أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمْ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّىۡ وَاٰتٰٮنِىۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡؕ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡـتُمۡ لَـهَا كٰرِهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(نوح نے) کہا اے میری قوم ! یہ بتائو اگر میں اپنے رب کی طرف سے (واضح) دلیل رکھتا ہوں اور اس نے اپنے پاس سے مجھ کو رحمت عطا کی ہو جو تم سے مخفی رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کو زبردستی تم پر مسلط کردیں گے جب کہ تم اس کو ناپسند کرنے والے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (نوح نے) کہا اے میری قوم ! یہ بتائو اگر میں اپنے رب کی طرف سے (واضح) دلیل رکھتا ہوں اور اس نے اپنے پاس سے مجھ کو رحمت عطا کی ہو جو تم سے مخفی رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کو زبردستی تم پر مسلط کردیں گے جب کہ تم اس کو ناپسند کرنے والے ہو۔ (ھود : ٢٨) 

بشر ہونا نبوت کے منافی نہیں ہے

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے کافر سرداروں کے شبہات کا ذکر فرمایا تھا، ان کا پہلا شبہ یہ تھا کہ ہم سجھتے ہیں کہ تم ہماری ہی مثل بشر ہو، تو پھر نبی کس طرح ہوسکتے ہو ؟ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جو اس کا جواب دیا اس کی تقریر یہ ہے کہ : بشریت میں مساوی ہونا اس بات کو واجب نہیں کرتا کہ مجھے نبوت اور رسالت حاصل نہ ہو سکے کیونکہ نبوت اور رسالت اس کی عطا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ وہ نبوت اور رسالت کس کو عطا کرے گا ! اے میری قوم ! یہ بتائو کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل ہو پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے پاس سے نبوت عطا فرمائی ہو اور اس نبوت کی دلیل پر معجزہ بھی عطا فرمایا ہو اور میری نبوت تم پر مشتبہ ہو یا مخفی ہو تو کیا میں اس بات پر قادر ہوں کہ جبراً اپنی نبوت کو تمہاری عقل سے تسلیم کرالوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 28