حکایت نمبر290: مامون الرشید کا عدل وانصاف

قَحْطَبَہ بن حمید بن حسین کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں خلیفہ مامون الرشید کے دربار میں تھا ۔ خلیفہ مظلوموں کی فریاد سن کر انہیں ظالموں سے بدلہ دلوارہا تھا۔ لوگ اپنے اپنے مسائل حل کرو ا رہے تھے۔ دو پہر ڈھلنے تک یہی سلسلہ رہا ، خلیفہ بڑے عدل وانصاف سے فیصلے کر رہا تھا۔ مجلسِ قضاء ختم ہونے والی تھی، اچانک پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک عورت دربار میں آئی اور بآوازِ بلند خلیفہ کو سلام کیا: ”خلیفہ نے یحیی بن اَکْثَم کی طر ف دیکھا: یحیی نے عورت سے کہا:” بتا ؤ، تمہارامسئلہ کیا ہے؟” عورت نے کہا: ”اے خلیفہ! مجھ سے میری زمین ظلماً چھین لی گئی ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا میرا کوئی حامی وناصر نہیں۔” یہ سن کر یحیی بن اَکْثَم نے کہا: ” ابھی تَو دربار کا وقت ختم ہوچکا ہے ، جمعرات کو آجانا۔”
عورت واپس چلی گئی، مجلسِ قضاء برخاست کر دی گئی، جمعرات کو خلیفۂ و قت فیصلہ کرنے تخت پر بیٹھا اور کہا: ”آج سب سے پہلے اس عورت کی فریاد سنی جائے گی، وہ عورت کہاں ہے؟” عورت کو لایا گیا تو خلیفہ نے کہا: ”بتاؤ، تمہارا کیا معاملہ ہے؟ تم پر کس نے ظلم کیا؟ ا پنے مدِّمقابل کو سامنے لاؤ۔” عورت نے خلیفہ کے بیٹے عباس کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”میرا دعویٰ اسی پر ہے اور یہی میرا مدمقابل ہے۔” خلیفہ نے احمد بن ابوخالد کو حکم دِیا کہ عباس کا ہاتھ پکڑ کر اس عورت کے ساتھ کھڑا کر دو۔” حکم کی تعمیل ہوئی اور خلیفہ ئوقت کے شہزادے کو مجرموں کی طر ح اس عورت کے ساتھ کھڑا کر دیا گیا۔ عباس کے خلاف بیان دیتے ہوئے عورت کی آواز بلند ہونے لگی۔ جبکہ عباس دبی دبی آواز میں بات کر رہا تھا۔ جب عورت کی آواز مزید بلند ہوئی تو احمد بن ابو خالد نے کہا :” محترمہ اپنی آواز پست کرو تمہیں معلوم نہیں کہ اس وقت تم خلیفۂ وقت کے سامنے موجود ہو، دربارِ شاہی میں اتنی بلند آواز سے بات کرنا بہت ناز یبا ہے۔”
خلیفہ مامون الرشید نے کہا :” اسے بولنے دو! بے شک اِس کی سچائی نے اِس کی آواز بلند کردی ہے اور عباس کے جرم نے اُس کو گو نگا کردیا ہے۔ کافی دیر تک عباس اور اس عورت کا مُکَالَمَہ ہوتا رہا۔ بالآخر خلیفہ نے حکم دیا کہ اس عورت کی زمین اسے واپس لوٹا دی جائے اور اس عورت کو دس ہزار درہم دیئے جائیں۔ یہ فیصلہ سن کر وہ مظلومہ خوشی خوشی اپنے گھر چلی گئی۔