أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ مَا نَرٰٮكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا وَمَا نَرٰٮكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُــنَا بَادِىَ الرَّاۡىِ‌ۚ وَمَا نَرٰى لَـكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۢ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تم کو اپنے جیسا ہی بشر سمجھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ہمارے پس ماندہ اور کم عقل لوگ ہی کر رہے ہیں اور ہم اپنے اوپر تمہاری کوئی فضیلت نہیں سمجھتے بلکہ ہمارے گمان میں تم جھوٹے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تم کو اپنے جیسا بشر ہی سمجھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ہمارے پس ماندہ اور کم عقل لوگ ہی کر رہے ہیں اور ہم اپنے اوپر تمہاری کوئی فضیلت نہیں سمجھتے بلکہ ہمارے گمان میں تم جھوٹے ہو۔ (ھود : ٢٧) 

حضرت نوح کی قوم کے کافر سرداروں کے شبہات

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت نوح کے دعویٰ نبوت کی تکذیب کی اور اس سلسلہ میں انہوں تین شبہات وارد کیے :

ایک شبہ یہ تھا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کی مثل بشر ہیں،

دوسرا شبہ یہ تھا کہ ان کی پیروی کم حیثیت اور پس ماندہ لوگ کر رہے ہیں،

تیسرا شبہ یہ تھا کہ ان کے نزدیک حضرت نوح (علیہ السلام) کی ان کے اوپر کوئی فضیلت نہیں تھی۔ اس شبہ کی بنیاد یہ تھی کہ ان کے نزدیک اسباب مادیہ سے فضیلت حاصل ہوتی تھی، یعنی کوئی شخص غیر معمولی جسیم اور قد آور ہو، یا وہ بہت امیر اور دولت مند ہو یا وہ کسی بہت بڑے جتھے اور قبیلہ کا سردار ہو

اور جب حضرت نوح (علیہ السلام) میں ایسی کوئی چیز نہ تھی تو انہوں نے کہا کہ آپ کی ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے، اب ہم ان کے ان تینوں شبہات کے تفصیل دار جواب پیش کر رہے ہیں۔ 

بشر کا معنی اور نبی کے بشر ہونے کی حقیقت

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا : ہم تم کو اپنے جیسا بشر ہی سمجھتے ہیں۔

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ بشر کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : کھال کے ظاہر کو بشرہ کہتے ہیں اور کھال کے باطن کو ادمۃ کہتے ہیں، واحد اور جمع دونوں کے لیے بشر آتا ہے البتہ تشنیہ بشرین آتا ہے۔

قرآن مجید میں جہاں بھی لفظ بشر آیا ہے اس سے مراد انسان کا جثہ اور اس کا ظاہر ہے۔

قرآن مجید میں ہے :

انی خالق بشرا من طین۔ (ص : ٧١)

میں مٹی سے بشر بنانے والا ہوں۔

کفا رانبیاء (علیہم السلام) کا مرتبہ کم کرنے کے لیے ان کو بشر کہتے تھے۔

قرآن مجید میں ہے :

فقالوا بشر منا واحد لتبعہ انا اد لفی ضلال وسعر۔ (القمر : ٢٤)

پس وہ کہنے لگے کیا ہم اپنے ہی میں سے ایک بشر کی اتباع کریں پھر تو بیشک ہم ضرور گمراہی اور عذاب میں ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے یہ بتانے کے لیے کہ تمام لوگ نفس بشریت میں برابر ہیں لیکن وہ دوسروں سے علوم عالیہ اور اعمال صالحہ کی وجہ سے ممتاز ہوتے ہیں،

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی۔ (الکہف : ١١٠)

(اے رسول مکرم ! ) آپ کہیے میں بظاہر تم جیس ہی بشر ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ ”

میری طرف وحی کی جاتی ہے “ اس لیے فرمایا ہے کہ ہرچند کہ نفس بشریت میں، میں تمہاری مثل ہوں لیکن اس وصف میں، میں تم سے ممتاز ہوں کہ میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ (المفردات ج ١ ص ٦٠، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ البار مکہ مکمرہ ١٤١٨ ھ)

جس طرح انسان حیوان ہونے میں تمام حیوانات کی مثل ہے لیکن نطق کی وجہ سے وہ باقی حیوانات سے ممتاز ہے اور نطق اس کے لیے فصل ممیز ہے اور نطق سے مراد وہ قوت ہے جس کی وجہ سے وہ معقولات کا ادراک کرتا ہے جس کو عقل کہتے ہیں اس طرح نبی، انسان اور ناطق ہونے میں تمام انسانوں کی مثل ہے لیکن حصول وحی کی صلاحیت اور ادراک مغبیات میں وہ باقی انسانوں سے ممتاز ہے اور جس طرح انسان ادراک معقولات اور عقل کی وجہ سے باقی حیوانات سے ممتاز ہے اسی طرح نبی ادراک مغبیات اور حصول وحی کی وجہ سے باقی انسانوں سے ممتاز ہے اور جس قوت سے نبی غیب کا ادراک کرتا ہے اور وحی کو حاصل کرتا ہے وہ قوت اس کے حق میں بمنزلہ فصل ممیز ہے۔

امام محمد بن محمد غزالی متوفی ٥٠٥ ھ نبوت کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں : اور عقل کے ماوراء ایک اور عالم ہے جس میں ادراک کی ایک اور آنکھ کھلتی ہے جس سے انسان غیب کا ادراک کرتا ہے اور مستقبل میں ہونے والے امور غیبیہ اور بہت سے امور کو جان لیتا ہے، جن تک عقل کی رسائی نہیں ہے۔ جیسے قوت تمبیز معقولات کا ادراک نہیں کرسکتی اور جس طرح حواس قوت تمبیز کے مدرکات کو نہیں پاسکتے۔ (اسی طرح عق یعنی قوت ادراک غیب کے مدرکات کو نہیں پاسکتی۔ ) اور جس طرح صاحب تمیز کے سامنے عقل کے مدرکات پیش کیے جائیں تو وہ ان کو بعید سمجھ کر ان کا انکار کرتا ہے اسی طرح بعض عقل والوں کے سامنے نبوت کے مدرکات پیش کیے گئے تو انہوں نے ان کا انکار کردیا اور یہ خالص جہالت ہے۔ (المنقذ من الضلال ص ٥٤، مطبوعہ ہیئت الاوقاف لاہور، ١٩٧١ ء)

امام غزالی نے اس عبارت میں یہ واضح کردیا ہے کہ جس طرح حواس کے بعد تمبیز کا مرتبہ ہے اور تمبیز کے بعد عقل کا مرتبہ ہے، اسی طرح عقل کے بعد نبوت کا مرتبہ ہے اور جس طرح قوت عقلیہ سے معقولات کا ادراک ہوتا ہے اسی طرح نبوت کی قوت سے مغبیات کا ادراک ہوتا ہے اور جس طرح عام حیوانات کو اللہ تعالیٰ نے حواس کی قوت عطا کی ہے اور انسان کو اس سے ایک زائد قوت عطا کی ہے اور وہ عقل اور تمبیز ہے اسی طرح نبی کو اللہ تعالیٰ نے ان قوتوں سے زائد ایک قوت عطا کی ہے جس قوت سے وہ غیب کا ادراک کرتا ہے جس طرح انسان عالم محسوسات میں ظاہری چیزوں کو دیکھتا ہے اور ان کی آوازیں سنتا ہے، حیوانات اور انسانوں کو دیکھتا ہے اور ان کی آوازیں سنتا ہے اسی طرح نبی غیب کی مخفی چیزوں کو دیکھتا ہے، فرشتوں اور جنات کو دیکھتا ہے، ان کی آوازیں سنتا ہے اور ان سے ہم کلام ہوتا ہے اور اس سے یہ واضح ہوگیا کہ نبی اپنی حقیقت میں عام بشر اور انسان سے ممتاز ہوتا ہے اور جس طرح انسان عام حیوانوں سے ممتاز ہے نبی عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی خصائص نبوت بیان کرتے ہوئے ” احیاء العلوم “ سے امام غزالی کی عبارت نقل کرتے ہیں، ہم قارئین کے سامنے ” احیاء العلوم “ سے امام غزالی کی اصل عبارت کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں : نبوت ان اوصاف کو کہتے ہیں جو نبی کے ساتھ خاص ہوں اور ان اوصاف کی وجہ سے نبی اپنے غیر سے ممتاز ہو اور یہ کئی قسم کے خصائص ہیں، نبی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات، فرشتوں اور آخرت کے حقائق کو اس طرح جانتا ہے جس طرح ان کو کوئی نہیں جانتا کیونکہ نبی کو ان کی جتنی معلومات ہوتی ہیں اور ان پر جتنا یقین ہوتا ہے اور جتنی تحقیق ہوتی ہے کسی اور کو نہیں ہوتی اور نبی کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ جس طرح غیر نبی کو افعال اختیاریہ پر قدرت ہوتی ہے اسی طرح نبی کو افعال خارقہ للعادات (یعنی معجزات) پر قدرت ہوتی ہے اور نبی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کو ایسی صفت حاصل ہوتی ہے جس سے وہ فرشتوں کو دیکھتا ہے اور عالم ملکوت کا مشاہدہ کرتا ہے جس طرح ہم میں بینا اور نابینا کا فرق ہے اور نبی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کو ایسی صفت حاصل ہوتی ہے جس سے وہ مستقبل میں ہونے والے امور غیبیہ کا ادراک کرلیتا ہے اور لوح محفوظ کا مطالعہ کرتا ہے، جس طرح انسان میں ذہانت کی صفت ہوتی ہے اور اس صفت سے وہ بیوقوف شخص سے ممتاز ہوتا ہے۔ (احیاء علوم الدین ج ٤ ص ١٩٠۔ ١٨٩، مطبوعہ دارالکتب العربیہ مصر، ج ٤ ص ١٧٠، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ، فتح الباری ج ١٢ ص ٣٦٧۔ ٣٦٦ )

نبی کی خصوصیات

امام فخر الدین رازی لکھتے ہیں : علامہ حلیمی نے کتاب المنہاج میں لکھا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا دوسرے انسانوں سے جسمانی اور روحانی قوتوں میں مختلف ہونا ضروری ہے۔ پھر امام رازی اس کی تفصیل میں علامہ حلیمی سے نقل کرتے ہیں کہ قوت جسمانیہ کی دو قسمیں ہیں : مدرکہ اور محرکہ اور مدرکہ کی دو قسمیں ہیں : حواس ظاہرہ اور حواس باطنہ اور حواس ظاہرہ پانچ ہیں : 

قوت باصرہ قوت باصرہ کے اعتبار سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت کی یہ دلیل ہے کہ آپ نے فرمایا : میرے لیے تمام روئے زمین سمیٹ دی گئی اور میں نے اس کے تمام مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩٠، سنن ابودائود ج ٢، ص ٢٢٨، دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٥٨٧)

نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی صفیں قائم کرو اور مل کر کھڑے ہو کیونکہ میں تم کو پس پشت بھی دیکھتا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧١٨ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٣٤، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٦٦٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٩٩٣، سنن نسائی رقم الحدیث : ٤٣٣)

اس قوت کی نظیریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے فرمایا :

وکذلک نری ابراھیم ملکوت السموات والارض۔ (الانعام : ٧٥)

اور اسی طرح ہم (حضرت) ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی نشانیاں دکھاتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی بصر کو قوی کردیا حتیٰ کہ حضرت ابراہیم نے اعلیٰ سے لے کر اسفل تک تمام نشانیاں دیکھ لیں

(اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجلی لی ما فی السموت والارض ” میرے لیے تمام آسمان اور زمین منکشف ہوگئے۔ “ مسند احمد ج ٤ ص ٦٦

اور ایک روایت میں ہے : فعلمت ما فی السموت والارض ” میں نے تمام آسمانوں اور زمین کو جان لیا۔ “ مسند احمد ج ١ ص ٣٦٨) 

قوت سامعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سماعت تمام انسانوں سے زیادہ تھی کیونکہ آپ نے فرمایا : آسمان چرچراتا ہے اور اس کا چرچرانا بجا ہے، آسمان میں ایک قدم کی جگہ بھی نہیں ہے مگر اس میں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدہ ریز ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣١٢، ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٩٠)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کے چرچرانے کی آواز سنی۔ نیز آپ نے فرمایا : ایک پتھر جہنم میں گرایا جارہا ہے جو ابھی تک جہنم کی تہہ تک نہیں پہنچا، آپ نے اس کی آواز سنی۔ اس قوت کی نظیر حضرت سلیمان کو بھی عطا کی گئی کیونکہ انہوں نے چیونٹی کی آواز سنی۔

قرآن مجید میں ہے :

قالت نملۃ یایھا النمل ادخلوا مسکنکم۔ (النمل : ١٨)

ایک چیونٹی نے کہا : اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جائو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو چیونٹی کا کلام سنایا اور اس کے معنی پر مطلع کیا

اور یہ قوت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی حاصل تھی کیونکہ آپ نے بھیڑیئے اور اونٹ سے کلام کیا۔ (مسند البزار رقم الحدیث : ٢٤٣٢، المستدرک ج ٢ ص ١٠٠۔ ٩٩) 

قوت شامہ نبی کی قوت شامہ کی خصوصیت پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا واقعہ دلیل ہے کیونکہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ حکم دیا کہ میری قمیص لے جائو اور حضرت یعقوب کے چہرے پر ڈال دو اور قافلہ وہ قمیص لے کر روانہ ہوا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا : انی لا جد ریح یوسف۔ (یوسف : ٩٤) مجھے (حضرت) یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کی خوشبو کئی دن کی مسافت کے فاصلہ سے سونگھ لی۔ 

قوت ذائقہ نبی کے چکھنے کی قوت کی خصوصیت کی دلیل یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوشت کا ایک ٹکڑا چکھا تو فرمایا : اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ (سنن الدارمی رقم الحدیث : ٦٨، مسند احمد ج ٢ ص ٢٥١) 

قوت لامسہ نبی کی قوت لامسہ کی خصوصیت کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ آگ ان پر ٹھنڈک اور سلامتی ہوگئی۔ اور حواس باطنہ میں قوت حافظہ ہے،

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : سنقر ئک فلا تنسی۔ (الاعلیٰ : ٦) ہم عنقریب آپ کو پڑھائیں گے پس آپ نہیں بھولیں گے۔

اور قوت ذکاوت ہے، حضرت علی فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے علم کے ایک ہزار باب سکھائے اور میں نے ہر باب سے ہزار باب مستنبط کیے اور جب ولی کی ذکاوت کا یہ حال ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذکاوت کا کیا عالم ہوگا ! اور قوت محرکہ کی خصوصیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معراج پر جانا دلیل ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زندہ چوتھے آسمان پر جانا اور حضرت ادریس اور الیاس (علیہما السلام) کا آسمانوں پر جانا اس کی دلیل ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کی روحانی اور عقلی قوتیں بھی انتہائی کامل ہوتی ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ نفس قدسیہ نبویہ اپنی ماہیت میں باقی نفوس سے مختلف ہوتا ہے اور نفس نبویہ کے لوازم سے یہ ہے کہ اس کی ذکاوت، ذہانت حریت انتہائی کامل ہو اور وہ جسمانیات اور شہوانیات سے منزہ ہو اور جب نبی کی روح غایت صفا اور شرف میں ہوگی تو اس کا بدن بھی انتہائی صاف اور پاکیزہ ہوگا اور اس کی قوت مدرکہ اور قوت محرکہ بھی انتہائی کامل ہوگے تو ان کے آثار بھی انتہائی کامل، مشرف اور صاف ہوں گے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٠٠۔ ١٩٩، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ نظام الدین حسن بن محمد قمی نیشاپوری متوفی ٧٢٨ ھ نے بھی علامہ حلیمی کی یہ عبارت اسی تفصیل سے نقل کی ہے۔ (غرائب القرآن ج ٢ ص ١٥٤۔ ١٥٣، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، ١٤١٦ ھ)

امام غزالی، امام رازی، علامہ حلیمی، علامہ نظام الدین نیشاپوری اور حافظ ابن حجر عسقلانی کی ان تصریحات سے واضح ہوگیا کہ نبی کی حقیقت عام انسانوں سے مختلف ہوتی ہے اور ہرچند کہ نبی انسان اور بشر ہوتا ہے لیکن اس کی حقیقت میں استعداد وحی کی صلاحیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ عام انسانوں سے ممتاز ہوتا ہے اور نبی میں ایسی خصوصیات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہ دوسرے انسانوں سے اس طرح ممتاز ہوتا ہے جس طرح دیکھنے والا، اندھے سے اور ذکی، غبی سے متمیز ہوتا ہے۔ 

فرشتہ کو نبی نہ بنانے کی وجوہ

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کافر سرداروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی نبوت میں پہلا شبہ یہ پیش کیا تھا کہ ” ہم تم کو اپنے جیسا بشر ہی سمجھتے ہیں “ اور یہ ایسا ہی شبہ ہے جیس کہ مکہ کے کافروں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں پیش کیا تھا اور وہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ازالہ فرمایا تھا :

وقالوا لولا انزل علیہ ملک ولو انزلنا ملکا لقضی الامر ثم لا ینظرون ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا علیہم ما یلبسون۔ (الانعام : ٨)

اور انہوں نے کہا کہ اس (رسول) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تو (ان کا) کام تمام ہوچکا ہوتا پھر ان کو مہلت نہ دی جاتی اور اگر ہم رسول کو فرشتہ بناتے تو اسے مرد ہی (کی صورت میں) بناتے اور ان پر پھر وہی شبہ ڈال دیتے جو شبہ وہ اب کر رہے ہیں۔ کفار کا یہ شبہ ان کی جہالت پر مبنی ہے کیونکہ نبی اپنی نبوت کو دلائل اور براہین سے ثابت کرتا ہے اور معجزات پیش کرتا ہے وہ اپنی شکل و صورت اور خلقت سے اپنی نبوت کو ثابت نہیں کرتا، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ فرشتہ کو نبی بنا کر بھیجتا اور وہ خلاف عادت کاموں کو اپنی نبوت پر دلیل بناتا تو اس کی نبوت میں طعن کرنے کا زیادہ موقع تھا کیونکہ یہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ معجزات انسانوں کے اعتبار سے خلاف عادت ہیں فرشتہ کے لیے خلاف عادت نہیں ہیں لہٰذا یہ معجزات فرشتہ کی نبوت پر دلیل نہیں ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ فرشتہ جو عبادات سرانجام دیتا اور دوسرے نیک اعمال انجام دیتا وہ انسانوں پر حجت نہ ہوتے کیونکہ یہ کہا جاسکتا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ فرشتہ کی حقیقت میں ایسا عنصر ہو جس کی وجہ سے وہ ان مشکل اور کٹھن عبادات کو انجام دے سکتا ہو اور انسان کی حقیقت میں وہ عنصر نہ ہو، نیز فرشتہ بھوک پیاس، غم اور غصہ اور شہوت اور غضب سے منزہ اور مجرد ہوتا ہے لہٰذا فرشتہ کا برائیوں سے بچنا اور نیک اعمال کرنا انسانوں پر حجت نہیں ہوسکتا، ان وجوہ کی بنا پر اگر فرشتہ کو نبی بنادیا جاتا تو بندوں پر اللہ کی حجت پوری نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بشر اور انسانوں سے رسولوں کو بھیجا ہے نہ کہ فرشتوں سے۔ 

پس ماندہ اور کمزور لوگوں کا ایمان لانا نبوت میں طعن کا موجب نہیں

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کافر سرداروں کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف ہمارے پس ماندہ اور کم عقل لوگ ہی کر رہے ہیں، اسی طرح کا شبہ کفار قریش نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی کیا تھا، اس کی تفصیل یہ ہے : ابوسفیان بن حرب نے بیان کیا : جس مدت میں ابوسفیان اور کفار قریش کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (صلح حدیبیہ کی وجہ سے) معاہدہ ہوا تھا اس مدت میں وہ شام میں تجارت کے لیے گئے۔ روم کے بادشاہ ہرقل نے ان کو اپنے دربار میں بلایا، اس وقت وہ ایلیا میں تھے، اس نے ایک ترجمان کو بلا کر ابوسفیان سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق چند سوالات کیے، ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ کیا قوم کے معزز لوگ ان کی پیروی کر رہے ہیں یا پس ماندہ اور کمزور لوگ ؟ ابوسفیان نے کہا : پس ماندہ اور کمزور لوگ پیروی کرتے ہیں۔ ہرقل نے کہا : ہمیشہ رسولوں کی پیروی پس ماندہ اور کمزور لوگ ہی کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٣٦، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٠٦٤، ١١٧٩، مسند احمد ج ٣ ص ١٣٣، مسند ابو یعلٰی رقم الحدیث : ٢٩٥٤، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٥٣، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٥٦٣، حلیتہ الاولیاء ج ٩ ص ٤٥، سنن کبریٰ للبیہقی ج ٩ ص ١٠٧)

پس ماندہ اور کمزور لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو مالدار نہ ہوں، تنگ دست اور مفلس ہوں اور جن لوگوں کا تعلق ایسے پیشے سے ہو جس کو معاشرہ میں نیچ، خسیس اور گھٹیا سمجھا جاتا ہو اور یہ بھی ان کی جہالت ہے کیونکہ اللہ کے نزدیک بلندی، برتری اور عظمت مال و دولت اور بلند مرتبوں سے نہیں ہوتی بلکہ اللہ کے نزدیک فقر اور افلاس مال و دولت سے زیادہ پسندیدہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو اسی تعلیم کے ساتھ بھیجا کہ وہ دنیا کو ترک کر کے آخرت کی طرف راغب ہوں تو مال و دولت کی کمی نبوت اور رسالت میں طعن کی کس طرح موجب ہوگی۔ 

اللہ تعالیٰ کے نزدیک اغنیاء کی بہ نسبت فقراء کا مقرب ہونا

اللہ تعالیٰ کے نزدیک اغنیاء کی بہ نسبت فقراء کے مقرب اور افضل ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں میری روح قبض کرنا اور قیامت کے دن مجھے مسکینوں کی جماعت میں اٹھانا۔حضرت عائشہ (رض) نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اس دعا کا کیا سبب ہے ؟ آپ نے فرمایا : مسکین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے، اے عاشہ ! تم مسکین کو مسترد نہ کرو، خواہ ایک کھجور کا ایک ٹکڑا ہو، اے عائشہ ! مسکینوں سے محبت کرو اور ان کو قریب رکھو تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں اپنے قریب رکھے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٥٢، سنن کبریٰ ، للبیہقی ج ٧ ص ١٢)

اس حدیث کی سند میں الحارث بن النعمان منکر الحدیث ہے اور یہ حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فقراء، اغنیاء سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے، یہ میدان حشر کا نصف دن ہوگا۔ امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٥٣، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣، ص ٢٤٢، مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٢٢، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٦٠١٨، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٧٢، حلیۃ الاولیاء، ج ٧ ص ٩١) امام ترمذی نے اس حدیث کو ایک اور سند سے بھی روایت کیا ہے اور اس کے متعلق بھی لکھا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح۔ (سسن الترمذی رقم الحدیث : ٢٣٥٤ )

طبقاتی فرق اور نام و نسب فضیلت کا موجب نہیں

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حجۃ الوداع کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! تمہارا رب ایک ہے ! تمہارا باپ ایک ہے ! سنو کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے اور نہ کسی گورے کو کالے پر فضیلت ہے اور نہ کسی کالے کو گورے پر فضیلت ہے، مگر تقویٰ کے ساتھ، اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو، سنو ! کیا میں نے تبلیغ کردی ہے ! مسلمانوں نے کہا : کیوں نہیں، یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : پھر حاضر کو چاہیے کہ وہ غائب کو تبلیغ کر دے۔ (شعب الایمان ج ٤ ص ٢٨٩، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٠ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم سے زمانہ جاہلیت کی عیب جوئی اور باپ دادا پر فخر کرنے (کی خصلت) کو دور کردیا ہے، سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، مومن متقی ہے اور فاجر بدمزاج ہے۔ لوگ (اپنے باپ دادا پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیڑے مکوڑوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔ (شعب الایمان ج ٤ ص ٢٨٦، مسند البزارج ٢ ص ٤٣٥)

حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کافر سرداروں کا تیسرا شبہ یہ تھا کہ ” اور ہم اپنے اوپر تمہاری کوئی فضیلت نہیں سمجھتے “ ان کا یہ شبہ بھی ان کی جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت کا معیار علم اور معل ہے اور علم اور عمل کے اعتبار سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی فضیلت بالکل ظاہر تھی، انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے متبعین سے کہا : بلکہ ہم تم کو جھوٹا گمان کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 27