف یہ سوچتے ہوئے گزر جاتے ہیں کہ کہانی کا آغاز کہاں سے کرنا ہے اور کوئی کہانی بنے گی کیسے ؟ وغیرہ وغیرہ اور یہ ہماری بھتیجی فاطمہ ہمیں ایک نیا اسائنمنٹ مجھےدے کر چلی گئیں ۔

قرآن میں ہر شئے کا بیان ہے تو قرآن میں تلاش کرو ۔

بس پھر جب تلاش کیا تو اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور ہم اس آیت تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ۔

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِؕ-وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا(۱۱ بنی اسرائیل )

اور (کبھی ) آدمی برائی کی دعا کربیٹھتا ہے جیسے وہ بھلائی کی دعا کرتا ہے اور آدمی بڑا جلد باز ہے۔

اس آیت کا پیغام بچوں کے لیے بھی ہے اور بڑوں کے لیے بھی آپ کی زبان سے ہمیشہ اچھی دعا نکلنی چاہیے۔۔۔خاص طور پر ماں باپ کی زبان پر ہمیشہ اچھے الفاظ ہی ہو نے چاہیے کیا معلوم کونسی قبولیت کی گھڑی ہو ۔

اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا :

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اپنی جانوں پر بد دعا نہ کرو اور اپنی اولاد پر بد دعا نہ کرو اور اپنے خادم پر بددعا نہ کرو اور اپنے اموال پر بددعا نہ کرو کہیں اجابت کی گھڑی سے موافق نہ ہو۔”

( ”صحیح مسلم”، کتاب الزہد والرقائق، باب حدیث جابر الطویل… إلخ، الحدیث:۳۰۰۹، ص۱۶۰۴.

و”سنن أبي داود”، کتاب الصلاۃ، باب النہي أن یدعو… إلخ، الحدیث: ۱۵۳۲، ج۲، ص۱۲۶.)

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :

:”تین دعائیں بیشک مقبول ہیں:دعا مظلوم کی اور دعا مسافر کی اور ماں باپ کا اپنی اولاد کو کوسنا۔”

(”سنن الترمذي”، کتاب الدعوات، باب ما ذکر في دعوۃ المسافر، الحدیث:۳۴۵۹، ج۵، ص۲۸۰.)

غصے میں اپنے خلاف یا اپنے گھر والوں کے یا پھر اپنی اولاد کے خلاف دعا نہیں کرنا چاہیے ۔

اور ہاں بچو ! آپ کو بھی چاہیے ماں باپ کو بالکل نہ ستائیں یہ بھی تو کوئی اچھی بات نہیں نا کہ ہمارے ماں باپ ہم سے ہی پریشان ہو کر بد دعا دیں ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین