أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ وَالۡبَـصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ‌ ؕ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا‌ ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ۞

ترجمہ:

ان دونوں فریقوں (یعنی کافر اور مومن) کی مثال ایسے ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا سننے والا ہو، کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں ؟ پس کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان دونوں فریقوں (یعنی کافر اور مومن) کی مثال ایسے ہے، جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو، کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں ؟ پس کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے ! (ھود : ٢٤) 

سابقہ آیات میں مومنوں اور کافروں، نیک لوگوں اور بدکاروں، دو گروہوں کا ذکر فرمایا تھا،

اب ان دونوں کی ایک مثال ذکر کر کے مزید وضاحت فرمائی ہے۔ کافر دنیا میں حق اور صداقت کے دلائل کو دیکھنے اور سننے سے اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے تو وہ اندھے اور بہرے کی طرح ہے اور مومن اس کائنات میں اور خود اپنے نفس میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی نشانیوں کو دیکھتا ہے اور سنتا ہے تو وہ دیکھنے اور سننے والے کی مثل ہے۔

امام رازی نے کہا : ان میں وجہ تشبیہ یہ ہے کہ جس طرح انسان جسم اور روح سے مرکب ہے اور جس طرح جسم کے لیے آنکھیں اور کان ہیں اسی طرح روح کی بھی سماعت اور بصارت ہے، اسی طرح جب جسم اندھا اور بہرا ہو تو وہ حیران کھڑا رہتا ہے اور کسی نیکی کی راہ پر نہیں لگ سکتا بلکہ وہ اندھیروں کی پستیوں میں پریشان ہوتا ہے کسی روشنی کو دیکھتا ہے نہ کسی آواز کو سنتا ہے اسی طرح جو شخص جاہل ہو وہ خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اس کا دل اندھا اور بہرا ہوتا ہے اور وہ گمراہی کے اندھیروں میں حیران اور پریشان ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 11 هود آیت نمبر 24